ایس ای سی پی نے (پی ٹو پی) قرضوں کا طریقہ کار وضع کردیا

بطور فنانس پروائیڈر کمپنی رجسٹریشن کا طریقہ کار بھی جاری

سیکورٹیز ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے چھوٹے کاروبار کے لئے فنانسنگ تک رسائی کے لئے پیر ٹو پیر (پی ٹو پی) قرضے کے لئے ریگولیٹری فریم ورک جاری کردیا۔

نئے فریم ورک کے تحت خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی اہلیت کے تقاضے اور ایس ای سی پی کو درخواست دینے کے عمل کی وضاحت کی گئی ہے۔

کمپنی رجسٹریشن کے لئے درکار تقاضے کیا ہیں؟

ایس سی سی پی کے اعلامئے کے مطابق ریگولیٹری فریم ورک کے تحت نان بینکنگ فنانس کمپنی کے لئے اضافی ایکویٹی کی صورت میں پی ٹو پی سروس پروائیڈر کے طور پر درخواست دی جا سکتی ہے۔

درخواست دہندہ ضروری تیکنیکی، کاروباری اور انتظامی وسائل کے حامل ہوں ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ درخواست دہندہ کے پاس قابل عمل کاروباری منصوبہ بھی ہو اور ایک مضبوط اور محفوظ انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی رکھتا ہو۔

ریگولیٹری فریم ورک میں قرض کی مالیت،قرض دہندگان کو درپیش خطرات،سرمایہ کاری کی مدت اور قرض دہندگان اور قرض لینے والوں کی اہلیت کی شرائط کا بھی تعین کیا گیا ہے۔

پی ٹو پی فنانس پروائیڈر روایتی بینکوں سے کیسے مختلف ہے؟

روایتی بینک کے برعکس پی ٹو فنانس پروائیڈر قرض دینے کے خواہش مند اور قرض لینے والوں کو ایک آن لائن مارکیٹ فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے ایک شخص دوسرے شخص سے منافع طے کرکے کاروبار کے لئے قرض حاصل کرسکے گا۔

فنانس پروائیڈر قرض لینے اور دینے والوں کو ایک فلیٹ فارم فراہم کرے گا اور دیگر ضروری تقاضوں کو یقینی بنائے گا تاکہ سرمایہ کاری کو کسی قسم کے خطرات سے لاحق نہ ہوں۔

ایس ای سی پی کے مطابق پی ٹو پی فنانس پروائیڈرز کمپنیاں آنے سے ایسے چھوٹے کاروبار استفادہ کرسکیں گے جو بینک سے قرض حاصل نہیں کرسکتے اور وہ لوگ بھی فائدہ اٹھاسکیں جن کے پاس سرمایہ ہے جو کسی کاروبار میں لگانا چاہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس وقت بھی بعض افراد ایپس کے ذریعے ایسی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیونکہ ایس ای سی پی نے پہلی بار اس قسم کے کاروباری قرضوں کی لین دین کے لئے ریگولیشن متعارف کئے ہیں۔

secp

Tabool ads will show in this div