زیادہ درجہ حرارت مادہ کچھوے پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے

ایک عام کچھوے کا وزن 178 کلو ہوتا ہے

گزشتہ سال میرا اہل خانہ کے ہمراہ ساحل سمندر پر پکنگ کا پروگرام بنا۔ ہم علی الصبح ہی ہاکس بے کی جانب روانہ ہوئے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن کا وقت انجوائے کر سکے۔ ہلکے سرمئی بادلوں کے جھرمٹ میں ہم سفر پر روانہ ہوئے اور مقررہ راستوں سے ہوئے ہاکس کے دلکش ساحل پر رکے، چونکہ ہٹ پہلے سے ہی بک تھا، لہٰذا گھر والوں کے ہمراہ ہٹ میں جاکر سامان رکھا۔

ارد گرد کا معائنہ کرنے کیلئے میں ایسے ہی اکیلی ہٹ کے اطراف کا جائزہ لینے لگی کہ عین میری نظر ایک چھوٹے سے کچھوئے پر پڑی جو رینگ رینگ کر ہٹ کے قریب کی جگہ سے واپس پانی کی جانب جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں اس کچھوئے کا اس وقت تک مشاہدہ کرتی رہی جب تک ان نے اپنے آپ کو لہروں کے سپرد نہ کردیا ہو۔ وہ جگہ جہاں سے اس کچھوئے نے رینگا شروع کیا تھا، جب میں وہاں قریب پہنچی تو دیکھا اس جگہ کچھوئے نے انڈے دیئے ہوئے تھے۔ اس تحریر سے قبل مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ جن دنوں ہم نے ساحل کا رخ کیا ہے، یہ سیزن کچھوؤں کے ساحل کی جانب رخ کرنے اور انڈے دینے کا ہوتا ہے۔

مجھے ایک لمحے ایسا محسوس ہوا جیسے ہماری آمد ان کچھوؤں کیلئے پریشانی کا سبب بنی ہے، جس کی وجہ سے کچھوا اپنے انڈے چھوڑ کر پانی میں چلا گیا ہے۔ میں انڈوں کے گرد حفاظت حصار بنا کر وہاں سے چلی آئی، مگر ساحل سمندر پر کھچوؤں کے انڈے دینے کے سیزن سے متعلق سوالات میرے دماغ میں گویا اٹک کر رہ گئے۔ کہ سردیوں میں جہاں لوگ تفریح کی غرض سے ساحلوں کا رخ کرتے ہیں وہیں انسانوں کی یہ تفریح اس قیمتی آبی حیات کیلئے سکون میں خلل کا سبب بنتی ہے۔ تاہم اس سے متعلق نہ عام انسانوں میں کوئی شعور موجود ہے اور نہ اس سلسلے میں کسی آگاہی مہم سے روشناس کرایا گیا۔

ماہرین کے مطابق آٹھ کلومیٹر پر پھیلا کراچی کے ہاکس بے اور سینڈز پٹ ساحل کا علاقہ دنیا کے ان چند مقامات میں شمار کیا جاتا ہے، جسے ہرے سمندری کچھوے اپنی افزائش نسل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

کراچی کے ان ساحلوں پر ویسے تو ہرے سمندری کچھوے انڈے دینے پورا سال ہی آتے رہتے ہیں، مگر جون سے دسمبر تک جب سمندر چڑھا ہوا ہو تو یہ ان کے انڈوں کا سیزن سمجھا جاتا ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف

اپنے ذہن میں موجود تمام سوالات کے جوابات جاننے کیلئے ہم نے محکمہ وائلڈ لائف کے افسر اشفاق علی میمن سے رابطہ کیا۔ اپنے تجسس سے مجبور ہم نے پہلا سوال یہ کیا کہ دنیا میں کچھوؤں کی کتنی اقسام ہیں اور پاکستان میں کتنی پائی جاتی ہیں؟ جس پر انہوں نے ہمیں بتایا کہ دنیا میں کل کچھوؤں کی سات اقسام پائی جاتی ہیں، جب کہ ان میں سے 5 اقسام کے کچھوئے 1970 سے پاکستان آتے تھے، تاہم المیہ یہ ہے کہ اب صرف دو ہی اقسام پاکستان میں موجود ہیں جس میں ہرے اور کالے کچھوئے شامل ہیں۔

