دولت مشترکہ اجلاس، وزیرمملکت حنا ربانی کی برطانوی وزیراعظم سے ملاقات

تجارتی اور اقتصادی شراکت داری، افغانستان سمیت دیگر امور پرتبادلہ خیال

روانڈا کے شہر کیگالی میں دولت مشترکہ کا سربراہی اجلاس جاری ہے جس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کررہی ہیں۔

اس موقع پروزیرمملکت برائے خارجہ کی برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے ملاقات ہوئی جس میں تجارتی اور اقتصادی شراکت داری، افغانستان اور دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پرنس چارلس نے کہا دولت مشترکہ کی جڑیں تاریخ کے دردناک دور میں پیوست ہیں، جو ملک چاہے ملکہ کو ریاستی سربراہ کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

دولت مشترکہ کے متعدد ممالک میں ریپبلکن تحریکیں جڑیں پکڑ رہی ہیں اور کچھ غلامی جیسی نوآبادیاتی دور کی ناانصافیوں کا بدلہ مانگ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ سے باہر دولت مشترکہ کے 14 ممالک میں ملکہ برطانیہ ریاست کی سربراہ ہیں جن میں کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

رکن ریاست بارباڈوس گزشتہ سال دنیا کی تازہ ترین جمہوریہ بنی اور دیگر کیریبین ممالک بھی اس کی پیروی کرنے پر زور دے رہے ہیں، ایک اور رکن آسٹریلیا نے بھی جمہوریہ کے لیے ایک وزیر کا تقرر کیا ہے جو افق پر آئینی تبدیلی کی علامت ہے، سربراہی اجلاس میں شاہی خاندان کے مستقبل کے کردار کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے۔

کامن ویلتھ کے رکن ممالک کی تعداد 54 ہے، ان اراکین میں اب بھی 14 ممالک ایسے ہیں جو ملکہ برطانیہ کو اپنی مملکتوں کا سربراہ تسلیم کرتے ہیں اور6 ممالک ایسے ہیں جہاں آج بھی بادشاہ موجود ہیں۔ 31 ممالک ان کے علاوہ ہیں دنیا کی ایک تہائی آبادی ان 54 رکن ممالک میں رہائش پذیر ہے۔

شاہ جارج چہارم نے 1949میں دولت مشترکہ کی بنیاد رکھی تھی، انکے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد 1952 سے اب تک ملکہ الزبتھ اس کی سربراہ ہیں۔ اس تنظیم کے ابتدائی اراکین کی تعداد آٹھ تھی جو اس کے بانی ممالک کہلاتے ہیں۔ ان میں پاکستان, برطانیہ ، کینیڈا، آسٹریلیا ، جنوبی افریقا، بھا رت ، نیوزی لینڈ اور سری لنکا شامل ہیں۔

commonwealth

british

Prince Charles

Tabool ads will show in this div