عمران خان سیاستدان نہیں، انہیں گرفتار کیا جانا چاہئے، وزیرداخلہ

حکومت اور اتحادی جماعتیں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی حامی ہیں، رانا ثناء اللہ

**وزير داخلہ رانا ثناء اللہ کہتے ہيں عمران خان سياستدان نہيں يہ ملک ميں فساد چاہتے ہيں، انہيں گرفتار ہونا اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے، تمام حکومتی اتحادی جماعتیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بات چیت کی حامی ہیں، ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی اب بھی مؤثر ہے، اس وقت تک رہے گی جب تک معاملات طے نہیں پاجاتے۔ **

سماء کے پروگرام نديم ملک لائيو ميں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا خصوصی تفصیلی انٹرویو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق تفصیلی بریفنگ ہوئی تقریباً تمام پہلوؤں کو کور کیا گیا، حکومت اور اتحادی جماعتیں کالعدم ٹی ٹی پی سے بات چیت کے حق میں ہیں، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور ایم کیو ایم کا بھی یہی مؤقف ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ تمام جماعتوں نے آئین کے تحت بات چیت کی حمایت کی، کسی ايسے مطالبے پر بات نہيں ہونی چاہئے جو ماورائے آئين ہو، جب بات چیت نتيجے کے قريب ہو تو پارليمنٹ ميں لايا جانا چاہئے، کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق بات چیت کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے گا، کالعدم ٹی ٹی پی کو قانون اور آئین کے نیچے آنا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے گرفتار ساتھیوں کی رہائی، فاٹا کو دوبارہ الگ کرنے اور فوج واپس بلانے پر کوئی بات نہیں ہوگی کیونکہ یہ آئین کیخلاف باتیں ہیں، اے پی ایس میں ملوث لوگوں کو معاف کرنے سے معاشرہ شدید متاثر ہوگا، طالبان سے جنگ بندی مؤثر ہے، اس وقت تک مؤثر رہے گی جب تک معاملات طے نہیں پاجاتے۔

ایک اور سوال پر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ چند ہفتوں نہیں کچھ مہینوں میں یہ بات کسی رخ پر پہنچ جائے گی، عسکری اور سیاسی قیادت کا فیصلہ ہے کہ کسی کو ہتھیار دوبارہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر بات نہ مانی گئی تو لڑائی کیلئے تیار ہیں، عسکری قیادت نے یقین دلایا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو ساٹ آؤٹ کرسکتے ہیں، ٹی ٹی پی کے پيچھے ایسی قوتيں ہيں جو پاکستان ميں امن نہيں ديکھنا چاہتيں۔

عمران خان کی جان کو خطرہ؟

عمران خان کی جان کو خطرے سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسی کوئی اطلاع نہیں، بابر اعوان نے کہا بنی گالہ ميں کچھ مشکوک لوگوں کو گھومتے ديکھا گیا، جب ان چيزوں کو چيک کيا گیا تو کچھ بھی نہيں ملا، اب چوہان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے کوئی مارنے آرہا ہے، پی ٹی آئی دھمکیوں کی تفصیلات آئی جی اسلام آباد یا چیف جسٹس کو دے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کسی بھی لیڈر کو خطرہ نہیں، کسی رہنماء کو نقصان پہنچنے کی صورت میں پورا ملک بے سکونی میں چلا جاتا ہے، عمران خان کو وہی سیکیورٹی ملی جو وزیراعظم ہوتے ہوئے حاصل تھی، بنی گالہ میں گلگت بلتستان، کے پی اور اسلام آباد پولیس موجود ہے، انہیں اب بھی مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

عمران خان کو گرفتار کیا جانا چاہئے

ندیم ملک سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان سياستدان نہيں يہ ملک ميں فساد چاہتے ہيں، لانگ مارچ کی آڑ ميں عمران خان قتل و غارت چاہتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اس سوچ پر عمران خان کو گرفتار ہونا چاہئے، ان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ اگر 25 مئی کا پروگرام کامیاب ہوجاتا تو ملک میں قتل و غارت ہوتی، یہ قتل و غارت کروانا چاہتا تھا، اسی پروگرام کے تحت عمران خان نے پورا مہینہ تیاری کی۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ عمران خان پر ان کے نظریے کی بنياد پر بغاوت کا مقدمہ چلنا چاہئے، کابینہ کو تمام سفارشات پیش کردیں، عمران کیخلاف بغاوت کا مقدمہ کابینہ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا، کابینہ نے ایک کمیٹی بنادی، جسے ہم نے مطمئن کردیا، اب یہ کمیٹی کا کام ہے کہ کابینہ اور اتحادی حکومت کے سربراہوں کو مطمئن کرے۔