گرین ٹرٹل اور اولو ریڈلی۔ اولو ریڈلی کا ٹریک پاکستان میں موجود ہے، تاہم اس کی تلاش جاری ہے اور ہمیں وہ ابھی ملا نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی افزائش نسل جون اور جولائی میں ہوتی ہے اور یہ اسی دوران دیکھے جا سکتے ہیں۔ اور ہمیں امید ہے کہ رواں سال جون اور جولائی میں افزائش نسل کے دوران ہم انہیں ٹریک کرکے اس کے انڈوں کی حفاظت کرکے انہیں بچا سکیں۔

فی الحال اس وقت صرف گرین ٹرٹل ہی پاکستان کے ساحلوں میں پائی جاتی ہے اور اس کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

یہ پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں کنڈ ملیر تک پائے جاتے ہیں۔ اور جہاں جہاں تک پاکستان کی ساحلی پٹی پھیلی ہے، یہ کچھوئے پائے جاتے ہیں۔ منوڑہ، ہاکس بے، سینڈز پٹ وغیرہ ان جگہوں میں شامل ہے۔

گرین ٹرٹلز کو عموماً نرمی زمین یا مٹی پسند ہوتی ہے اور وہ ایسی ہی جگہوں پر انڈے دیتے ہیں۔ یہ کچھوئے نمکین یا کھارے پانی میں رہتے ہیں، کیوں کہ سمندر کا پانی کھارا ہوتا ہے اور یہ اسی پانی میں رہتے ہیں۔ گرین ٹرٹل کو گرین ٹرٹل اس کے رنگ کی وجہ سے کھایا جاتا ہے، یہ ہربی ؤررس ہوتے ہیں اور گھاس وغیرہ کھاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے اندر ایک کولیسٹرول جمع ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کا رنگ ہرا ہوتا ہے۔

سائز

ساڑھے 4 فٹ لمبائی اور ساڑھے 3 فٹ چوڑائی ہے۔ عموماً اس کا سائز تین سے ساڑھے تین فٹ ہوتا ہے۔ تاہم بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ کھچوئے 4 فٹ سے سوا 4 فٹ لمبے بھی پائے جاتے ہیں۔

وزن

ایک عام کچھوئے کا وزن 178 کلو ہوتا ہے، جو 90 کلو سے شروع ہوتا ہے۔ تاہم یہ وزن ان کے جسم کے سائز کے اعتبار سے ہوتا ہے۔

مادہ کچھوئیں سال میں دو بار افزائش نسل کیلئے ساحلوں کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم اس کیلئے ضروری نہیں کہ گزشتہ سال پاکستان کے ساحلوں کا رخ کرنے والی مادہ کچھوئیں دوبارہ ان ہی ساحلوں کا رخ کریں گی۔ یہ سراسر موسمی حالات پر منحصر ہوتا ہے۔

پاکستان میں یہ افزائش نسل کا عمل اگست سے شروع ہوکر 15 فروری تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران ان کا ساحلوں کی جانب آنا بھی ختم ہوجاتا ہے۔ تاہم اگست سے فروری کے دوران بڑی تعداد میں گرین ٹرٹل پاکستانی ساحلوں کی جانب ہجرت کرتے ہیں۔

وائلڈ لائف حکام کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس سیزن میں صرف سینڈزپڈ پر 400 سے زائد کچھوؤوں کی آمد ہوئی ہے۔ تاہم کچھؤوں کی ایک بڑی تعداد ساحلوں پر ہونے والی سرگرمیوں کے باعث انڈے دینے سے قاصر رہی۔

