کراچی میں ٹریفک پولیس مسیحا بن گئی

بارشوں میں شہریوں کی مدد کیلئے ٹریفک پولیس نے 26 گاڑیاں تیارکرلیں

دوران سفر اکثر آپ نے دیکھا ہو گا کہ بیچ سڑک میں ایک گاڑی خراب کھڑی ہے یا سڑک کنارے کوئی شخص موٹر سائیکل کو پیدل دھکا لگا رہا ہے۔ یہ مناظر دیکھتے ہیں ہمارے ذہن میں اچانک ایک بات آتی ہے کہ شاید گاڑی خراب ہو گئی ہے یا پھر ایندھن ختم ہو گیا ہے۔

اس صورت حال میں ٹریفک جام کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے لیکن دوران سفر مصیبت میں گھرے ان افراد کی مدد کیسے کی جا سکتی ہے۔ کراچی میں ٹریفک پولیس نے سڑکوں پر مصیبت میں گھرے ایسے شہریوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سما ڈیجیٹل کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی پی) ٹریفک کراچی احمد نواز نے بتایا کہ آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے مون سون بارشوں کے پیش نظر ممکنہ حفاظتی اقدامات ترتیب دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

احمد نواز کے مطابق کراچی میں مون سون بارشوں میں پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا گیا تو علم ہوا کہ کئی مقامات پر بارش کا پانی بڑی مقدار میں جمع ہوجاتا ہے اور اکثر کئی گاڑیاں ایسے مقامات سے گزرتی ہیں تو بند ہو جاتی ہیں۔

ڈی آئی جی پی ٹریفک کے مطابق مصروف شہراہوں پر گاڑیوں کے بند ہو جانے کی وجہ سے ٹریفک جام ہو جاتا ہے لیکن یہاں یہ بات بھی قابل غور رہی کہ مصیبت میں گھرے ان شہریوں کی مدد کیسے کی جائے۔

احمد نواز کے مطابق ایسے شہریوں کی مدد کے لیے ٹریفک پولیس نے 26 گاڑیاں تیار کرکے شہر کی تمام مصروف شاہراہوں پر تعینات کر دی ہیں جن میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی تمام سہولیات موجود ہیں۔

ڈی آئی جی پی ٹریفک کے مطابق اگر کوئی گاڑی سڑک پر بند ہو جاتی ہے تو اسے ٹو چین وائر یا جمپ اسٹارٹ وائر کی مدد سے اسٹارٹ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو جاتا ہے اور ٹائر کی تبدیلی کے لیے کار جیک اور ٹولز کی ضرورت ہے تو پیٹرولنگ گاڑیوں میں یہ تمام سہولیات موجود ہوں گی۔

احمد نواز نے بتایا کہ اکثر دوران سفرایندھن ختم ہو جاتا ہے اور گاڑی کو اسٹارٹ کرنے لے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈی آئی جی پی ٹریفک کے مطابق ان پیٹرولنگ گاڑیوں میں ایندھن بھی موجود ہو گا جو اتنا ایندھن فراہم کریں گی کہ شہری پیٹرول پمپ تک پہنچ جائیں۔

احمد نواز کے مطابق کراچی میں ٹریفک حادثات معمول ہیں اور ایسے واقعات میں عموما ٹریفک پولیس پہلے پہنچ جاتی ہے۔ یہ پیٹرولنگ گاڑیوں میڈیکل ایمرجسی کٹ سے بھی لیس ہیں۔ ڈی آئی جی پی ٹریفک کے مطابق ان گاڑیوں پر تعینات عملے کو باقائدہ طور پر فرسٹ ایڈ کی تربیت فراہم کی گئی ہے اور وہ حادثات کا شکار شہریوں کو فرسٹ ایڈ فراہم کریں گے۔

احمد نواز کے مطابق ان پیٹرولنگ گاڑیوں کا بنیادی مقصد سفر کے دوارن ہونے والی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر قابو پانا ہے۔ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جہاں ٹریفک پولیس اہلکار چیکنگ کر رہے ہوتے ہیں وہاں شہری ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ہیں لیکن جہاں ٹریفک پولیس اہلکار موجود نہیں ہوتے وہاں شہری ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

ڈی آئی جی پی ٹریفک کے مطابق ان پیٹرولنگ گاڑیوں میں تعینات عملہ ٹریفک سگنل، اسٹاپ لائن اور لائن کی خلاف ورزیوں پر ایکشن لے گا۔ احمد نواز کے مطابق ون وے کی خلاف ورزی اور تیز رفتاری کے مرتکب افراد کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔
پارکنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی اور گاڑی کی چھت پر مسافروں کو بٹھانے پر بھی ایکشن لیا جائے گا۔

ڈی آئی جی پی ٹریفک کے مطابق ان پیٹرولنگ گاڑیوں پر تعینات عملے کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان کرنے کے اختیارات دئیے گئے ہیں۔

پیٹرولنگ گاڑیوں کو کہاں تعینات کیا گیا ہے؟

آٹھ گاڑیاں کوشاہراہ فیصل کے مختلف مقامات پر جبکہ سٹی ایریا، دو تلوار، بلاول چورنگی، فوارہ چوک، فریئرہال، کیپری سینیما، ایمپریس مارکیٹ، راشد منہاس روڈ، عائشہ منزل، شیر شاہ سوری روڈ، چار مینار چورنگی، جناح برج، مائی کولاچی روڈ، حب ریور روڈ، ملیر ہالٹ، قائدآباد، شہید ملت روڈ اور سنگر چورنگی کورنگی پر تعینات کیا گیا ہے۔

karachi traffic police

Tabool ads will show in this div