ہمارے سخت فیصلوں کے ذمہ دار عمران خان ہیں، وفاقی وزرا

حکومت ملی تو معیشت کھنڈرات کی صورت میں تھی، وفاقی وزرا

وفاقی وزرا نے مشترکہ کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سخت فیصلوں کے ذمہ دار عمران خان ہیں، مشکل فیصلے کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں۔

اسلام آباد میں دیگر وفاقی وزرا اور مشیروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں عوام کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، عمران خان اپنی کارکردگی سے متعلق کوئی بات نہیں کرتے، عمران خان کے دور میں ریکارڈ قرضے لیے گئے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش ہوئی جس میں ادارے شامل ہیں، عمران خان کا رونا صرف یہ ہے کہ ان کو حکومت سے کیوں نکالا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ روس یوکرین جنگ کی وجہ سے پیٹرول اور گیس کی قیمتیں اوپر گئیں، توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار پر کام کرنا ہوگا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہمیں حکومت ملی تو معیشت کھنڈرات کی صورت میں تھی، پی ٹی آئی حکومت نے معاشی صورتحال ابتر کردی تھی، موجودہ حکومت کو 3 مرتبہ پیٹرول کی قیمت بڑھانا پڑی، آئی ایم ایف معاہدے میں شرائط پی ٹی آئی کی لگائی ہوئی تھیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں ہے، متحدہ عرب امارات اور ہماری پیٹرول کی قیمت اس وقت بھی برابر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، ہمیں پانی، بجلی اور گیس کے استعمال میں کفایت شعاری کرنا ہوگی، کفایت شعاری سے ذاتی معاملات بہتر کرتے ہیں تو قومی کیوں نہیں۔

وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ہماری مارکیٹس رات ایک بجے تک کھلی ہوتی ہیں، دنیا میں یہ کہیں ایسا نہیں ہوتا، دنیا بھر میں ساڑھے 6 بجے مارکیٹیں بند ہوتی ہیں، مغرب کے بعد مارکیٹیں بند ہونے سے بجلی اور پیٹرول کا بوجھ کم ہوگا، مارکیٹیں جلد بند کرنے سے 3500 میگاواٹ بجلی بچائی جاسکتی ہے، کراچی کو شامل کرلیا جائے تو 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی بچت ہوگی، تاجر حضرات اس معاملے پر غور کریں اور فیصلے کو قبول کریں۔

مشکل فیصلوں کےعلاوہ کوئی چوائس نہیں تھی

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ مشکل فیصلے کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں، اس وقت ہمارا انحصار اور سہارا صرف عوام ہیں۔

قمرزمان کائرہ نے کہا کہ پیٹرول سبسڈی کے لئے حکومتی خزانےسے پیسہ نکل رہا تھا، ہر کوئی اسے ناممکن سمجھتا تھا، ہم پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی جاری نہیں رکھ سکتے تھے۔

قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی جاری رکھتے تو دیوالیہ ہونےکی طرف جارہے تھے، ہمارے پاس مشکل فیصلوں کےعلاوہ کوئی چوائس نہیں تھی، ہمارے پاس دو ہی راستے تھے یا تو سری لنکابن جائیں یا پھر مشکل حالات سے نکلنے کی کوششیں کریں۔

قمرزمان کائرہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سےمعاہدہ کرنے والے پیٹرول 300 روپے لیٹر کی اطلاعات دے رہے تھے، وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے کیونکہ ان کا یہی معاہدہ تھا۔

سخت فیصلوں کے ذمہ دارعمران خان ہیں

پریس کانفرنس کے دوران وزیر مملکت پیٹرولیم ڈویژن مصدق ملک نے کہا کہ عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا سیاسی فیصلہ کیا، عمران خان نے 1200 سے 1500 ارب روپے کی سبسڈی دی جب کہ پورے دفاعی اخراجات 1500 ارب روپے ہیں، انہوں نے بارودی سرنگ بچھائی، کسی کابینہ یا ای سی سی میں اس کی منظوری نہیں لی گئی۔

مصدق ملک نے کہا کہ ہمارے سخت فیصلوں کے ذمہ دارعمران خان ہیں، ہم بڑی استقامت کے ساتھ مشکل فیصلے کر کے اس بحران سے نکلیں گے۔ یقین ہے جلد ان حالات سے نکل جائیں گے۔

وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود کا کہنا تھا کہ ہنگامی بنیادوں پر معاشی معاملات سے متعلق کام کررہے ہیں ، ہمیں یقین ہے کہ ہم جلد ان حالات سے نکل جائیں گے۔

مولانا اسعد محمود کا کہنا تھا کہ قوم کو بجلی بحران سے نجات دینے کی پوری کوشش کریں گے ہم کوشش کریں گے کہ تاجر برادری کو بھی اعتماد میں لیں۔

PTI

federal government

Petroleum Price

ZAKA ULLAH KHAN Jun 16, 2022 02:08pm
liar liar
ZAKA ULLAH KHAN Jun 16, 2022 02:18pm
this goverment is not a democratic govt . they dont have any plan shame on u
Dr Abdul Shaikh Jun 16, 2022 11:08pm
جب اڑنا نہیں آتا تو پنگا کیوں لیا - جھوٹ بول کر کب تک گزارا چلے گا -
Tabool ads will show in this div