مادہ کچھوؤں کو انڈے دینے کیلئے ایک ایسی جگہ کی تلاش ہوتی ہے، جہاں شور ہنگامہ یا گہماگہمی نہ ہو اور اسے سکون میسر آسکے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ صرف 150 کے قریب ہی مادہ کھچوئے انڈے دے سکیں۔ جس کے بعد ساڑھے 12000 سے 13 ہزار تک کچھوؤں کے انڈوں کو محفوظ کرکے افزائش نسل کیلئے ہیچری میں لگا دیا گیا ہے۔ کتنے انڈے دیتا ہے

ایک کچھوا اوسطً 90 سے 100 تک انڈے دیتا ہے، یہ تعداد کبھی 130 سے بھی پہنچ جاتی ہے۔ ہرے کچھوے کی مادہ ساحل پر گڑھا کھود کر اس میں ایک وقت میں 60 سے 100 کے درمیان انڈے دیتی ہے، جس کے بعد وہ سمندر میں واپس چلی جاتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ان میں سے صرف ایک یا دو ہی زندہ بچ پاتے ہیں۔

کہاں کہاں اسمگل ہوتے ہیں

کالے کچھوئے جنہیں بلیک پاؤنڈ بھی کہا جاتا ہے، ان کی بیرون ممالک مانگ بہت زیادہ ہے۔ یہ میٹھے پانی کے کچھوئے ہیں اور میٹھے پانی میں ہی زندہ رہتے ہیں اور پائے جاتے ہیں۔ اس کچھوئے کی سب سے زیادہ ڈیمانڈ چین میں ہے اور یہ کچھوا سب سے زیادہ چین میں اسمگل ہوکر جاتا ہے۔ ان کچھوؤں کو ڈالرز میں بیچا جاتا ہے، اس لحاظ سے ان کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

عالمی ادارے ورلڈ کنزرویشن یونین (آئی یو سی این) نے ہرے سمندری کچھوے کو 2004 سے ناپید جانداروں کی ریڈ لسٹ میں شامل کرکے ان کی دنیا بھر میں 86 سے 96 ہزار تک آبادی کا تخمینہ لگایا ہے۔

اگر کوئی کچھوا زخمی حالت میں ملے یا اسملنگ کے دوران زخمی ہو جائے تو اس کا علاج کیسے ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں انہوں نے ہمیں بتایا کہ اس کیلئے ہم جانوروں کے ڈاکٹرز سے رجوع کرتے ہیں، جو ان کا علاج کرتے ہیں۔ علاج مکمل ہونے اور صحت یاب ہونے پر ان کچھوؤں کو واپس ان کے قدرتی آماجگاہ کی جانب چھوڑ دیا جاتا ہے۔

یہاں انہوں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ وائلڈ لائف کے دفتر سے منسلک ایک میوزیم بھی بنایا گیا ہے، جہاں آپ فری آف کوسٹ وزٹ کرسکتے ہیں۔

ویئر ہاؤس سے برآمد ہونے والے کچھوئے

اس موقع پر انہوں نے کچھ عرصے قبل کراچی کے ایک سافٹ ویئر ہاؤس سے بازیاب کرائے گئے کچھؤوں کا بھی حوالہ دیا۔ جنہیں ایک شہری کی شکایت پر بازیاب کرایا گیا تھا۔

غیر قانونی طریقے سے لوگ کتنا کما لیتے ہیں

دیگر ممالک میں کچھوؤں کو مختلف کاموں کیلئے اسمگل کیا جاتا ہے، جس میں کھانے کیلئے، دوائیں، خوش قسمتی کی علامت کیلئے گھروں میں رکھنے کا رواج کیلئے بھی انہیں بڑی تعداد میں دیگر ممالک اسمگل کیا جاتا ہے۔

ان کی عمر کیا ہوتی ہیں

جب ہم نے کچھوؤں کی عمر سے متعلق ان سے سوال کیا تو اشفاق میمن نے ہمیں بتایا کہ یہ ایک غلط تاثر ہے کہ کچھوئے ہزاروں سال تک زندہ رہتے ہیں۔ تاہم ایسا نہیں، ایک عام کچھوا70 سے 90 سال تک کی عمر میں باآسانی زندہ رہ سکتا ہے۔ اور کبھی یہ 100 سال تک بھی زندہ رہتے ہیں۔