انہوں نے سابق وزیراعظم کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان لانگ مارچ کرنا چاہیں تو اب اسلام آباد میں داخل نہیں ہوسکتے، وہ مجھے اٹک کراس کرکے دکھائے۔ رانا ثناء اللہ نے لانگ مارچ کی تياريوں کو بھی غيرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہيں انہيں پکڑ لينا چاہئے، پرامن احتجاج کی سب کو اجازت ہے لیکن اس بات کی ضمانت ہونی چاہئے۔

کرپشن سے متعلق الزامات

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ قومی خزانے میں آنے والے 50 ارب روپے کا انہوں نے 7 ارب روپے میں سودا کیا، 2 ارب روپے شہزاد اکبر نے لئے جبکہ ارب روپے کے اثاثے عمران خان نے براہ راست لئے ہیں، 458 کنال اراضی القادر ٹرسٹ کے نام لی گئی جس کی مالیت اربوں روپے ہے، یونیورسٹی بھی وہی شخص بنا کر دے گا جس کے پیسے بچائے گئے، باقی رقم اسی کے اکاؤنٹ میں جمع کرادی گئی، بنی گالہ میں 240 کنال اراضی فرح شہزادی کے نام پر لی گئی، اس کا جواب دیں۔

برطانیہ سے پکڑی گئی رقم قومی خزانے کے بجائے اسی شخص کے اکاؤنٹ میں جمع کرادی گئی جس سے پکڑی گئی تھی، اس کے بدلے میں 458 کنال اراضی پر یونیورسٹی بنانے کا معاہدہ ہوا، القادر ٹرسٹ کے مالک عمران خان، بشریٰ بی بی اور فرح بی بی ہیں، کیا یہ ڈاکا نہیں، خود چوری اور خیانت کرنیوالا لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ رہا ہے۔

آرمی چیف کی تعیناتی

جنرل فیض حمید کو آرمی چیف تعینات کرنے سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں اس سے خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت تھی، اگر یہ سب ہم نے اس خوف سے کیا ہے تو امریکی سازش کہاں گئی؟۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ روایت کے مطابق ایک سے ڈیڑھ ماہ قبل، اکتوبر یا نومبر میں نئے آرمی چیف کا فیصلہ ہوجائے گا۔

نواز شریف اور اسحاق ڈار کی واپسی؟

کیا اسحاق ڈار واپس آرہے ہیں؟، مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کو تجویز کیا گیا ہے کہ وہ وطن واپس آجائیں، میں نے میاں نواز شریف سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ واپس تشریف لائیں، نواز شریف خود بھی وطن واپس آنا چاہتے ہیں، نواز شریف ایک آزاد شخص کی طرح سے چند روز میں پاکستان آسکتے ہیں اور اپنے کیسز پر فیصلہ کرواسکتے ہیں۔ اسحاق ڈار جب چاہیں حفاظتی ضمانت لے کر آسکتے ہیں، ان کا معاملہ بہت آسان ہے، اسحاق ڈار معاشی ماہر ہیں، انہوں نے ملک کو اچھے طریقے سے چلایا، لوگ کہتے ہیں کہ اسحاق ڈار والے فارمولے سے ڈالر کو کنٹرول کریں، اسحاق ڈار کیخلاف تمام کیسز جھوٹے بنائے گئے، انہوں نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

پنجاب میں ضمنی انتخابات

صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر انتخاب سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 14 سے 16 نشستیں ن لیگ جیت جائے گی، ملتان میں شاہ محمود جس شخص سے نہیں جیت سکے اس سے ان کا بیٹا کیسے جیتے گا، جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی کی کوئی پوزیشن نہیں، لاہور میں کوئی افسر ہماری مدد نہیں کررہا، فیصل آباد اور لاہور میں پی ٹی آئی مقابلہ کریگی۔

IMRAN KHAN

RANA SANAULLAH

Tabool ads will show in this div