پی ٹی آئی نے سپرٹيکس نافذ کرنے کا حکومتی اقدام مسترد کرديا

روزگار پیدا کرنے والے سیکٹرز پر پر بوجھ ڈالا جارہا ہے،اسد عمر
Jun 24, 2022

پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے ٹیکس نافذ کرنے کا حکومتی اقدام مسترد کرديا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اسد عمر کا کہنا تھا کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ پارلیمنٹ کے بجائے کمرے میں بیٹھ کر بجٹ کا اعلان کیا گیا۔ 14 دن کے اندر سینیٹ میں بحث نہ ہوئی تو بجٹ غیرآئینی ہوگا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے ہی لکھ کر ديا تھا یہ ضمنی بجٹ ہے،14 روز بعد دوبارہ اربوں کے ٹیکس لگا دیئے گئے۔

سابق وفاقی وزیر نے مطالبہ کیا کہ حکومت نے اعلانات کیے بجٹ تو آج مکمل ہوا ہے، بجٹ پر بحث کیلیے آج سے 14 دن دیے جائیں بصورت دیگر یہ بجٹ عدالتوں میں چیلنج ہوسکتا ہے۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت نے 6 ارب ڈالر ذخائر میں اضافہ کیا تھا، ہمارے دور میں 16.4 ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے جو اب آدھے ہوکر 8.2 ارب ڈالر پر آگئے ہیں، ہمارے دور میں ملک دیوالیہ نہیں بہتر ہونے جارہا تھا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے افراط زر 27.8 فیصد پر پہنچ چکی تھی، لگتا ہے کہ اس ہفتے افراط زر 30 فیصد تک پہنچ جائے گی، شہبازشریف کی تقریر کے فوراً بعد دیکھتے ہی دیکھتے اسٹاک مارکیٹ2 ہزار پوائنٹس نیچے آگئی۔

سابق وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ٹیکس کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا، روزگار پیدا کرنے والے سیکٹرز پر بھی ٹیکس بڑھا دیا، اسٹیل، سیمنٹ، شوگر سمیت دیگر سیکٹرز پر 10 فیصد اضافی ٹیکس لگادیا گیا، ہر وہ سیکٹر جس سے پاکستان کھڑا ہوسکتا ہے اس پر بوجھ ڈالا جارہا ہے۔

ASAD UMAR

BUDGET 2022-23

Tabool ads will show in this div