پاکستان میں کچھوؤں کی افزائش نسل سے متعلق انہوں نے ہمیں بتایا کہ پاکستان میں 1970 سے اس حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ سال 1960- 1970 کی دہائی میں ہاکس بے کے ساحل پر انسانی سرگرمیاں اور ہٹس نہ ہونے کے برابر تھے اور یہ ہی وجہ تھی کہ بہترین ماحول میسر آنے پر ان کی افزائش نسل تیزی سے ہو رہی تھی، تاہم ساحل سمندر پر بڑھتی انسانی سرگرمیوں نے جہاں سمندری آلودگی میں اضافہ کیا، وہیں آبی حیات خاص کر معدوم ہوتی نسل کیلئے مزید مشکلات بڑھا دی ہیں۔

ستر کی دہائی میں کچھوؤں کی تعداد کا یہ عالم تھا کہ کہ اس وقت کوئی دیوار نہیں ہوا کرتی تھی اور کچھوئے اکثر مرکزی سڑک تک آجایا کرتے تھے۔ تاہم بعد ازاں انہیں سڑک پر آنے سے روکنے اور کسی بھی حادثے سے بچانے کیلئے یہاں ایک باؤنڈری دیوار بنا دی گئی تھی۔

محکمہ وائلڈ لائف سندھ کے مطابق 1970 سے لیکر اب تک ان ساحلوں پر آنے والے 8 لاکھ 70 ہزار ننھے کچھوؤں کو بحفاظت سمندر میں روانہ کرچکے ہیں۔

اس سال ان کے انڈوں کی تعداد 13 ہزار تک پہنچی ہے، جب کہ اگلے سال تک ہم 50 سے 70 ہزار تک کا ٹارگٹ سیٹ کر چکے ہیں۔ جس کیلئے عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں ہٹ انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے کہ وہاں رات اور شام کے اوقات میں سرگرمیوں کو محدود کیا جائے تاکہ کچھوؤں کو بہترین ماحول میسر آسکے۔

ہم نے انتظامیہ سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ شام سے صبح کے اوقات میں وہاں لوگوں کی آمدو رفت کو بھی روکا جائے۔ جس سے گرین ٹرٹل کی افزائش نسل میں تیزی لائی جا سکے گی۔

صرف یہ ہی نہیں، انہوں نے ہمیں بتایا کہ صرف انسان اور جانور ہی نہیں پھیلائی گئی آلودگی ، گندگی اور ماہی گیروں کا مچھلیوں کے شکار کیلئے استعمال ہونے والا جال بھی ان کیلئے اکثر اوقات جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

ان جالوں میں پھنسے سے کچھوؤں کے ہاتھ پاؤں کٹ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ساحل سمندر آنے والے افراد شیشے، پلاسٹک اور دیگر اشیاؤں کو پھینک کر چلے جاتے ہیں ، جو چلتی لہروں کے ذریعے سمندر میں جاتے ہیں اور کچھوئے اس غذا سمجھ کر کھانے کی کوشش میں مر جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ رات گئے ساحل سمندر پر ون ویلینگ کرنے والی گاڑیاں بھی ان کچھوؤں کی ہلاکت کا سبب بنتی ہیں۔ کیوں کہ رات کے اوقات میں کچھوؤں کو ریت میں دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔

جنگلی جانوروں سے بھی خطرہ

سینڈز پٹ کے ساحل پر کئی سالوں کے دوران تعمیر ہونے والے تفریحی ہٹس میں آنے والے لوگوں کی جانب سے کھانے پینے کی اشیا پھینکنے کی وجہ سے اس علاقے میں کتوں، کوؤں اور دیگر شکاری جانوروں اور پرندوں کی بہتات ہے۔

یہ شکاری جانور ہرے کچھوے کے انڈوں والے گڑھوں کو کھود کر انڈوں کو پی جاتے ہیں، اس لیے محکمہ جنگلی حیات سندھ نے ہرے کچھوے سمیت دیگر سمندری کچھووں کے انڈوں کی حفاظت کے لیے مرین ٹرٹل کنزرویشن سینٹر یا مرکز برائے تحفظ سمندری کچھوے قائم کیا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف

