ہم نظر رکھیں گے کہ کوئی ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرے، چیف جسٹس

42 ہائی پروفائل کیسز کا ڈیجیٹل ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم نظر رکھیں گے کہ کوئی ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے اعلیٰ شخصیات کی جانب سے تحقیقات میں مبینہ مداخلت کے معاملے پر از خود نوٹس پر سماعت کی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ نے ای سی ایل رولز کے حوالے سے منظوری دی؟، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی میں معاملہ زیرغور ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانونی عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے، کسی کو لگتا ہے کیس میں جان نہیں تو متعلقہ عدالت سے رجوع کرے۔ جسے سرکاری کام سے باہر جانا ہے اسے اجازت ہونی چاہیے، حکومت بنانے والی اکثریتی جماعت اسمبلی سے جاچکی ہے، یہ کسی کے لئے فائدہ اٹھانےکا موقع نہیں ہے، یکطرفہ پارلیمان سےقانون سازی بھی قانونی تقاضوں پر ہونی چاہیے۔

جسٹس عمر عطا بنديال نے ریمارکس دیئے کہ ملک اس وقت معاشی بحران سے گزررہا ہے، سسٹم چلنے دینےکے لئےسب کو مل کر کام کرنا ہوگا، ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے حکومت کو مشکلات ہوں، ہم نظر رکھیں گے کہ کوئی ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔

سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ واضح بات کے بجائے ہمیشہ ادھر ادھر کی سنائی جاتی ہیں، سمجھ نہیں آ رہی حکومت کرنا کیا چاہتی ہے، لگتا ہے حکومت بہت کمزور وکٹ پر کھڑی ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے 42 ہائی پروفائل کیسز کا ڈیجیٹل ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔

نیب نے ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ جمع کرانےکے لئے 2 ہفتوں کاوقت مانگ لیا، عدالت نے نیب کومہلت ديتے ہوئے سماعت 27 جون تک ملتوی کردی۔

کیس کا پس منظر

سپریم کورٹ نے 18 مئی 2022 کو حکومتی شخصیات کی جانب سے تحقیقات میں مداخلت پر از خود نوٹس لیا تھا۔

19 مئی کو دوران سماعت سپریم کورٹ نے حکومت کو ہائی پروفائل مقدمات میں تبادلوں اور تقرریوں سے روک دیا تھا۔

27 مئی کو ہونے والی سماعت میں ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ کچھ شخصیات کے نام تحقیقات مکمل نہ ہونے کے باوجود 7 ۔ 8 سال سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں تھے، نئی حکومت نے قوانین میں ترمیم کی۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے عبوری فیصلے میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے رولزمیں ترمیم کے بعد بیرون ملک جانے والوں کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔

NAB

fia

SUPREME COURT OF PAKISTAN

Ather Adnan Jun 14, 2022 09:29pm
*Appeal from all the political parties leadership, P.M, President, COAS & all stakeholders of Pakistan*
Tabool ads will show in this div