پی ٹی آئی منحرف ارکان اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنیکا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے اراکین کو ڈی سیٹ کیا تھا

تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

تحریک انصاف کے منحرف رہنماء محسن عطاء کھوسہ نے تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان صوبائی اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

درخواست میں پاکستان تحریک انصاف، پارٹی کے چیئرمین عمران خان، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے سربراہ سبطین خان کو فریق بنایا گیا ہے۔

محسن عطاء کھوسہ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے (5) کے تحت 20 مئی کو الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان صوبائی اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کے حکم نامے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ الیکشن کمیشن نے ڈی سیٹ کرکے نئے ضمنی انتخابات کا غیرقانونی فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ خلاف قانون اور حقائق کے منافی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیاہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا، اس لئے الیکشن کمیشن کا 20 مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

پس منظر

قومی اور پنجاب اسمبلی میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی۔

پنجاب میں تحریک انصاف کے 25 ارکان صوبائی اسمبلی مختلف دھڑوں نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔

مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کے موقع پر تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان نے ووٹ دیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف نے ان منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کیلئے ریفرنس دائر کیا تھا۔ جس پر ان 25 ارکان کو ڈی سیٹ کرکے خالی نشستوں پر دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔

PTI

PUNJAB ASSEMBLY

SUPREME COURT OF PAKISTAN

election commision of pakistan

Tabool ads will show in this div