ومبلڈن میں ٹینس کا عالمی میلہ کل سجے گا

روس اوربیلا روس کے کھلاڑی پابندی کی وجہ سے شرکت نہیں کررہے

سال رواں کے تیسرے گرینڈ سلام ٹینس ایونٹ ومبلڈن ٹینس چیمپئن شپ کے مین راﺅنڈ کا آغاز آل انگلینڈ کلب کے گراس کورٹس پر پیر 27 جون سے ہو رہا ہے۔

ٹورنامنٹ میں مینز اور ویمنز دونوں کیٹیگری میں 128’ 128 کھلاڑی شرکت کررہے ہیں۔ اس بار ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کیلئے ریکارڈ انعامی رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔

ٹاٹ سیڈ اور عالمی نمبر 3 نواک جوکووچ اپنے اعزاز کا دفاع کریں گے جبکہ گزشتہ سال خواتین سنگلز جیتنے والے آسٹریلیا کی عالمی نمبر ایک ایشلے بارٹی نے اچانک ریٹائرمنٹ کما اعلان کر دیا تھا اب فرنچ اوپن چیمپئن اور عالمی نمبر ایک ایگا سواٹیک کو ٹائٹل فیورٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن انہیں انس جابر اور دیگر کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سواٹیک کلے کورٹ پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں لیکن اس بار وہ گراس کورٹ پر بھی غیر معمولی کھیل پیش کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

اس بار مینز سنگلز میں عالمی نمبر ایک ڈینیل میڈیڈیف اور عالمی نمبر 2 الیگزینڈر زیوریف سمیت کئی سرکردہ کھلاڑی گراس کورٹ پر متحرک نظر نہیں آئیں گے۔ ان کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے عالمی نمبر 3 جوکووچ کو ٹاپ سیڈ جبکہ عالمی نمبر 4 رافیل نڈال کو سیڈ 2 پر رکھا گیا ہے۔

اے ٹی پی رینکنگ1973 میں متعارف کروائی گئی تھی جس کے بعد ومبلڈن کی تاریخ میں پہلا اورگرینڈ سلام ٹورنامنٹس کی تاریخ یہ دوسراموقع ہے کہ عالمی نمبر ایک اورعالمی نمبر دو کھلاڑی گرینڈ سلام ایونٹ میں حصہ نہیں لے رہے ۔ 1999 کے آسٹریلین اوپن میں اس وقت کے عالمی نمبر ایک پیٹ سمپراس اور عالمی نمبر دو مارسیلو ریوس نے شرکت نہیں کی تھی ۔

مینز سنگلز سیڈنگ میں کیسپر رڈ تیسرے ’ اسٹیفانوس تیسسپاس چوتھے ’کارلوس الکاریزپانچویں ’فیلکس اوگوالیسمی چھٹے ’ہربرٹ ہرکاز ساتویں ‘میٹیو بریٹینی آٹھویں ‘کیمرون نوری نویں ‘جانک سنر دسویں نمبر پر ہیں ۔ ویمنز سیڈنگ میں ایگا سواٹیک پہلے’ اینیٹ کونٹاویٹ دوسرے ’ انس جابر’ تیسرے پاﺅلا بیڈوسا’ چوتھے ‘ماریہ سکاری’ پانچویں کیرولینا پلسکووا ‘چھٹے ڈینیلی کولنز’ ساتویں جیسیکا پیگولا ‘آٹھویں گاربین موگوروزا نویں’ ایما رڈوکانو دسویں نمبر پر ہیں۔

سابق گرینڈ سلام چیمپئنز اینجلک کیربر ’ سیمونا ہالیپ ‘یلینا اوسٹاپنکو کے علاوہ باربورا کراجسیکووا ’ کوکوگاﺅف’ بلینڈا بینچچ’ میڈیسن کیز ’ پیٹرا کیوٹوا ٹاپ 10سیڈنگ میں جگہ نہیں بنا پائی ہیں۔

پاکستان کے 42 سالہ ٹینس اسٹار اعصام الحق بھی ومبلڈن میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں ۔