سی ٹرٹلز اور دیگر کچھوؤں کی حفاظت کیلئے جنگلی حیاتیات و نباتات کی عالمی تنظیم ورلڈ وائلڈ لائف ( ڈبلیو ڈبلیو ایف ) نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟ یہ جاننے کیلئے سما ڈیجیٹل نے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے آفیسر معظم خان سے رابطہ کیا، جو کچھوؤں سے متعلق وسیع معلومات اور تجربہ رکھتے ہیں۔

جب ہم نے ان سے سوال کیا کہ کیا کبھی ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے کچھوؤں کے انڈے دینے کے سیزن پر ساحل پر ہونے والی انسانی سرگرمیوں کے حوالے سے انہوں نے کوئی اقدام اٹھایا، کہ وہ نیسٹنگ کے سیزن میں ساحل سمندر پر لوگوں کی آمد کو روکے یا محدود کرے تو اس پر انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ تمام تر کارروائیاں سندھ حکومت کے دائر کار میں آتی ہیں۔ ہماری جانب سے جس حد تک ہو سکتا ہے ہم اس لیول پر جا کر کچھوؤں کیلئے کام کرتے ہیں، مگر یہ ایک ایسا سیزن ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کو اتنی بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں، کراچی کا ساحل 20 کلو میٹر سے زائد کے قریب پر مشتمل ہے، دوسری بات یہ کہ لوگوں میں اب اچھی خاصی آگاہی آگئی ہے کہ وہ انڈوں کے سیزن میں کچھوؤں کو تنگ نہیں کرتے ہیں۔

سندھ حکومت کچھوؤں کو بچانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے، ہمارا کام صرف واقعات کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے۔ کسی بھی قسم کی کچھوؤں سے متعلق سرگرمی کا مشاہدہ یا جانچ کیلئے ٹیمیں بنائی جاتی ہیں جو صوبائی حکومت کیلئے کام کرتی ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی جانب سے کچھوؤں کو بچانے یا عوام میں ان سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئے ادارہ گاہے بہ گاہے ایسے ایونٹ کا انعقاد کرتا رہتا ہے جس کے ذریعے اگر آپ کچھوؤں کو دیکھنا یا ان کی نیسٹنگ کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو ڈبلیو ڈبلیو ایف سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا انعقاد ہاکس بے یا سینڈز پٹ پر کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے بہت ہی اہم علاقے دریائے جیوانی میں کچھوؤں کے انڈے بچانے کیلئے اور بچوں کو واپس پانی میں بھیجنے کیلئے کام کیا۔

یہ کام ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے سال 2008 سے 2010 تک جاری رہا، جس کے بعد مقامی این جی او کی مدد سے اب یہ کام بھی باقاعدہ سے جاری ہے۔

اسی طرح کچھوؤں کے انڈے دینے کیلئے ایک اور جگہ دریافت کی گئی، اس علاقے کو کچھؤوں کیلئے اہم قرار دلانے میں بھی ڈبلیو ڈبلیو ایف نے خاصاً اہم کردار ادا کیا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کا جو سب سے بڑا کارنامہ ہے وہ یہ ہے کہ اس سے قبل لوگوں کو یہ علم نہیں تھا کہ کھلے سمندر میں کچھوؤں کون سے ہوتے ہیں ، کہاں ملتے ہیں، اور کہاں کم ملتے ہیں، کتنی تعداد اور کب ہوتے ہیں، اور انہیں مچھلی کے جال میں پھسنے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟ اس سلسلے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے مؤثر اور تفصیلی ریسرچ کیا گیا۔

ایڈلی اولو

پاکستان کے کھلے سمندر ( سندھ، بلوچستان اور فیڈرل گورنمنٹ کا سمندری علاقہ ) میں سال 2012 سے قبل 28000 ایڈلی اولو کچھوئے، جب کہ 4800 کے قریب گرین کچھوئے ہوتے تھے، جو جالوں میں پھنستے تھے۔ پاکستان کے ساحل پر آنے والے کچھوؤں میں ایڈلی اولو کچھوؤں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جس کو مدنظر رکھتے ہوئے سال 2012 سے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے پروگرام شروع کیا کہ جو 3 سے 4 فیصد کے قریب کچھوئے جالوں میں پھنستے تھے وہ مر جاتے تھے، ان کو کیسے بحفاظت واپس پانی میں بھیجا جائے؟۔

