ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے پی ٹی آئی کو ریلیف مل گیا

پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 دن میں کرنے کا حکم کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 دن میں کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ اور بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 دن میں کرنے سے متعلق حکم کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ الیکشن کمیشن نے ابھی تک کوئی آرڈر پاس نہیں کیا، الیکشن کمیشن پر شک کی گنجائش نہیں کہ تمام جماعتوں سے ایک سا برتاؤ ہوگا، توقع ہے الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کے کیسز مناسب وقت میں نمٹائے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امید ہے الیکشن کمیشن باقی جماعتوں کیخلاف کارروائی بھی مناسب وقت میں مکمل کرے گا اور کارروائی شفاف انداز میں آگے بڑھائی جائے گی۔

فیصلے کا پس منظر

14 اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے الیکشن کمیشن کو فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روز میں سنانے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف پی ٹی آئی نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی۔

تحریک انصاف کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کی جانب سے دیا گیا فیصلہ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔

اس کے علاوہ تحریک انصاف نے ایک اور متفرق درخواست بھی دائر کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے فنڈنگ معاملات بھی زیر سماعت ہیں لیکن اس پر کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا صرف تحریک انصاف کے حوالے حکم جاری کیا گیا جو نامناسب ہے۔

25 اپریل کو ہونے والی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے 30 روز میں فیصلے کا حکم معطل کردیا تھا۔

PTI

Foreign Funding Case

Tabool ads will show in this div