آل انگلینڈ لان ٹینس کلب نے یوکرین پر روسی حملے کے خلاف سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے روس اور بیلا روس کے کھلاڑیوں کے ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی جس کے نتیجے میں ان دونوں ملکوں کے کھلاڑی مینز اور ویمنز ایونٹس میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ پابندی سے متاثر مرد کھلاڑیوں میں دوسری مرتبہ عالمی درجہ بندی میں ٹاپ پوزیشن پر فائز ہونے والے روس کے ڈینیل میڈیڈیف ‘آندری روبیلف ’ کیرن خاچانوف’ اسلان کراٹسیف’ یوکرین کے الیا الزیمیراوچ شامل ہیں۔

ٹینس کی تاریخ میں 20 گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے والے راجر فیڈرر جاپان کے کائی نیشکوری اور جنوبی افریقہ کے لائیڈ ہیرس بھی فٹنس مسائل کی وجہ سے اس بار ومبلڈن ایونٹ میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ مینز سنگلز میں آٹھ متبادل کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ پابندی سے متاثر ہونے والی خواتین میں بیلا روس کی اریانا سبالینیکا’ وکٹوریہ آزارنیکا’ الیگزینڈرا ساسانووچ روس کی ڈاریا کاسٹکینا’ انستاسیا پاﺅچنکووا’ لڈمیلا سمسونوا’ ویرونیکا کڈرمیٹووا’ ایکٹرینا الیگزینڈروا’ ورورا گراچیوا’ انستاسیا پوٹاپووا اور اینا کلنسکایا شامل ہیں ۔ان کے علاوہ ایلینا سویٹولینا’ مارکیٹا ونڈروسووا جیکولین کرسٹین’ صوفیہ کینن’ لیلیٰ فرنانڈس’ مائرشرف’ اینا کونجوہ بھی ٹورنامنٹ میں نظر نہیں آئیں گی۔ ان کی جگہ بھی متبادل کھلاڑیوں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔

سابق عالمی نمبر ایک ناومی اوساکا اور کنینڈاکی یوجینی بوچارڈ بھی ومبلڈن میں شرکت نہیں کررہی ہیں۔ بوچارڈ کو ومبلڈن فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اوساکا نے پاﺅں میں تکلیف کی وجہ سے ٹورنامنٹ سے اپنا نام واپس لے لیا ہے۔ اوساکا نے گزشتہ سال بھی ومبلڈن میں حصہ نہیں لیا تھا۔

فرنچ اوپن کے دوران زخمی ہونے والے جرمن اسٹار اورعالمی نمبر 2 الیگزینڈر زیوریف بھی فٹنس مسائل کی وجہ سے ومبلڈن کورٹ میں دکھائی نہیں دیں گے۔ رافیل نڈال کے خلاف فرنچ اوپن فائنل کے چوتھے سیٹ میں وہ انجری کا شکار ہوگئے تھے ۔سال رواں میں ان کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔

آسٹریا سے تعلق رکھنے والے سابق عالمی نمبر 3 ڈومینک تھیم بھی فٹنس مسائل کی وجہ سے گراس کورٹ ایونٹ میں نظر نہیں آئیں گے۔ وہ بھی کافی عرصے سے ٹینس کورٹ سے دور ہیں اور سرکٹ میں عدم شرکت کی وجہ سے ان کی رینکنگ تنزلی کا شکار ہو کر 352 پر پہنچ گئی ہے۔ وہ کلائی انجری کی وجہ سے غیر حاضر تھے تاہم اب وہ پریکٹس شروع کررہے ہیں ۔

ومبلڈن گراس کورٹ پر 1998 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ آٹھ ومبلڈن مینز ٹینس سنگلز ٹائٹل کے فاتح سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر اپنے فیورٹ ایونٹ میں سرگرم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے 1998 میں جونیئر سنگلز اور ڈبلز ٹائٹل جیت کر ڈبل کراﺅن حاصل کیا تھا۔ 1999 میں فیڈرر کو پہلی بار ومبلڈن مینز سنگلز کیلئے وائلڈ کارڈ انٹری ملی تھی اور وہ پہلے راونڈ میں پانچ سیٹ کے سخت مقابلے میں جمہوریہ چیک کے جیری نواک سے ہار گئے تھے۔

