سندھ اسمبلی کا بجٹ قانونی طریقے سے پاس کرائیں گے،مرادعلی شاہ

تحریک انصاف کی ہنگامہ آرائی کے طریقے سے اسمبلی نہیں چلنے دیں گے

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ سندھ اسمبلی کا بجٹ قانونی طریقے سے پاس کرائیں گے اور تحریک انصاف کی ہنگامہ آرائی کے طریقے سے اسمبلی نہیں چلنے دیں گے۔

کراچی میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ ایک جہموری طریقے سابق وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیجا گیا تاہم وہ ہرروز نئی اور بہکی ہوئی باتیں کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف والوں کا عجیب ہی طریقہ ہے اور یہ ڈکٹیٹر والے راستے کو اپنا رہے ہیں،اگر یہ چاہتے ہیں کہ اس طرح ہنگامہ کریں تو ہم تیار کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس بجٹ کے حق میں 75 فیصد ہاؤس کے ارکان ہیں اور اس دفعہ ہم یہ اجازت نہیں دینگے کہ اپوزیشن والے تقریر کریں اور ہمارے ارکان کی تقریر میں شور کریں۔

مرادعلی شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی جائے گی،بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی دیگر جماعتوں ایم کیو ایم ، جی ڈی اے ، ٹی ایل پی کے ارکان خاموشی سے بجٹ سن رہے تھے لیکن تحریک انصاف کو اس صوبے کے لوگوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

وزیراعلی سندھ نے پیشکش کی کہ اب بھی تحریک انصاف کو کھلی دعوت ہے کہ آئیں اور اسمبلی میں بٹھیں،ہم اُن کی مکمل بات سنیں گے اور جواب بھی دینگے۔

وزیراعلی سندھ نے بجٹ سے متعلق بتایا کہ ہم نے پچھلی سال کی طرح اس مرتبہ بھی کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا اورہم ٹیکس میں ریلیف دے رہے ہیں۔ کاٹن فیس، انٹرٹینمنٹ اور پروفیشنل ٹیکس کم کردیئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں ریکارڈ ترقیاتی اسکیم رکھی گئی ہیں اوراس اسکیم میں سوشل پروٹیکشن بہت زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔

یہ بھی بتایا کہ ٹیکسز میں ریلیف دے رہے ہیں اور3 ٹیکسز معاف کیے ہیں۔ آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کیلئے ٹیکس13سے کم کرکے 3فیصد کردیا ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال امید ہے کہ ہم بہتر پرفارم کرسکیں گے کیونکہ پچھلے ساڑھے تین سال میں وفاق نے مدد نہیں کی اور گزشتہ ساڑھےتین سال میں سندھ کےساتھ زیادتیاں ہوئی تاہم اب وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات قدرے بہترہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گزشتہ دور میں وفاقی حکومت نے روڈ سیکٹر کےلیے13ہزار ارب روپے مختص کیے تھے،116ارب روپےہائی ویز سیکٹر پر وفاق نےخرچ کیے لیکن سندھ میں ایک روپیہ خرچ نہیں ہوا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں پچھلے 3 برس میں پی ٹی آئی نے ایک نئی اسکیم شروع نہیں کی تاہم آئندہ مالی سال میں وفاقی بجٹ میں سندھ کی 7 اسکیمز شامل ہیں۔نوابشاہ سےرانی پور تک مہران ہائی وے کو دو رویہ کرینگے جبکہ گھوٹکی میں ساڑھے چھ ارب روپے کی لاگت سےسڑکوں کی تعمیر ہوگی۔

MURAD ALI SHAH

Tabool ads will show in this div