پیپلز پارٹی سے معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو اپنے فيصلے کريں گے، ایم کیو ایم

جب تک بلدیاتی قانون نہیں بنتا کوئی دوسرا عہدہ قبول نہیں کریں گے، وسیم اختر

ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر وسیم اختر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو اپنے فيصلے کريں گے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران وسیم اختر نے کہا کہ ووٹر لسٹ ، حلقہ بندیوں اور مردم شماری سے متعلق سارے خدشات سے ہم عدالت اور الیکشن کمیشن کو آگاہ کرچکے ہیں۔

وسیم اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہمارے خدشات کا نوٹس لے، سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے دوران ہنگامہ، تشدد اور خوف ہے، سکھر،میرپور خاص اور نواب شاہ میں الیکشن روکا جائے۔

رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اس صورت حال کو دیکھے، ہم نہیں چاہتے الیکشن کمیشن پر انگلیاں اٹھیں، الیکشن کمیشن کے ساتھ ذمہ داری پیپلز پارٹی پر بھی عائد ہوتی ہے۔

وسیم اختر نے کہا کہ ان ہی انتخابات سےمتعلق خدشات پر ایم کیو ایم عدالت گئی، ساری صورتحال بتانے کے باوجود بھی کچھ نہیں کیا گیا۔

وسیم اختر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہمارے 7 ووٹ تھے، ہم پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد سے الگ ہوکر اس وقت کی اپوزیشن کے ساتھ گئے، نئی حکومت بن گئی۔ نئے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بن گئے، سب مزے سے بیٹھے ہیں، مگر جو معاہدہ ہوا ہے اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔

وسیم اختر نے کہا کہ پيپلز پارٹی سے ہمارا معاہدہ موجود ہے، ہمیں آصف زرداری اور بلاول کی بات پر آج بھی اعتماد ہے، آصف زرداری سے درخواست ہے کہ اس مسودے کو اسمبلی میں لایا جائے، مسودے کو اسمبلی سے منظور کروا کر اس کو قانونی شکل دی جائے۔

رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے کئے گئے معاہدے پر عمل درآمد اس طرح نہیں ہورہا جس طرح ہونا چاہیے۔ ہم نے وزير اعظم سے مداخلت کا مطالبہ کيا ہے، صورت حال بہتر نہ ہوئی تو اپنے فيصلے کريں گے، وزیراعظم کے کہنے پر 2 وزارتیں لی ہیں، جب تک بلدیاتی قانون نہیں بنتا کسی اورعہدے کو قبول نہیں کریں گے۔

MQM

PPP

Karachi rain update

SINDH LOCAL GOVERNMENT

Tabool ads will show in this div