افغانستان زلزلہ: طالبان کی عالمی برادری سے مدد کی اپیل

حکومت پاکستان کی جانب سے متاثرین کیلئے امدادی سامان روانہ

افغانستان میں ہولناک زلزلے کے بعد طالبان نے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کردی۔ پاکستان کی جانب سے امدادی سامان کی کھیپ روانہ کردی گئی۔

این ڈی ایم اے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ کردیا گیا ہے، جس میں کمبل ، خیمے، ادویات شامل ہیں۔

سینئر طالبان رہنما عبدالقہار بلخی کا کہنا ہے کہ حالیہ زلزلہ کئی دہائیوں کا سب سے ہولناک زلزلہ ہے اور معاشی دباؤ کا شکار افغان ھکومت اس قابل نہیں ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور پڑوسی ممالک افغانستان کی مدد کریں، دریں اثنا قوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کا کہنا ہے کہ زلازلے کے بعد انکی ٹیمیں متحرک ہیں، میڈیکل ٹیمیں، خوراک اور دیگر سامان متاثرہ علاقوں میں بھیجا جارہا ہے۔

بدھ کو افغانستان کے مشرقی علاقوں میں آنے والے 6.1 شدت کے زلزلے سے ابتک ایک ہزار افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں، لوگوں کو ریسکیو کرنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

یو ایس جی ایس کے مطابق افغانستان میں زلزلے بعد جمعرات کو اسکے آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

افغانستان کا جنوب مشرقی صبہ پکتیکا زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، شدید بارش اور وسائل کی کمی کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کئی دیہات مکمل تباہ ہوگئے اور سڑکیں تباہ ہونے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں ریسکیو اہلکاروں کو پہنچنے میں مشکلات ہیں جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں آنیوالے والے زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت 6.1 تھی اور اس کا مرکز خوست شہر سے 44 کلومیٹر دور تھا جب کہ اس کی گہرائی 51 کلومیٹر تھی۔

افغانستان میں بڑے جانی نقصان پر طالبان امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزاہ کی جانب سے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

افغانستان

earthquake

Disaster

Tabool ads will show in this div