کراچی میں خالی پلاٹ سے ملنے والی لاش کا معمہ حل، قاتل گرفتار

ملزم مقتولہ کے شوہر کا دوست ہے، پولیس

منگھوپیر کے خالی پلاٹ سے ملنے والی خاتون کا قاتل شوہر کا دوست نکلا، جسے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

کراچی کے علاقے منگھوپیر میں ایک پلاٹ سے خاتون کی لاش ملی تھی، جسے نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، جب کہ لاش کے نیچے سے زخمی حالت میں ایک بچی بھی ملی تھی جس کی حالت تشویشناک تھی۔

انویسٹی گیشن غربی پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون ممتاز بی بی کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم سمیع نے ممتاز کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم سمیع کو منگھوپیر کے علاقے سے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ لاش کے ساتھ ملنے والی بچی قتل کے بعد بار بار نمی نمی کا نام لے رہی تھی، جب کہ مقتولہ کی ماں کی جانب سے بھی مقتول بیٹی کے شوہر کا نام یاسر اور اس کے دوست کا نام سمیع بتایا گیا۔

مقتولہ کی ماں کا بیان

مقتولہ کی ماں نے پولیس کو بیان دیا کہ اس کی بیٹی ممتاز بی بی اتوار کی رات 8 بجے بچوں کو عمران نامی شخص سے کچھ رقم لینے کا کہہ کر نکلی تھی۔

مقتولہ کی ماں نے بتایا کہ داماد یاسر اکثر اپنے دوست سمیع کو لے کر گھر آتا تھا، وہ دونوں مل کر ایک ساتھ نشہ کرتے تھے، قتل سے دو روز قبل بھی ممتاز کا اس کے شوہر یاسر کے ساتھ نیپا چورنگی کے قریب جھگڑا ہوا تھا، اور جھگڑے کے دوران یاسر نے ممتاز کے کپڑے پھاڑ دیئے تھے۔

بیان کے مطابق شور شرابے پر روڈ پر موجود شہریوں نے اس کی بیٹی ممتاز کو داماد یاسر کے چنگل سے نکالا، تاہم یاسر نے اپنی بیوی کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

قاتل کے انکشافات

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سمیع نے دوران تفیش اہم انکشافات کیے، اور بتایا کہ اس کی مقتولہ ممتاز سے دوستی تھی، لیکن چھ ماہ قبل اس سے قطع تعلق کرلیا تھا۔

ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے دوست محمد علی کی مدد سے مقتولہ ممتاز بی بی کو کھانے کے بہانے بلایا، کیوں کہ مقتولہ کی دوسرے گرفتار ملزم علی سے بھی دوستی تھی، اور اس نے ہی ممتاز کو فورکے چورنگی کے قریب بلایا تھا۔

ملزم نے بتایا کہ علی مقتولہ ممتاز کو لے کر ونگی گوٹھ کے قریب پہنچا اور وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ رکشے میں وہاں پہنچ گیا۔

ملزمان نے بتایا کہ اس کی ممتاز سے 20 منٹ تک بات ہوتی رہی، اور میں اسے مناتا رہا، لیکن وہ دوبارہ دوستی پر نہ مانی جس پر طیس میں آکر اسے سر پر گولی مار دی۔

قاتل کے مطابق گولی مارتے وقت مقتولہ کی بیٹی اس کی گود میں تھی وہ الٹی گری تو بچی اس کی لاش کے نیچے دب گی۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم محمد علی اور سمیع کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ ان کے تیسرے ساتھی رکشہ ڈائیور کی تلاش ہے، اور گرفتار ملزمان کے مطابق قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ رکشہ ڈرائیور کا ہی تھا۔

واقعے کا پس منظر

کراچی کے علاقے منگھوپیر میں ایک پلاٹ سے 20 جون کو خاتون کی لاش ملی تھی، جسے نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، جب کہ لاش کے نیچے سے زخمی حالت میں ایک بچی بھی ملی جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

ریسکیو رضاکار نے سماء سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ویران علاقے میں گائے اور پھینسیں چرانے والے آئے جنہوں نے بچی کے رونے کی آواز سنی، اور جب جائے وقوعہ پر پہنچے تو خاتون کی لاش بھی موجود تھی، جس کے دیکھ کر 15 پر اطلاع کی گئی۔

پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں تو ایک خاتون کی لاش پڑی تھی جسے سر پر گولی مارکر قتل کیا گیا تھا، جب کہ قاتل نے بچی کو زندہ ہی چھوڑ دیا، اور بچی پوری رات ماں کی لاش کے نیچے دبی رہی۔

ریسکیو رضاکار نے بتایا کہ بچی کی ٹانگ پوری طرح زخمی تھی جب کہ لاش کے قریب سے ایک خول اور ایک غیر استعمال شدہ بلٹ ملی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق لاش کو عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جب کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلئے گئے ہیں۔

target killing

Tabool ads will show in this div