انسانی آنکھ سے دیکھا جاسکنے والا اب تک کا سب سے بڑا بیکٹیریا دریافت

تھایو مارگریٹا کی لمبائی آنکھ پلک کے بال کے برابر ہے

زیادہ تر بیکٹیریا خوردبینی جسامت کے ہوتے ہیں لیکن سائنسدانوں نے انسانی آنکھ سے دیکھے جاسکنے والے ایک بیکٹیریا کی دریافت کا دعویٰ کیا ہے۔

تحقیقی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی رپورٹ کے شریک مصنف اور فرنچ ویسٹ انڈیز اینڈ گیانا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہر حیاتیات اولیویر گروس کو اس بیکٹیریا کا پہلا نمونہ ملا تھا۔

تھایو مارگریٹا میگنی فیکا یا گندھک کے شاندار موتی کے نام سے موسوم یہ بیکٹیریا پہلی بار 2009 میں شمالی امریکا میں واقع گواڈیلوپ جزیرے کے قریب سمندری پانی میں ڈوبے ہوئے مینگرووز کے پتوں پر چمٹا ملا تھا۔

ابتدا میں اولیویر گروس سفید ریشوں کی شکل کے اس جاندار کو بیکٹیریا نہیں سمجھ رہے تھے کیونکہ اس کی جسامت عام بیکٹیریا سے کہیں زیادہ (تقریباً 5 ملی میٹر) تک تھی تاہم جینیاتی تجزیے کے بعد اس کے یک خلوی ہونے کی تصدیق ہوئی۔

بعد ازاں اولیویر گروس کو یہ بیکٹیریا وہاں سمندری دلدل میں موجود سیپ کے خول اور سمندری چٹانوں میں بھی ملا۔

امریکی ادارے لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری سے تعلق رکھنے والی ماہر حیاتیات اور تحقیق کی شریک مصنفہ جین ماری وولینڈ نے جسامت کے اعتبار سے اب تک کا سب سے بڑا بیکٹیریا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

واشنگٹن یونیورسٹی سینٹ لوئس سے تعلق رکھنے والی مائیکرو بائیولوجسٹ پیٹرا لیوین خود تو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں لیکن انہوں نے اسے ایک حیرت انگیز دریافت قرار دیا ہے۔

پیٹرا لیوین نے کہنا ہے کہ تھایو مارگریٹا کی دریافت سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نجانے ایسے ہی کتنے بڑے بیکٹیریا وہاں موجود ہوں گے۔

سائنسدان ابھی اس بیکٹیریا کو مصنوعی ماحول میں پرورش کرنے کے قابل نہیں ہوئے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہت غیر معمولی ساخت کا بیکٹیریا ہے۔ اس کا مرکزی ویکیول پورے خلیے کے بجائے سیل کے کچھ افعال ہی کو کنٹرول کرتا ہے۔

محققین نے کہا کہ وہ یقینی نہیں کہ بیکٹیریا اتنا بڑا کیوں ہے لیکن تحقیقی رپورٹ کی شریک مصنفہ شریک جین ماری وولینڈ نے قیاس ظاہر کیا ہے کہ اس کا مقصد چھوٹے جانداروں کی خوراک بننے سے خود کو بچانا بھی ہوسکتا ہے۔

biggest bacterium

magnificent sulfur pearl

Thiomargarita magnifica

Tabool ads will show in this div