بزدار دور ميں بنائے گئے چڑيا گھر کے منصوبے ميں مالی بے ضابطگيوں کا انکشاف

بے ضابطگیوں کی نشاندہی مانيٹرنگ اينڈ ايويلوايشن ڈیپارمنٹ کی رپورٹ میں کی گئی

سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں مکمل ہونے والے چڑیا گھر کے منصوبے میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

سابق وزيراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دور ميں بھکر میں نایاب جانوروں کی افزائش اور ان پر ریسرچ کے لئے منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جو جون 2021 ميں مکمل ہوا، تاہم مانيٹرنگ اينڈ ايويلوايشن ڈیپارمنٹ رپورٹ ميں اس منصوبے ميں بے ضابطگيوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مکمل ہونے والا منصوبے پر 21 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی، چڑیا گھر کی سیکیورٹی کے لیے 10 کیمرے لگائے گئے جن میں سے صرف دو سی سی ٹی وی کیمرے فعال پائے گئے، اور تمام کیمرے غيرمعياری تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منصوبہ میں 10 کے وی اے کے جرنیٹر کے لیے 7 لاکھ 45 ہزار مختص کیے گیے، تاہم اس میں بھی مالی بے ضابطگی کی گئی اور 10 کے بجائے صرف 3 کے وی اے کا جنریٹر خریدا گیا، جس کی قیمت 39 ہزار روپے تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ چڑیا گھر میں آگ بجھانے کے آلات کے لئے 4 لاکھ روپے خرچ کئے گئے، تاہم وہ نصب ہی نہیں کیے گیے۔ اس کے علاوہ جانوروں کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے 5 ہزار گیلن کی ٹینکی بھی نامکمل پائی گئی۔

PTI

USMAN BUZDAR

Tabool ads will show in this div