اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالرکی قدر میں نمایاں کمی

بدھ کو انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ

آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے حوالے سے معاملات میں مثبت پیش رفت کی اطلاعات کے باعث بدھ کو مقامی کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے پر دباو میں کمی دیکھنے میں آئی۔

کرنسی مارکیٹ میں 8 روز بعد پاکستانی روپے پر امریکی ڈالرکے دباو میں کمی سے ٹریڈنگ کے دوران انٹر بینک میں ڈالر210روپے کی سطح پر آگیا تاہم بعد میں قدرے مبہم صورتحال کے سبب انٹر بینک میں ڈالر دوبارہ مہنگا ہوگیا۔

بدھ کو انٹربینک میں روپے کی مقابلے میں ڈالر کی قدر 211 روپے 93 پیسے کا ہوگیا جو منگل کے مقابلے میں 45پیسے زیادہ ہے۔

انٹر بینک کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں بدھ کو ڈالر کی قدر میں 2 روپے کمی ہوئی ہے اور مارکیٹ میں ڈالر 212روپے کی سطح پر ہی بند ہوا۔

واضح رہے کہ مقامی کرنسی مارکیٹوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں 9 مسلسل ٹریڈنگ سیشنز کے دوران انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 11.6روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔

کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف قرض پروگرام بحالی کا معاہدہ طے پانے کے بعد ڈالر کی قدر بڑھنے کا تسلسل ٹوٹ جائے گا، بدھ کو بھی اس کے مقامی کرنسی مارکیٹ میں اس کے اثرات دیکھنے میں آئے۔

فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق آئی ایم ایف سے معاملات کامیابی کی جانب گامزن ہے، بجٹ کے حوالے سے انکم ٹیکس سلیب بڑھائے جانے، پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس وپٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی عائد کرنے اور سبسڈی مزید کم کرنے جیسے نکات پر اتفاق ہوگیا ہے عنقریب اسٹاف لیول مزاکرات میں معاہدہ طے پاجائے گا۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ملک بوستان کا مزید کہنا تھا کہ سابقہ حکومت کے آئی ایم ایف معاہدے پر موجودہ حکومت نے عمل درآمد میں پس وپیش سے کام لیا اور آئی ایم ایف سے دیگر معاملات بھی تاخیر کا شکار ہوئے جس کی وجہ سے معاشی مشکلات بڑھ گئے۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق چین سے 2.3ارب ڈالر قرض منظوری کے بعد بھی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور امید ہے کہ آئندہ دنوں روپے کی قدر پر دباو میں کمی آئے گی۔

Dollar rates

dollar price

Tabool ads will show in this div