یہ اس وجہ سے ہوتا تھا کہ کچھوئے کچھ جال میں پھنسے کے بعد نکالنے کے دوران مر جاتے تھے، یا ماہی گیروں کو اس بات کی آگاہی نہیں تھی کہ وہ کچھوؤں کو کیسے احتیاط سے نکالیں؟۔ یا پھر اس طریقے سے جال کو پانی میں ڈالیں کہ وہ کچھوؤں کیلئے مشکل کا سبب نہ بنیں۔

ماہی گیروں کی تربیت کا پروگرام

اس سلسلے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف نے 100 سے زائد ماہی گیروں کی تربیت کی۔ جس میں انہیں بتایا گیا کہ کیسے خوبصورتی اور پیار سے آپ جالوں میں پھنس جانے والے کچھوؤں کو نکال کر دوبارہ پانی میں چھوڑ سکتے ہیں۔ اس تربیت کا یہ فائدہ ہوا کہ ماہی گیر کھلے سمندروں میں جالوں کو پھینکنے میں احتیاط کرنے لگے اور اب یہ بات بھی تصدیق شدہ ہے کہ اس ٹریننگ نے اتنا فائدہ دیا کہ اب کھلے سمندر کے پانی میں ڈالے جانے والے جالوں میں کچھوئے نہیں پھنستے ہیں۔

معظم خان کے مطابق یہ اس ادارے کی اتنی بڑی کامیابی تھی کہ اس کے بعد ان کچھوئے کی نسل میں اضافہ ہونے لگا۔ یہ کچھوئے گرین کھچوؤں کے مقابلے میں 4 گناہ زیادہ ہیں، ایک سوال کے جواب میں کہ یہ اتنی بڑی تعداد میں اولف ویڈلی کہاں نیسٹنگ کرتی ہے؟ اس پر معظم خان کا کہنا تھا کہ شاید یہ ممکن ہے کہ ایسٹ کوسٹ انڈیا کی جانب یہ کچھوئے چلے جاتے ہیں اور وہاں انڈے دیتے ہیں۔

پاکستان میں 5 قسم کے کچجوئے پائے جاتے ہیں

جس میں گرین کچھوئے، ایڈلی اولو ، یہ کھلے سمندر میں ہوتے ہیں، گرین کچھوئے سب سے کامن ہیں، کیوں کہ اس کی چربی گرین ہوتی ہے مگر اس کا رنگ گرین نہیں ہوتا۔ دیگر 3 اقسام اتنی نایاب تھی کہ وہ پاکستان کے علاوہ مشکل سے کسی دو یا تین ممالک میں ہونگی۔ ہاکسبل کھچوئے، لیدر بیک ، لوگر ہیڈ بہت زیادہ خطرے میں ہے۔

ہمارے پاس یہ آئیکون اسپیشنز ہے، ایک اور بات جو نہایت اہم ہے کہ جو مادہ کچھوئے ہیں وہ انڈے دینے کیلئے جب پاکستان کے ساحلوں کا جب رخ کرتی ہیں تو انہیں سمندری گھاس کی ضرورت ہوتی ہے، جو عموماً پاکستانی سمندری علاقوں میں نہیں ملتی ہے تو جن علاقوں میں انہیں یہ سمندری گھاس ملتی ہے جیسے بھارت میں گجرات کا علاقہ، خلیج فارس کا ساحل، ریڈ سی میں صومالیہ مصر کا ساحل ان کی آماجگاہ ہے۔ مادہ کچھوئے پاکستانی ساحل پر انڈے دینے کے بعد ان جگہوں کا رخ کرتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان میں اب بھی کچھوئے کو اسمگل کیا جاتا ہے ؟ جس پر معظم خان کا کہنا تھا کہ یہ آج سے 1970 پہلے ہوتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہوتا ہے، سی کچھوئے کے بارے میں یہ تاثر بالکل غلط ہے۔

