ملک ریاض سے 19 کروڑ پاؤنڈ کے تصفیے میں حکومت پاکستان فریق نہیں تھی، این سی اے

این سی اے کا کہنا ہے کہ لندن ہائیڈ پارک کی عمارت تصفیے میں واپس کی گئی تھی

انسداد منی لانڈرنگ کے برطانوی ادارے نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے کمیونی کیشن منیجر اسٹوارٹ ہیڈلی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی پراپرٹی ٹائیکون سے 19 کروڑ برطانوی پاؤنڈ (50 ارب روپے سے زائد ) کے تصفیے میں حکومت پاکستان فریق ہی نہیں تھی۔

سماء ٹی وی کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سربراہ زاہد گشکوری کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے این سی اے کے کمیونی کیشنز منیجر اسٹوارٹ ہیڈلی نے نشاندہی کی کہ ایجنسی اور ملوث افراد کے درمیان عدالت سے باہر تصفیہ ہو گیا تھا۔

اسٹوارٹ ہیڈلی سے پوچھا گیا کہ ملک علی ریاض (ملزم) اور این سی اے کے درمیان عدالت سے باہر تصفیہ ہوا تو کیا پاکستان اس کیس میں فریق تھا؟ ہیڈلی نے نفی میں جواب دیا۔

اسٹوارٹ ہیڈلی سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ درست ہے کہ حکومت پاکستان نے عدالت کے باہر تصفیے کے فوری بعد، ملک علی ریاض یا بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ میں منجمد رقم منتقل کرنے کی رضامندی ظاہر کی؟ جس پر انہوں نے جواب میں کہا کہ یہ حکومت پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان کا معاملہ ہے۔

این سی اے کے اہلکار سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت پاکستان ہائیڈ پارک کی عمارت جو کہ این سی اے اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان ہونے والے تصفیے کا ایک لازمی حصہ ہے، سے دستبردار ہوگئی؟ اگر ہاں تو یہ آزاد ایجنٹ کون تھا جس نے یہ سب حکومت پاکستان کے لیے کیا؟ جس کے جواب میں کہا گیا کہ پریس ریلیز کے مطابق جائیداد کو تصفیہ کے معاہدے کے حصے کے طور پر واپس کیا گیا تھا (اوراس میں حکومت پاکستان فریق نہیں تھی۔)

اسٹوارٹ ہیڈلی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ہائیڈ پارک کی عمارت کے بارے میں کچھ تفصیلات بتا سکتے ہیں کہ یہ قیمتی اثاثے ملک علی ریاض کو کس نے اور کب بیچے؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ کیس کا حصہ نہیں۔

این سی اے کے کمیونی کیشن منیجر سے پوچھا گیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ حسن نواز شریف نے ہائیڈ پارک کی یہ عمارت ملک علی ریاض کو فروخت کی؟ اگر ہاں تو کیا پاکستان نے نیشنل کرائم ایجنسی سے حسن نواز کے خلاف کوئی تحقیقات شروع کرنے کی درخواست کی؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جس پر ہم تبصرہ کریں۔

نیشنل کرائم ایجنسی نے اس حوالے سے 3 دسمبر 2019 کو پریس ریلیز جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ [’’اگست 2019 میں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت نے تقریباً 12 کروڑ پاؤنڈ کے فنڈز کے سلسلے میں اکاؤنٹ منجمد کرنے کے 8 حکم نامے جاری کئے تھے۔ یہ دسمبر 2018 میں 2 کروڑ پاؤنڈز منجمد کرنے کے حکم کے بعد اسی معاملے کی تحقیقات سے منسلک تھے۔ اکاؤنٹ منجمد کرنے کے تمام حکم ناموں کا تعلق برطانیہ میں بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم سے ہے“۔

مبینہ ملی بھگت کی تحقیقات

گزشتہ ہفتے کابینہ اجلاس کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اس وقت کی حکومت کی ملک ریاض سے ضبط رقم کو پاکستان منتقل کرنے کے حوالے سے ڈیل کے بارے میں ایک خفیہ دستاویز منظر عام لائے تھے اور اس حوالے سے تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے مبینہ طور پر 19 کروڑ پاؤنڈز (50 ارب روپے) کے ضبط شدہ فنڈز کی واپسی کے لیے کک بیکس کی مد میں 5 ارب روپے لیے جو مبینہ طور پر برطانیہ بھیجے گئے تھے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ ریاست کے نگہبان ہونے کے ناطے اس رقم کی حفاظت سابق مزیر داخلہ کی ذمہ داری تھی لیکن انہوں نے ضبط شدہ رقوم کی واپسی کا انتظام کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ برطانیہ سے آنے والی رقم کی منتقلی کے عوض معاہدے کے تحت بحریہ ٹاؤن نے 458 کنال قیمتی اراضی القادر ٹرسٹ کو عطیہ کی۔ اس معاہدے پر بحریہ ٹاؤن کے ساتھ دستخط کرنے والی شخصیت سابق خاتون اول بشریٰ بی بی تھیں کیونکہ القادر ٹرسٹ کے 2 ہی ٹرسٹی ہیں ایک عمران خان اور دوسری بشریٰ بی بی۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ القادر ٹرسٹ کی طرح بشریٰ بی بی کی دوست فرحت شہزادی کو بھی بنی گالہ میں 240 کنال زمین دی گئی۔

رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

money laundering case

Malik Riaz

Behria Town

FARAH GOGI

Tabool ads will show in this div