فیڈرر نے اپنے کیریئر میں 22 مرتبہ ومبلڈن میں شرکت کی اور 8 ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ چار مرتبہ رنرز اپ رہے جبکہ انہیں ایک بار سیمی فائنل’ 5 مرتبہ کوارٹر فائنل’ ایک بار دوسرے راﺅنڈ اور تین مرتبہ فرسٹ راﺅنڈ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ 2020 میں کرونا وائرس پینڈامک کی وجہ سے ٹورنامنٹ منعقد نہیں ہوا تھا۔ راجر فیڈرر 2017 میں میرین سلچ کو ہرا کر آخوی بار ومبلڈن چیمپئن بنے تھے۔2019 میں جوکووچ نے انہیں فائنل میں زیر کیا تھا جبکہ 2021 میں پولینڈ کے ہربرٹ ہرکاز نے کوارٹر فائنل میں تین سیٹ میں زیر کر کے تہلکہ مچا دیا تھا۔

پولینڈ سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ عالمی نمبر ایک ایگا سواٹیک ٹینس سرکٹ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور مسلسل 35 میچز میں ناقابل شکست ہیں۔ گزشتہ ماہ انہوں نے فرنچ اوپن میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کیریئر کا دوسرا گرینڈ سلام جیتا ہے۔ سال رواں میں وہ چھ ٹائٹلز اپنے نام کرچکی ہیں۔ گزشتہ سال وہ ومبلڈن کے چوتھے راﺅنڈ میں شکست کھا گئی تھی۔ 2018 میں ایگا سواٹیک جونیئر چیمپئن تھی۔ خواتین سیڈنگ میں ٹاپ فائیو کھلاڑیوں میں سےکوئی بھی ومبلڈن کے سیمی فائنل میں نہیں پہنچ پائی ہے۔ انس جابر گزشتہ سال کوارٹر فائنل کھیلی تھیں۔ پاولا بیڈوسا بھی ایگا سواٹیک کی طرح چوتھے راﺅنڈ میں شکست سے دوچار ہوئی۔ اینیٹ کونٹاویٹ اور ماریہ سکاری ومبلڈن میں 32 راﺅنڈ سے آگے نہیں بڑھ پائی ہیں ۔

ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ کے سینٹر کورٹ پر انعقاد کی 100 ویں سال گرہ ہے۔ اور ومبلڈن کی تاریخ میں اس سال پہلی بار سیڈڈ کھلاڑیوں کو سینٹر کورٹ پر پریکٹس کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ گزشتہ سال کورٹ میں پھسلن کی وجہ سے کئی کھلاڑیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ راجرفیڈرر اور جوکووچ سمیت کئی کھلاڑی میچز کے دوران پھسل گئے تھے جبکہ سرینا ولیمز پہلےوائنڈ میں میں زخمی ہوگی تھیں جس کی وجہ سے زبردست تنقید کی گئی تھی۔ اس بار سینٹر کورٹ گراس ٹرف کو چیک کرنے کی غرض سے کھلاڑیوں کو پریکٹس کی اجازت دی گئی ہے۔

ومبلڈن مینز سنگلز کے دفاعی چیمپئن اور عالمی نمبر 3 نواک جوکووچ ہیں جنہوں نے گزشتہ سال میٹیو بریٹینی کو پانچ سیٹ کے جاں گسل مقابلے میں ہرا کر ٹائٹل جیتا تھا۔ جوکووچ کو فرنچ اوپن کے کوارٹر فائنل میں رافیل نڈال نے شکست دے کر فرنچ اوپن کے اعزاز سے محروم کر دیا تھا۔ اس شکست کی وجہ سے انہیں عالمی نمبر ایک کی پوزیشن س بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ جوکووچ چھ مرتبہ ومبلڈن سنگلز ٹائٹل جیت چکے ہیں۔

میٹیو بریٹینی کی گراس کورٹ پر کارکردگی شاندار ہے اور انہوں نے ومبلڈن سے قبل دو گراس کورٹ سٹیٹگارٹ اور کوئنز ٹائٹل حاصل کر کے ومبلڈن میں دیگر کھلاڑیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ وہ گزشتہ سال ومبلڈن فائنل ہارنے کے بعد گراس کورٹ پر ناقابل شکست ہیں۔

