ممبئی حملوں کا مبینہ مرکزی کردار ساجد میر گرفتار،میڈیا رپورٹس

حکومت پاکستان کی سطح پرکوئی تصدیق نہ ہوسکی

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ممبئی حملوں میں ملوث مبینہ مرکزی ملزم ساجد میر کو گرفتار کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ساجد میر ممبئی حملوں کے بعد 2008 سے مفرور تھا، تاہم اس سے قبل یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ وہ پنجاب کی کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

ساجد میر کے سر پر امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن ( ایف بی آئی ) نے 5 ملین امریکی ڈالر کا انعام مقرر کررکھا تھا، جب کہ انہیں مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا۔ تاہم حکومتِ پاکستان نے ملزم ساجد میر کی باضابطہ گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ملزم ساجد میر کو ممبئی حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز کہا جاتا رہا ہے، اس کے بارے میں ایک عرصے تک وفات پا جانے کی افواہیں بھی پھیلائی گئیں۔ پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملزم ساجد میر کی باضابطہ گرفتاری کی تصدیق کرنے سے گریز کیا ہے۔

سال 2007 میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی تحریر میں بتایا گیا تھا کہ لاہور میں پیدا ہونے والے ساجد میر کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ جب کہ انہیں فرانسیسی عدالت کی جانب سے ان کی غیر موجودگی میں نیوکلیئر پلانٹ حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ساجد میر پر الزام ہے کہ انہوں نے آسٹریلیا میں سال 2003 میں ایک فرانسیسی شہری، ویلی بریگٹ اور ایک آسٹریلوی فہیم خالد لودھی کی مدد سے افغانستان میں آسٹریلوی فوجیوں کی موجودگی پر آسٹریلیا میں حملوں کی منصوبہ بندی کی۔

غیر ملکی صحافی رضا الحسن نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کی جمع کرائی گئی رپورٹ میں جس چیز نے ان کے کیس کو مضبوط کیا وہ مقدمات میں مجرم قرار دینا اور کالعدم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے سرکردہ دہشت گرد ساجد مجید میر کو سنائی گئی سزا تھی۔

خالد لودھی کو جون 2006 میں آسٹریلیا کی ایک عدالت نے دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا مجرم قرار دیتے ہوئے 20 سال قید کی سزا سنائی تھی جب کہ ویلی بریگٹ جسے 2003 میں فرانس ڈی پورٹ کیا گیا تھا، کو فرانس کی ایک عدالت نے 9 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد ساجد میر نے ممبئی پروجیکٹ پر کام شروع کیا، بعد میں 2009 میں انہوں نے ہیڈلی کے ساتھ مل کر ڈنمارک کے کوپن ہیگن میں ایک اخبار کے دفتر پر حملہ کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا۔

کچھ عرصہ قبل یہ اطلاعات بھی منظر عام پر آئی تھیں کہ 44 سالہ ساجد میر کو رواں ماہ جون 2022 کے ابتدائی ہفتے میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے ساڑھے 15 سال قید کی سزا سنائی تھی اور ان پر 4 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

یہ سب کچھ اتنی خاموشی سے ہوا کہ اتنے بڑے مقدمے میں عدالتی فیصلے کے بارے میں کسی کو خبر نہیں ہوئی، سوائے ایک اخبار میں چھپنے والی انتہائی مختصر رپورٹ کے اور وہ بھی توجہ مبذول نہ کرسکی ان کی گرفتاری جو بظاہر اپریل کے آخر میں ہوئی تھی، کو بھی میڈیا کی نظروں سے دور رکھا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے ماضی میں ان کی موت کا دعویٰ کیا تھا لیکن مغربی ممالک اس پر یقین نہیں رکھتے تھے اور ان کی موت کے ثبوت مانگتے تھے۔

پس منظر

ساجد میر پر یہ الزام عائد ہے کہ انہوں نے ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اور دیگر دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ممبئی میں دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ وہ لشکر طیبہ کے رہنما حافظ محمد سعید کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ ہندوستان ہی نہیں امریکا بھی ساجد میر کو گزشتہ ایک دہائی سے تلاش کر رہا تھا۔ ایف بی آئی نے اس پر 5 ملین ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔

ممبئی حملہ

سال 2008 26 نومبر کو بھارت کے شہر ممبئی میں دہشت گردوں کے حملے میں 166 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

https://twitter.com/ani_digital/status/1540525001870168064?s=20&t=fx1p5MttXGTpkgJfjc2K1g

دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ساجد میر نے ممبئی میں ریکی کرنے اور اہداف کی تفصیلات اکٹھی کرنے میں 2 سال گزارے، انہوں نے مبینہ طور پر یہ حملہ امریکی دہشت گرد کولیمن ہیڈلے کی مدد سے کیا جو بین الاقوامی جرائم میں ملوث ہونے کے جرم میں امریکا میں 35 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق لشکر طیبہ اور حافظ سعید کے ساتھ ساجد میر کی وابستگی 1994 سے شروع ہوئی، جب وہ محض 16 سال کے تھے جس کے بعد وہ دہشت گرد تنظیم میں ترقی پاتے گئے اور بین الاقوامی کارروائیوں کے ونگ سے منسلک ہوگئے۔

رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کے بین الاقوامی آپریشنز کے نائب سربراہ رہے لیکن دوسروں کا خیال ہے کہ اس نے کسی وقت اس یونٹ کی قیادت بھی کی تھی، کہا جاتا ہے کہ ساجد میر کو ذکی الرحمان لکھوی تک براہ راست رسائی حاصل تھی جو دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کا سربراہ تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کارروائیوں کے دوران اس کے القاعدہ سے بھی رابطے رہے۔ انہوں نے 2005 میں خفیہ طور پر بھارت کا دورہ کیا تھا، جہاں وہ کرکٹ کے پرستار کے طور پر دونوں ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ دیکھنے گئے تھے، اس موقع پر وہ تقریباً 15 روز تک بھارت میں رہے۔

ساجد میر کا نام بین الاقوامی دہشت گردی کے منظر نامے پر 2002 کے اوائل میں نمایاں ہونا شروع ہوا، جب انہوں نے ورجینیا میں مقیم اپنے ساتھیوں کی مدد سے امریکا سے فوجی سازوسامان کی بڑی خریداری کی کوشش کی۔

تاہم یہ منصوبہ اس وقت ختم ہو گیا جب ایف بی آئی نے 11 افراد کو گرفتار کیا جسے ‘ورجینیا پینٹ بال جہادی’ کیس کے نام سے جانا جانے لگا، ان میں سے 10 افراد کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

fbi

indian

HAFIZ SAEED

Mumbai Attack

Lashkar-e-Taiba

Sajid Mir

FATF

LeT

26/11

Tabool ads will show in this div