سندھ حکومت کو مالامال کرنیوالا کماؤ پوت محکمہ کونسا؟

صوبائی حکومت نے 30 کروڑ اضافی کمانے کا ہدف دیدیا

حکومت سندھ نے مالی سال برائے 23-2022ء کا 1700 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا، اگر بجٹ دستاویزات کا جائزہ لیا جائے تو حکومت سندھ کے بیشتر محکموں نے متوقع آمدن سے کم کمائی کی ہے، لیکن صوبائی حکومت کا ایک ایسا ادارہ بھی ہے جس نے ناصرف اپنا ٹارگٹ پورا کیا بلکہ امید سے زیادہ پیسہ بھی کمایا، یہ ادارہ ٹریفک پولیس ہے۔

گزشتہ مالی سال 22-2021ء میں حکومت سندھ نے ٹریفک پولیس کو چالان کی مد میں 82 کروڑ 60 لاکھ روپے جمع کرنے کا ٹارگٹ دیا تھا جو بعد میں نظرثانی کے بعد کم کرکے 60 کروڑ 60 لاکھ روپے کردیا گیا، لیکن ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی پی) ٹریفک کراچی احمد نواز چیمہ کے مطابق صرف کراچی ٹریفک پولیس نے مالی سال 22-2021ء میں اب تک چالان کی مد میں 90 کروڑ روپے کما لئے ہیں۔

مزید جانیے: سندھ کا 17 کھرب روپے سے زائد کا بجٹ پیش

اسی طرح حکومت سندھ نے مالی سال 21-2020ء میں چالان کی مد میں ٹریفک پولیس کو 36 کروڑ 42 لاکھ جمع کرنے کا ہدف دیا تھا لیکن اس مالی سال میں بھی صرف ٹریفک پولیس کراچی نے 90 کروڑ روپے کمائے، ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے رواں مالی سال میں ٹریفک پولیس کو 82 کروڑ 60 لاکھ روپے جمع کرنے کا ہدف دیا تھا۔

ڈی آئی جی پی احمد نواز چیمہ کے مطابق ٹریفک پولیس کراچی نے اب تک چالان کی مد میں تقریباً 90 کروڑ روپے جمع کرلئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی آمدن کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے اس ادارے کو چالان کی مد میں مالی سال 23-2022ء میں 90 کروڑ 90 لاکھ روپے اکٹھے کرنے کا ہدف دیا ہے۔

کراچی ٹریفک پولیس سالانہ ایک ارب روپے جمع کرسکتی ہے!

ڈی آئی جی پی احمد نواز چیمہ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ رواں سال کراچی ٹریفک پولیس ایک ارب روپے چالان کی مد میں جمع کرسکتی تھی لیکن گزشتہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (ایڈیشنل آئی جی کراچی) کراچی رینج اور موجودہ انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ غلام نبی میمن نے ٹریفک پولیس کو چالان جمع کرنے کے بجائے ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے احکامات دیئے۔

تفصیلات بتاتے ہوئے احمد نواز چیمہ نے بتایا کہ غلام نبی میمن نے ایڈیشنل آئی جی کراچی رینج کا چارج رواں سال فروری میں سنبھالا۔ اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی انہوں نے احکامات دیئے کہ ٹریفک پولیس چالان کرنے کے بجائے شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے پر توجہ دے۔

ڈی آئی جی پی ٹریفک کے مطابق غلام نبی میمن نے احکامات دیئے کہ شہر میں صرف سیکشن افسران ہی چالان کرسکیں گے، ان کے علاوہ کوئی اور افسر چالان نہیں کرسکے گا۔

احمد نواز چیمہ نے بتایا کی سابق ایڈیشنل آئی جی کراچی رینج نے جب یہ حکم دیا تو اس وقت ٹریفک پولیس کراچی کے سیکشن افسران سمیت 1000 اہلکار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر شہریوں کے چالان کررہے تھے۔

ڈی آئی جی پی ٹریفک کے مطابق کراچی پولیس میں سیکشن آفیسرز کی تعداد صرف 90 ہے لیکن ایڈیشنل آئی جی کراچی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے باقی 910 ٹریفک پولیس افسران سے چالان کرنے کے اختیارات واپس لے لئے گئے۔ احمد نواز چیمہ نے بتایا کہ 3 ماہ بعد جب جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ سابق کراچی پولیس چیف کی پالیسی کے کچھ فوائد ضرور ہوئے لیکن اس کے ساتھ نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

ڈی آئی جی پی ٹریفک کے مطابق سابق کراچی پولیس کے اس اقدام سے شہر میں ٹریفک کی روانی میں بہتری دیکھنے میں آئی، دوسری طرف آمدن میں کمی ہوئی، حادثات میں اضافہ ہوا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بڑھ گئی۔

احمد نواز چیمہ کے مطابق اس پالیسی کے فوائد اور نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق ایڈیشنل آئی جی کراچی (موجودہ آئی جی سندھ) نے اسکروٹنی کے بعد دیانتدار ٹریفک پولیس افسران کو چالان کرنے کی اجازت دی۔

ڈی آئی جی پی ٹریفک نے بتایا کہ احکامات پر علدرآمد کرتے ہوئے ٹریفک پولیس افسران کے انٹرویوز کئے گئے جس کے بعد 388 مزید ٹریفک پولیس افسران کو چالان کرنے کا اختیار دیدیا گیا ہے۔

احمد نواز چیمہ نے بتایا کہ اگر سابق پولیس چیف (موجودہ آئی جی سندھ) ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کیلئے چالان کرنے والے افسران میں کمی نا کرتے تو رواں سال کراچی ٹریفک پولیس ایک ارب روپے سے زائد جمع کر لیتی۔

Sindh assembly

karachi traffic police

BUDGET 2022-23

Tabool ads will show in this div