ریکارڈ 22 گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے والے ہسپانوی اسٹار کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بعد مجھے بائیں پاﺅں میں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی ۔ تمام اشارے مثبت ہیں۔ رافیل نڈال کلے اور ہار کورٹ کنگ ہیں ۔گراس کورٹ پر ان کی کارکردگی زیادہ بہتر نہیں ہے۔ وہ اپنے کیریئر میں صرف دو مرتبہ ہی ومبلڈن سنگلز کا اعزاز حاصل کر سکے ہیں ۔ وہ دو سال کے وقفے کے بعد اس ایونٹ میں شرکت کررہے ہیں۔ 2020 میں کرونا پینڈامک کی وجہ سے ٹورنامنٹ منعقد نہیں ہوا تھا جبکہ گزشتہ سال وہ فٹنس مسائل کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ انہیں 2019 کے ومبلڈن فائنل میں راجر فیڈرر نے کوارٹر فائنل میں چار سیٹ کے مقابلے میں زیر کیا تھا۔ رافیل نڈال 2011 میں آخری بار ومبلڈن فائنل کھیلے تھے جہاں نواک جوکووچ نے انہیں شکست دی تھی۔ تاہم اس بار وہ ومبلڈن ٹائٹل جیتنے کیلئے پر امید ہیں ۔

سال رواں کا تیسرا گرینڈ سلام اپنے نام کرنے کیلئے سرگرم رافیل نڈال نے نمائشی میچ میں سوئس اسٹار سٹان واورنیکا کو دو سیٹ کے مقابلے میں شکست دی۔ تین برسوں میں گراس کورٹ پر نڈال کی یہ پہلی کامیابی تھی۔ رافیل نڈال کا کہنا ہے کہ وہ اس بار ومبلڈن کا ٹائٹل حاصل کرنے کیلئے پر عزم ہیں لیکن انہیں اس کے حصول کی راہ میں کئی باصلاحیت اور جواں سال کھلاڑیوں سے سخت مقابلہ کرنا ہو گا ۔

ومبلڈن انتظامیہ کی جانب سے روس اور بیلاروس کے کھلاڑیوں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے بعد ایسوسی ایشن آف ٹینس پروفیشنلز (اے ٹی پی) اور وومنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ ومبلڈن ٹورنامنٹ کے کوئی رینکنگ پوائنٹس نہیں ہوں گے اس کا مطلب ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کے پوائنٹس کو عالمی درجہ بندی میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ دونوں عالمی تنظیموں نے یہ اقدام آل انگلینڈ لان ٹینس کلب (اے ای ایل ٹی سی) کی جانب سے روس اور بیلا روس کے کھلاڑیوں کی ومبلڈن میں شرکت پر پابندی لگانے کے اعلان کے بعد کیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق روس اور بیلا روس کے کھلاڑی رواں سال کے تیسرے گرینڈ سلام ومبلڈن ٹورنامنٹ سمیت برطانیہ کے تمام گراس کورٹ ایونٹس میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (آئی ٹی ایف) نے بھی تصدیق کی کہ وہ جونیئرز اور وہیل چیئر ایونٹس کیلئے ومبلڈن کو رینکنگ پوائنٹس نہیں دے گی

اے ٹی پی کا کہنا ہے کہ ہمارے ٹور کی بنیاد کسی بھی قومیت کے کھلاڑیوں کا بلاتفریق ہمارے ٹورنامنٹس میں شرکت کے قابل ہونا ہے۔ ومبلڈن کی روسی اور بیلاروسی کھلاڑیوں پر پابندی کا فیصلہ ہمارے اس اصول اور اے ٹی پی رینکنگ سسٹم کی سالمیت کو کمزور کرتا ہے اور یہ ہمارے رینکنگ معاہدے سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ اے ٹی پی نے مزید کہا کہ انتہائی افسوس اور ہچکچاہٹ کے ساتھ ہمیں 2022 کیلئے ومبلڈن سے اے ٹی پی رینکنگ پوائنٹس واپس لینے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ اس نوعیت کے یکطرفہ فیصلوں پر اگر توجہ نہ دی گئی تو باقی ٹور کیلئے نقصان دہ مثال قائم ہو گی۔

