جی سیون ممالک کا روس سے سونے کی درآمد پر پابندی پر اتفاق

جی سییون رہنماؤں کا روسی تیل کی قیمتوں کو محدود کرنے کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال

جی سیون ممالک روس سے سونے کی درآمد پر پابندی پر متفق ہوگئے ہیں۔

جی سیون ممالک کا تین روزہ سربراہی اجلاس اتوار سے جرمنی میں شروع ہوگیا، اس اجلاس میں یوکرین جنگ سے متعلق روس پر دباؤ بڑھانے کیلئے اہم فیصلے بھی متوقع ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ G7 ممالک کا گروپ روس سے سونے کی درآمد پر پابندی عائد کردے گا، جی سیون رہنماؤں نے ماسکو پر دباؤ ڈالنے کے لیے روسی تیل کی قیمتوں کو محدود کرنے کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ G7 اجلاس میں شامل رہنما اس عزم کا اظہار کرینگے کہ جب تک ضروری ہو یوکرین کی حمایت اور روس پر دباؤ بڑھایا جائے، جی سیون رہنما توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے اور روسی تیل اور گیس کی درآمدات کو تبدیل کرنے کے اختیارات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

جب جی سیون رہنما جرمنی میں جمع تھے عین اُس وقت روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر میزائل داغے جو جی سیون رہنماؤں کیلئے واضح پیغام تھا، ان حملوں میں ایک رہائشی عمارت تباہ ہوئی جس میں ایک شخص مارا گیا، خارکیف میں بھی دھماکوں کی اطلاع ملی اور کئی دوسرے شہروں میں فضائی حملے کے سائرن سنے گئے۔

جرمنی میں ہونے والے اجلاس میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکا کے سربراہان شریک ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی اجلاس میں شرکت کیلئے میونخ پہنچے ہوئے ہیں۔

اجلاس سے قبل انسانی اور سماجی حقوق کے کارکنوں نے میونخ میں مظاہرے بھی کیے، اس موقع پر حکومت نے سیکیورٹی کے لیے 18 ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔

germany

G7

UKRAINE RUSSIA WAR

Tabool ads will show in this div