قانون سخت ہونے پر اب یہ ممکن نہیں رہا ہے، ہاں ایک اکا دکا واقعات ایسے رپورٹ ہوئے تھے جس میں ہمیں پتا چلا تھا کہ لوگوں نے کچھوؤں کو اسمگل کرنے کی ناکام کوشش کے دوران انہیں سڑک پر ہی پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔ یہ غالبا ً 2014 کا واقعہ ہے، جب بڑی تعداد میں نامعلوم ملزمان کراچی میں شہید ملٹ روڈ کے کنارے کچھوؤں کو ہھینک کر فرار ہوگئے تھے، ہمیں جب اطلاع ملی تو ہم نے وائلڈ لائف کی مدد سے ان کچھوؤں کو سکھر میں قدرتی ماحول میں چھوڑ دیا تھا۔

میٹھے پانی کے کچھوئے کے کیسز اکا دکا آجاتے ہیں مگر مرین کچھوئے کے کیسز اب نہیں آتے ہیں۔ ایسے کیسز میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور کو وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت سزائیں دی گئیں۔ سال 1973 سے مرین کچھوئے کی اسمگلنگ پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے، کیوں کہ یہ معدوم ہونے والی نسل میں شامل ہیں۔

کچھوئے پر درجہ حرارت کا اثر

ایسی جگہیں جہاں مادہ کچھوئے انڈے دیتی ہے، اور وہاں اگر درجہ حرارت زیادہ ہو تو مادہ کچھوا بہت پلاننگ سے انڈے دیتی ہے۔ اگر فرض کریں کہ مادہ کچھوا ایسی جگہ موجود ہے جہاں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہے تو مادہ کچھوئے جتنے بھی انڈے دے گی وہ تمام کے تمام فیمل ہونگے۔ تاہم عام حالات میں یہ قدرت کا ایک عمل ہے کہ نارمل موسم میں یہ تناسب ایک میل اور ایک فیمل کے حساب سے ہوتا ہے، مگر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں تمام انڈے فیمل ہوتے ہیں۔ اور اگر زیاہ درجہ حرارت سے آنے والے دنوں میں تمام فیمل کھچوئے پیدا ہونے لگیں تو پھر یہ نظام متاثر ہوگا۔

اسی لیے جب کچھوؤں کے انڈوں کو بریڈنگ کیلئے مٹی میں رکھا جائے تو اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ وہاں بہت زیادہ درجہ حرارت نہ ہو۔ اور انہیں قدرتی درجہ حرارت میں رکھا جائے۔ تاہم فوری طور پر ان کا اندازہ نہیں لگایا جاتا ہے کیوں کہ وہ سب بہت چھوٹے ہوتے ہیں، بچوں کے تھوڑا بڑے ہونے پر یہ پھر واضح ہو جاتا ہے۔ یاپھر جینیٹک تجزیہ کریں جو کہ بہت مہنگا طریقہ ہے۔

سمندری ایکو سسٹم کیلئے اہم کیوں؟

ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ سمندری ماحولیاتی نظام (ایکوسسٹم) کو دوام بخشنے میں کچھووں کی خصوصی اہمیت ہے کیونکہ سمندری نظام کو تقویت دینے میں آبی مخلوقات ایک لڑی کی مانند ایک دوسرے کے ساتھ جڑح ہوئی ہیں اور سمندر میں انواع و اقسام کی مخلوقات کی موجودگی سے یہ نظام برقرار ہے۔

نوٹ: کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں کچھووں کا عالمی دن 23 مئی کو منایا جاتا ہے، جب کہ16 جون کو عالمی سطح پر سمندری کھچووں کی حالت زار کا شعور اجاگر کرنے کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

پاکستان

سندھ

بلوچستان

wildlife

WWF

Water crisis

Turtles

ENDANGERED SPECIES

OLIVE RIDLEY

Tabool ads will show in this div