حکومت سے ڈیڈ لاک ختم، اپوزیشن نے پیشکش قبول کرلی

اپوزیشن نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری سے معافی کا مطالبہ کیا تھا

پنجاب اسمبلی کی ایڈوائزری کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا، جس کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس ساڑھے 5 گھنٹے سے تاخیر کا شکار ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب کی ایڈوائزی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا، اپوزیشن نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری سے معافی کا مطالبہ کردیا۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی معاملہ میں آئی جی پنجاب ملوث ہیں، جن کے گھروں پر چھاپے مارے اور گرفتاریاں کیں ان سے معافی مانگیں۔

ڈیڈ لاک کے بعد حکومتی رکن خلیل طاہر سندھو احتجاجاً اجلاس چھوڑ کر باہر آگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم تمام صورتحال میں اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مسلم لیگ ن نے پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات ماننے کیلئے وقت مانگ لیا۔

تازہ اطلاعات کے مطابق اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ حکومت سے معاملات طے پاگئے، اس حوالے سے تحریری معاہدہ ہوگیا، اپوزیشن نے حکومت کے سامنے اہم شرائط رکھ دیں۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب اسپیکر چیمبر میں آکر معذرت کریں گے، پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران اور پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران پیش آنیوالی صورتحال پر معافی مانگیں گے۔

سماء ٹی وی کے مطابق وزیر قانون و پارلیماني امور پنجاب ملک احمد خان حکومتی ڈرافٹ کی کاپی لے کر اپوزیشن چيمبر میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے پاس پہنچ گئے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ اپنے مطالبات سے متعلق حکومت کو آگاہ کردیا۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے سماء سے گفتگو میں کہا کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری اسپیشل کمیٹی کے سامنے پیش ہوں، تحریری معاہدے کے بعد ہی اسمبلی کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے۔

PUNJAB ASSEMBLY

BUDGET 2022-23

Tabool ads will show in this div