سندھ کا 17 کھرب روپے سے زائد کا بجٹ پیش

اورنج لائن منصوبہ اس سال مکمل کیا جائے گا،وزیراعلیٰ سندھ

سندھ حکومت کا آئندہ مالی سال دوہزاربائیس اورتئیس کےلیےبجٹ وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے پیش کردیا ہے۔

سندھ کابینہ نے 17 کھرب روپے کا ٹیکس فری بجٹ منظورکیا۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ غریبوں کا بجٹ ہے اوراس بجٹ میں سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں۔

سندھ حکومت نے صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے مراعات کا اعلان کردیا۔ سندھ کابینہ کی آئی ٹی سیکٹر پرجی ایس ٹی آن سروسز کم کرکے3فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

صحت کے لئے بجٹ

شعبہ صحت کیلئے نئے مالی سال 23-2022 میں مجموعی بجٹ کا 206.98 بلین روپے رکھا گیا ہے۔

اس سال شعبہ صحت کا بجٹ موجودہ مالی سال 22-2021 میں مختص 22، 181 بلین روپے کے مقابلے میں14 فیصد زیادہ ہے۔

لاڑکانہ میں جدید اسپتال کی تعمیر سندھ بجٹ میں شامل کی گئی ہے۔ شکارپور میں این آئی سی وی ڈی یونٹ کا قیام سندھ بجٹ میں شامل ہے جب کہ عباسی شہید اسپتال کراچی کا توسیع ومرمت کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

میٹروپولیٹن یونیورسٹی کراچی کی اسکیم سندھ بجٹ میں شامل ہے جبکہ ریسکیو 1122کو ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک توسیع دی جائے گی۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز گاما نائف سینٹر ریڈیو سرجری کے ذریعہ 500مریضوں کے علاج کے لئے 125 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

کڈنی سینٹر کراچی کو آئندہ مالی سال میں 200 ملین روپے کی امداد فراہم کی جائے گی۔

صوبے کےبجٹ میں گردے و جگر کی مفت پیوندکاری کےلیے فنڈز مختص کئے گئے ہیں اور خصوصی افراد اور معمر افراد کو مراعات دی جائیں گی۔

امراض قلب کے تمام پیچیدہ اورمہنگے علاج کی مفت سہولیات کےلیےخطیر رقم مختص کی گئی ہے جب کہ کم ازکم تنخواہ 25 ہزار برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شہیدمحترمہ بینظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ آف ٹراما سینٹر کراچی کو 2.4 بلین روپے مالی امداد دی جائے گی۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹوانسٹیٹیوٹ آف ٹراما کراچی کیلئے مشینری اور آلات کی خریداری کے 500 ملین روپے کی ( ون ٹائم ) اضافی گرانٹ بھی رکھی گئی ہے۔

تھیلیسیمیا کے مریضوں کا مفت علاج

سندھ میں تھلیسیمیا سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لئے 10 تھیلیسیمیا مراکز کی مالی امداد کی مد میں 290 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

سندھ حکومت 11 ڈائیلاسز سینٹرز کو 155 ملین روپے کی مالی امدادفراہم کرکے متاثرہ مریضوں کو مفت علاج فراہم کررہی ہے۔

ادارہ برائے امراض قلب کے لیے 12.5 ارب روپے، پی پی ایچ آئی کے لیے 11.48 ارب روپے رکھے گئے۔

ایس آئی یوٹی کی رقم 7 ارب روپے سے بڑھا کر10 ارب روپے کردیا گیا ہے جب کہ گمبٹ اسپتال کے لیے 6 ارب روپے رکھے گئے۔

اس کےعلاوہ غیرملکی امداد سے کراچی میں 41ارب روپے کےمنصوبوں پر کام ہوگا اور سندھ حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کراچی کےلیے70سےزائد اسکیمز شامل کی گئی ہے۔

سندھ حکومت کا آئندہ مالی سال میں 23کرائم سین یونٹس خریدنےکا فیصلہ کیا ہے جب کہ رواں مالی سال میں 13 کرائم سین یونٹس خریدے گئے۔

آئندہ مالی سال کے دوران پولیس،امن عامہ اور داخلہ کا بجٹ119 ارب روپے سے بڑھا کر124 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ملازمین کی تنخواہوں،پینشن،مراعات،پیٹرول سمیت دیگراخراجات کے لیے 1200 ارب روپے مختص کئے گئے ہيں۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورپینشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جب کہ الیکشن کے باعث اشتہارات کا بجٹ 4 ارب سے بڑھا کر8 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

سندھ کے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 460 ارب روپے ہے جب کہ مقامی وسائل سے332 ارب روپے خرچ ہونگے۔

کراچی کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 30 ارب روپے مختص کئےگئے ہیں اورتعلیم کے لیے 326 ارب روپے، صحت کے لیے 220 ارب روپے کا ہدف مقررکیا گیا ہے۔

امن و امان کا بجٹ

صوبے میں امن وامان کے لیے 132 ارب روپے جب کہ سندھ پولیس کے لیے 115 ارب روپے مختص کئے گئے۔صوبے میں امن و امان کیلئے 152 ارب روپے،ٹرانسپورٹ کیلئے 13 ارب روپے،آب پاشی کیلئے 56 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

