افغانستان زلزلہ: پاکستانی ادارے بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف

زلزلے میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں

برادر ہمسایہ ملک افغانستان میں منگل کی شب آنے والے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہیں۔

افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے کے باعث لاتعداد افراد ملبے تلے دفن ہو گئے جو اکثر کچے مکانوں میں رہائش پذیر تھے۔

افغانستان کا صوبہ پکتیکا منگل اور بدھ کی درمیانی شب آنے والے زلزلے سے شدید متاثر ہوا تھا اور زلزلے کے بعد سے اب تک متعدد افراد مٹی سے بنے مکانات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سمیت دیگر فلاحی اداروں کی جانب سے زلزلے سے بری طرح متاثر ہونے والے پکتیکا صوبے میں ایمرجنسی شیلٹر اور کھانے سے متعلق امداد فراہم کی ہے۔

سہولیات کی کمی اور دشوار گزار علاقوں کے باعث ریسکیو عملے کو امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں درپیش ہیں، جس کے باعث طالبان نے بین الاقوامی مدد کی اپیل کی ہے۔

خیبرپختونخوا ریسکیو کی ٹیمیں تشکیل

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی ہدایت پر خیبرپختونخوا ریسکیو نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیدیں۔

ریسکیو اہلکار کل سے غلام خان بارڈر پر موجود ہیں، جہاں سے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کو علاج کیلئے پاکستان منتقل کیا جارہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 ڈاکٹر خطیر احمد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں زلزلے کے دوران زخمی ہونیوالوں کو علاج کی سہولت دینے کیلئے پاکستانی بارڈرز پر ایمبولینسز موجود ہیں جبکہ متاثرین میں ضروری امدادی سامان بھی تقسیم کیا جارہا ہے۔

زلزلے سے متاثرہ افغان بھائیوں کی مدد کیلئے ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کے اہلکار بھی سرحد پر الرٹ ہیں۔

ترجمان ریسکیو خیبرپختونخوا بلال احمد نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ریسکیو اہلکار صوبائی حکومت کی خصوصی احکامات کے تحت افغان بھائیوں کی مدد میں حصہ لے رہی ہیں۔

بلال احمد کا کہنا تھا کہ سرحد پر پہنچنے والے افغان زلزلہ متاثرین کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی جارہی ہے جبکہ شدید زخمیوں کو بنوں ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

ترجمان کے مطابق معمولی زخمیوں کو وانا ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا جارہا ہے جبکہ صبح سے اب تک 10 شدید زخمیوں کو بنوں منتقل کیا گیا ہے۔

بلال احمد نے بتایا کہ صوبائی حکومت امدادی سرگرمیوں کیلئے مزید وسائل فراہم کررہی ہے تاکہ زخمیوں کو پشاور سمیت دیگر بڑے شہروں میں منتقل کرنے کا بندوبست کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر انتظامیہ مروجہ طریقۂ کار کے مطابق متاثرہ افراد کے لواحقین کی دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی لوگوں کو سرحد پار آنے کی اجازت دے رہی ہے۔

ترجمان ریسکیو خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ ہم افغانستان کے شہر خوست میں میڈیکل کیمپ بھی لگا رہے ہیں جس کےلیے طالبان انتظامیہ سے اجازت مل چکی ہے۔ بلال احمد کا کہنا تھا کہ مذکورہ میڈیکل کیمپ کےلیے تین ایمبولینسز فراہم کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ آج پاکستان نے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کیلئے امدادی سامان بھجوا دیا ہے اور برادر ہمسایہ ملک کو مشکل گھڑی میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کی جانب سے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کو امدادی سامان بھجوا دیا گیا ہے۔

امدادی سامان پاک افغان غلام خان بارڈر پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا، اس موقع پر صوبائی وزیر اقبال وزیر اور عسکری حکام بھی موجود تھے۔

پاکستان کی جانب سے امدادی سامان کے 8 ٹرک گزشتہ رات افغانستان روانہ کئے گئے، جن میں خیمے، ترپال، کمبل اور ضروری دوائيں شامل ہیں۔

rescue 1122

KP GOVERNMENT

Afghanistan earthquake

Tabool ads will show in this div