امریکی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کا آئینی حق ختم کردیا

آئین اسقاط حمل کا حق نہیں دیتا ہے ،امریکی سپریم کورٹ

امریکا میں سپریم کورٹ نے خواتین کے اسقاط حمل کے آئینی حق کو ختم کردیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جمعے کو امریکی سپریم کورٹ نے ایک حکم نامے میں سنہ 1973 میں خواتین کو اسقاط حمل کرانے کی اجازت دیے جانے کے فیصلے کو ختم کردیا ہے۔

سپریم کورٹ نے 50 سال قبل دیے گئے اپنے ہی ایک فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے جس میں اسقاط حمل کو قانونی عمل قرار دیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آئین اسقاط حمل کا حق نہیں دیتا ہے اور اسقاط حمل کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو واپس کیا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ امریکہ میں اسقاط حمل کے موجودہ قوانین کو تبدیل کر دے گا اور اب مختلف ریاستیں انفرادی سطح پر اسقاط حمل کے طریقہ کار پر پابندی لگانے کے قابل ہو جائیں گی۔

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے کے بعد 50 امریکی ریاستوں میں سے لگ بھگ نصف اسقاط حمل کے حوالے سے نئی پابندیاں متعارف کروائیں گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے نے اسقاط حمل کی سہولت فراہم کرنے والی تنظیم ‘پلانڈ پیرنٹ ہڈ’ کے حوالے سے لکھا کہ فیصلے سے مجموعی طور پر تقریباً تین کروڑ 60 لاکھ خواتین کے لیے اسقاط حمل کے ذرائع تک رسائی منقطع ہونے کی توقع ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ری پبلکنز اور مذہبی طبقے کی جیت قرار دیا جا رہا ہے جو اسقاط حمل پر پابندی کے حق میں تھے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسقاط حملے سے متعلق عدالتی فیصلے نے امریکیوں کا حق چھین لیا ہے۔

abortion

US SUPREME COURT

Tabool ads will show in this div