محکمہ پولیس کیلئے 109 ارب روپے،جیل کیلئے 5.5ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں 5 کورٹ روپے کی لاگت سے 12 نئی کورٹس تعمیر ہونگی۔

مختلف اضلاع میں 18 کروڑ روپے کی لاگت سے ویمن پولیس اسٹیشن بنیں گے۔ سندھ میں فارنزک لیبارٹری کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

سیف سٹی پروجیکٹ کے لئے29ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

سندھ کے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 460 ارب روپے ہے جب کہ مقامی وسائل سے332 ارب روپے خرچ ہونگے۔

تعلیم کیلئے 326 ارب روپے،صحت 219 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ سندھ حکومت کے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کیلئے174 ارب روپے مختص کیا گیا۔

اس کے علاوہ256 ارب روپے سبسڈی اور147 ارب روپے حکومتی اخراجات کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔

توانائی کے لیے 33ارب روپے، زراعت کے لیے 24 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ شاہراہوں اور دیگر تعمیرات کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے۔

آب پاشی

صوبے میں 5 ارب روپے مینٹیننس،7 کروڑ 70 لاکھ روپے کنالوں کی صفائی کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ 15 کروڑ روپے کی گرانٹ سے سندھ ایری گیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی قائم ہوگی۔

محکمہ آبپاشی نے 92 چھوٹے ڈیم ، ریچارج ڈیم اورڈیلے ایکشن ڈیم نگرپارکر اور کو ہستان کے علاقوں میں بنائیں ہیں۔

ان میں کارونجھر اور کیرتھر کی پہاڑیوں سے آنے والے بارش کے پانی کو محفوظ کیا جائے گا۔

اس پانی سے تقریباً 255173 ایکڑز اراضی کو سیراب ہوگی اور انسانوں اور جانوروں کیلئے پانی بھی فراہم کریں گے۔

سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لئے سہولیات

ایڈہاک ریلیف الاؤنسز 2016، 2017، 2018، 2019 اور 2021 وفاقی حکومت ملازمین کے مساوی ہیں اور انہیں ضم کیا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت کی طرز پر سندھ کے ملازمین کے نظر ثانی شدہ پے اسکیل 2022 کو متعارف کیا جا رہا ہے۔

حکومت سندھ کےملازمین کے لئے 15 فیصد کی شرح سے بنیادی تنخواہ پر ایڈ ہاک ریلیف الاؤنس دینے کی تجویز ہے۔

حکومت سندھ کے 1 سے 16 گریڈ کے ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 33 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دیاجارہا ہے۔

گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دیا جائےگا۔

یہ الاؤنس 2013، 2015، 2016، 2017، 2018، 2019، 2020 اور 2021 کے ایڈ ہاک ریلیف الاؤنس کے فرق کی شرح کے علاوہ دیا جائے گا۔

ایڈ ہاک ریلیف الاؤنسز یکم جولائی 2022 سے ختم کئے جارہے ہیں۔

حکومت سندھ کے پنشنرز فروری 2022 تک وفاقی حکومت کے پنشنرز کے مقابلے میں 22.5 فیصد پنشن لے رہے تھے،اس لئے ان کی پنشن میں کیم جولائی 2022 سے 5 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔

پنشنرز وفاقی حکومت کی جانب سے مارچ 2022 میں پینشن 10 فیصد اضافے اور یکم جولائی 2022 سے صوبائی حکومت کے پنشنرز 15 فیصد حاصل کریں گے۔

کراچی کے لیے بجٹ

کراچی میں اگلے مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 118 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔

شہر میں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 72 بلین روپے، ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 5 بلین روپے اوربیرونی امداد کے تحت 41 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کراچی شہر میں 6 اہم شعبوں فراہمی آب، سیوریج ٹریٹمنٹ، بارش کے پانی کی نکاسی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، شہر سڑکوں کی تعمیر اور ماس ٹرانزٹ پر خاص توجہ ہے۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام 22-2021ء میں سندھ حکومت کے بیرونی امداد سے چلنے والے 31 منصوبے ہیں اوران میں سے7 منصوبے 189.620 بلین روپے کی لاگت کے شہر کراچی کیلئے ہیں۔

کراچی میں صوبائی حکومت کی جانب سے تعمیر کردہ 17.80 کلومیٹر طویل گرین لائن بی آرٹی 25 دسمبر 2021 سے فعال ہوچکی ہے۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل اورنج لائن جو کہ 4.77 کلومیٹر طویل ہے اس سال مکمل ہوجائے گی۔

صوبائی حکومت نے حال ہی میں پیپلز بس سروس کا اجرا کیا ہےجس کے تحت کراچی کے 7 مختلف روٹس پر 250 بسیں چلائی جائیں گی۔

حکومت سندھ نے ان بسوں کی خریداری پر 22-2021ء میں 6.4 بلین روپے خرچ کئے ہیں اوراس سلسلےمیں اگلے مالی سال میں 4 بلین رو پے مختص کئے گئے ہیں۔

Sindh assembly

BUDGET 2022-23

ظاہر اللہ Jun 14, 2022 11:47am
یہ بجٹ نہیں تماشا ہے عوام کو چ بنانے کے لیے ان ان پڑھ حکمرانو کو کیا معلوم ان چیزوں کا ہمارے اعمال درست نہیں ورنہ یہ خبیث حکمران نہیں ہوتے آج ہم پے مسلت ۔
Tabool ads will show in this div