پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی ہراسانی کے الزام ميں گرفتار

شبیر قریشی کے خلاف خاتون میں مقدمہ درج کرایا تھا

تحريک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی شبير قريشی کو ہراسانی کے الزام ميں کراچی سے گرفتار کرليا گيا۔

تحريک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی شبیر قریشی کو خاتون سے مبينہ ہراسانی کے الزام ميں حراست ميں لے ليا گيا ہے۔

پوليس کے مطابق 18 جون کو لیاقت آباد کی رہائشی خاتون نے تحریک انصاف کے ایم پی اے شبیر قریشی کے خلاف نوکری کا جھانسہ دے کر ہراساں کرنے کا مقدمہ درج کرايا تھا۔

خاتون کی درخواست پر سائٹ بی ايريا پولیس نے ايم پی اے شبير قريشی کے خلاف مقدمہ درج کیا، اور گزشتہ رات سائٹ بی پولیس نے کلفٹن بلاک ٹو ميں ايم پی اے شبیر قریشی کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر انہيں گرفتار کرليا، ملزم کو تفتيش کيلئے نامعلوم مقام پر منتقل کر ديا گيا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف سندھ کے رہنما نے شبیر قریشی کی گرفتاری پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ پولیس نے ایم پی اے شبیر قُریشی کو آج فجرکے وقت ان کے فلیٹ کے نیچے سے گرفتارکیا جب وہ نماز فجر ادا کرنے گھرسےنکلے تھے۔

حلیم عادل شیخ نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ شبیر قریشی کا فلیٹ بلاول ہاؤس کے بالکُل سامنے ہے، اور پولیس ابھی تک بتا نہیں رہی کہ انہیں کون لے کرگیا ہے، ہو سکتا ہے کہ بلاول ہاؤس کی سیکیوریٹی پر مامور زرداری فورس نے ان کو اغوا کیا ہو۔

پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان نے بھی شبیر قریشی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایم پی اے کی جبری گرفتاری تشویشناک ہے، ہم اس گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، سندھ حکومت کے خوف کے پیچھے ہتھکنڈے قابل ترس ہیں۔

خرم شیر زمان نے کہا کہ سندھ حکومت کی جیالہ فورس نے پی ٹی آئی کو نیزے پہ رکھا ہوا ہے، ہر قسم کے جھوٹے الزامات پی ٹی آئی رہنماؤں پر ڈھٹائی سے لگائے جارہے ہیں، ہم شبیر قریشی کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

شبیرقریشی کی اہلیہ نے بات کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ کو بتایا کہ میرے شوہر فجر نماز کے لئے نکلے تھے، انہیں پولیس موبائل میں سادہ کپڑے پہنے افراد لے گئے، ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلومات ملی ہیں۔

مسز شبیر قریشی کا کہنا تھا کہ میرے شوہر پر نہ کوئی کیس ہے اور نہ پہلے سے گرفتاری کی اطلاع دی گئی، سادہ کپڑوں میں ملبوث لوگ کلفٹن کے گھر کے باہر سے لے گئے ہیں۔

اس موقع پر حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ میں عمران کے حکم پر شبیر قریشی کے گھر پہنچا ہوں اور پوری تنظیم شبیر قریشی کے ساتھ ہے، معلوم نہیں شبیر قریشی کو لے جانے والی سادہ کپڑوں میں پولیس تھی یا زرداری کے لوگ تھے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پولیس معلومات دینے کے لئے تیار نہیں کس جرم میں شبیر قریشی کو اٹھایا گیا ہے، لیکن ہمیں اندازہ ہے کہ آج مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔

سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ رکن سندھ اسمبلی شبیر قریشی کے اغوا واقعے کی مذمت کرتا ہوں، شہر میں اب اراکین اسمبلی بھی محفوظ نہیں، قانون کے نام پر اپنی ریاست قائم کرکے جسے دل چاہے اٹھالیا جاتا ہے۔

سابق گورنر نے کہا کہ آئی جی سندھ پی ٹی آئی کے رکن شبیر قریشی کو فوری بازیاب کرائیں، بصورت دیگر آئی جی آفس کے باہر احتجاج ہوگا۔

PTI

Tabool ads will show in this div