صحافی اورسوشل اکٹیویسٹ ارسلان خان گھر واپس پہنچ گئے

رینجرز نے گرفتاری پر بیان جاری کردیا

پاکستان رینجرز سندھ نے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ارسلان خان کی گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے انہیں تعاون کی یقین دہانی پر رہا کردیا۔

پاکستان رینجرز ( سندھ) کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان رینجرز سندھ نے 24 جون کو انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے کلفٹن سے محمد عامر ارسلان عرف اے کے 47 کو مشتبہ گروپ سے رابطے کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے مذکورہ گروپ سے مبینہ مالی معاونت لینے اور روابط کا انکشاف کیا۔

واضح وائٹ کالر کرائم کی بنا پر مکمل تحقیقات کی غرض سے کیس متعلقہ حکام کے سپرد کردیا گیا ہے، جب کہ ملزم کو مستقبل میں ہونے والی تفتیش میں تعاون کی یقین دہانی کے بعد رہا کردیا گیا۔

گھر واپسی پر ارسلان خان کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر واپسی سے متعلق پوسٹ بھی ڈالی گئی۔ ارسلان خان کا اپنی ٹوئٹ میں لکھنا تھا کہ میں گھر واپس آگیا ہوں اور خیریت سے ہوں۔ اس موقع پر انہوں نے سب ساتھ دینے والے ساتھیوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز 24 جون کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ارسلان خان کے اغوا پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ارسلان خان کو صبح 4 بجے ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا، مخالف آوازوں کو سزا دینے کیلئے اپنے پیاروں سے جدا کیے جانےکا ناپسندیدہ عمل ختم کیا جائے۔

قبل ازیں مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر ارسلان خان کی اہلیہ کا ایک ویڈیو پیغام بھی وائرل ہوا تھا جس میں ان کا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ارسلان خان کے لاپتا ہونے سے متعلق دعویٰ تھا کہ ارسلان کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔ ارسلان خان کو سادہ لباس اہلکار صبح سویرے ان کے گھر سے لے گئے۔

اہلیہ نے مزید کہا کہ مجھے بتایا کہ ان کا جرم یہ ہےکہ یہ سوشل میڈیا پر بہت بولتے ہیں اور بہت لکھتے ہیں۔ تمام متعلقہ اداروں سےدرخواست کرتی ہوں کہ اس مسئلے کو دیکھیں اور ہماری مدد کریں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی ارسلان خان کے لاپتہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

MQM

Rangers

social media activist

ARSALAN KHAN

AK47

Tabool ads will show in this div