اسی طرح ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے اعلان کیا کہ وہ بھی اے ٹی پی کی گورننگ باڈی کے اس فیصلے پر عمل کرے گی۔ ومبلڈن منتظمین نے ان آرگنائزیشنز کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا تاہم اصرار کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ اس پابندی سے متائر نئے عالمی نمبر ایک اور یو ایس اوپن چیمپئن ڈینیل میڈیڈیف نے کہا کہ یہ ایک نازک صورتحال ہے ایک طرف تو یہ میری سمجھ میں آتا ہے اور دوسری طرف یہ مجھے غیر منصفانہ فیصلہ لگتا ہے۔ اس وقت برطانیہ میں برسر روزگار روسیوں کو کام کرنے کا حق حاصل ہے لہذا اگر مجھے ومبلڈن میں کھیلنے کا موقع ملا تو خوشی ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو بھی فیصلہ قبول ہے۔

ویمنز ٹینس میں 23 گرینڈ سلام ٹائنل جیتنے والی امریکی لیجنڈ سرینا ولیمز کو بھی ومبلڈن کیلئے وائلڈ کارڈ انٹری مل گئی ۔ وہ گزشتہ سال ومبلڈن کے پہلے راﺅنڈ میچ میں زخمی ہوگئی تھیں اس کے بعد انہوں نے کسی ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کی وہ ایک سال کی طویل غیرحاضری کے بعد ٹینس کورٹ میں قدم رکھیں گی ۔

میچ پریکٹس نہ ہونے کی وجہ سے ان سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکتی تاہم وہ آسٹریلین لیجنڈ مارگریٹ کورٹ کے 24 سنگلز گرینڈ سلام اعزازات کا ریکارڈ برابر کرنے کیلئے گزشتہ کئی برسوں سے سرگردں ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ہو رہی ۔ وہ ومبلڈن میں سات سنگلز ٹرافیاں اپنے نام کر چکی ہیں۔ انہوں نے 2016 میں آخری ومبلڈن ٹائٹل جیتا تھا وہ 2018 اور 2019 میں رنرزاپ تھیں ۔ سرینا نے 2017 میں اپنا آخری گرینڈ سلا م ٹائٹل آسٹریلین اوپن جیتا تھا۔ طویل عرصے تک عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر براجمان رہنے والی سرینا ولیمز اب عالمی رینکنگ میں 1208 ویں نمبر پر ہیں۔

سرینا کو ومبلڈن میں سات سنگلز ٹائٹلز جیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے گرینڈ سلام سنگلز اعزازت کی تعداد 23 ہے۔ انہوں نے آخری بار ومبلڈن سنگلز ٹائٹل 2016 میں جیتا تھا لیکن زچگی کی چھٹی سے واپسی کے بعد 2018 اور 2019 میں فائنل میں پہنچی تھیں۔

امریکی لیجنڈ سرینا ولیمز نے انس جابر کی پارٹنر شپ میں ڈبلز مقابلوں میں حصہ لے کر اپنی فاتحانہ واپسی کا اعلان کیا تھا اور یہ جوڑی سیمی فائنل میں پہنچ گئی تھی لیکن انس جابر کا گھٹنا زخمی ہونے کی وجہ سے یہ جوڑی ڈبلز مقابلوں سے دستبردار ہو گئی۔ سابق ومبلڈن چیمپئن اور سابق عالمی نمبر ایک سیمونا ہالیپ بھی ومبلڈن سے قبل برلن میں ٹینس ٹورنامنٹ میں گھٹنا زخمی ہونے کی وجہ سے سیمی فائنل سے دستبردار ہو گئیں لیکن وہ ومبلڈن میں شرکت کیلئے پر عزم ہیں۔

برطانیہ 46 سال سے ومبلڈن ویمنز سنگلز ٹائٹل کا منتظر ہے اور اس کی امیدوں کا مرکز یوایس اوپن چیمپئن ایما رڈوکان ہے جس نے گزشتہ سال ومبلڈن میں راﺅنڈ 16 میں رسائی کرکے تہلکہ مچا دیا تھا اور پھر نیویارک میں کوالیفائر کی حیثیت سے کوئی سیٹ ڈراپ کیے بغیر یو ایس اوپن ٹائٹل اپنے نام کر کے تاریخ ریم کی تھی۔ اب وہ ٹاپ 10 میں شامل ہے۔ تاہم یو ایس اوپن جیتنے کے بعد کوئی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی ہے۔ ومبلڈن ویمنز سنگلز جیتنے والی آخری برطانوی کھلاڑی ورجینا ویڈ تھیں ۔

Tabool ads will show in this div