پاکستان اور بھارت جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کر رہے ہیں،سپری رپورٹ

گزشتہ سال نئے قسم کے جوہری ہتھیاروں پر کام بھی شروع کیا گیا

سپری کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافے کر رہے ہیں، جب کہ دونوں ممالک کی جانب سے گزشتہ سال نئے قسم کے جوہری ہتھیاروں پر کام بھی شروع کیا گیا ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا جوہری ہتھیاروں کے نئے دور کی جانب بڑھ رہی ہے۔ دو روایتی حریف اور ہمسائیہ ممالک پاکستان اور بھارت کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنی جوہری میزائل کی صلاحیت بھی بڑا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے گزشتہ سال 2021 میں نئے قسم کے جوہری ترسیل کے نظام کو متعارف کرایا گیا، جسے وہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس یوکرین جنگ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ روس اور یوکرین جنگ کی وجہ سے جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا خطرہ بڑھا ہے، جب کہ آنے والی دہائی میں جوہری ہتھیاروں میں اضافہ متوقع ہے۔

براہموس میزائل کا معاملہ

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایٹمی طاقت اور روایتی حریف بھارت کی جانب سے 9 مارچ 2022 کو پاکستان کے شہر میاں چنوں میں بھارتی میزائل براہموس آکر گرا تھا، جس پر بھارتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یہ حادثاتی طور پر ہوا ہے۔

واقعہ سامنے آنے پر بھارتی حکومت اور پاک افواج کی جانب سے بھارت سے وضاحت بھی طلب کی گئی تھی۔

آئی ایس پی آر

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر بابر افتخار نے 10 مارچ کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ تیز رفتار اڑتی ہوئی جو چیز میاں چنوں میں گری وہ غالباً انڈین میزائل تھا۔

ترجمان کے مطابق 9 مارچ کی شام 6:43 پر پاکستان میں فضائی کارروائیوں کے پاک فضائیہ کے مرکز (ائیر ڈیفنس آپریشنز سینٹر) نے انڈین علاقے کے اندر سے ایک تیز رفتار چیز کی پرواز کرنے کا مشاہدہ کیا۔

بھارتی وزارت دفاع

بھارت کی وزارتِ دفاع کی جانب سے اگلے دن یعنی 11 مارچ کو ایک بیان میں اعتراف کیا گیا کہ معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث میزائل حادثاتی طور پر فائر ہو گیا تھا۔’ جب کہ بھارتی وزارتِ دفاع نے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہے۔

سپر سونک میزائل کس رفتار سے آیا

40000 فٹ کی بلندی پر سپر سونک میزائل پاکستان کی سرحد کے اندر آیا تھا۔ اس میزائل کے لانچ ہونے کے بعد انڈیا کو یہ بتانے میں دو دن کا عرصہ لگا کہ میزائل حادثاتی طور پر لانچ ہوا۔

براہموس میزائل کی زیادہ سے زیادہ رفتار 2.8 ‘میچ’ (تقریباً 3 ہزار 450 کلومیٹر فی گھنٹہ یا2 ہزار 148 میل فی گھنٹہ) ہے۔ اسے میزائل شکن نظام سے روکنا مشکل ہے۔

اس میں یہ بھرپور صلاحیت بھی موجود ہے کہ مختلف قسم کے ‘ریڈار’ (جہازوں اور اڑتی اشیا کا سراغ لگانے کا نظام) سے بھی بچ نکلتا ہے۔

براہموس فضا میں 15 کلومیٹر کی بلندی اور سطح زمین سے کم ازکم 10 میٹر اوپر پرواز (کروز کرنے) کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میزائل میں 200 سے 300 کلوگرام (غیرجوہری) روایتی بارودی مواد لیجانے کی صلاحیت موجود ہے۔

انڈین میڈیا ایسی خبریں دے چکا ہے کہ براہوس دنیا میں واحد سوپرسانک کروز میزائل ہے جو آواز (2.8 میچ) سے تین گنا زیادہ رفتار سے پرواز کرسکتا ہے۔ اس کی رینج (مارکرنے کا فاصلہ) 290 کلومیٹر ہے جسے 400 کلومیٹر تک لے جانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

براہموس کے عملی تجربات کے آغاز میں 290 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے کا پہلا تجربہ انڈیمان اور نیکو بار کے جزیروں پر کیا گیا۔ بحریہ اور فضائیہ نے ‘سخوئی۔ ایس یو۔30۔ایم کے آئی’ لڑاکا طیاروں کو براہوس سے لیس کیا ہوا ہے اور ان تجربات کے اس ہفتے ہونے کا امکان ہے۔

آواز سے زیادہ تیز رفتار (ہائیپر سوپر سانک) میزائل کی اس قسم کو آواز سے پانچ گنا زیادہ رفتار سے پرواز کرنے کے قابل بنانے پر بھی کام ہورہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ برس براہموس کی مار کرنے کی صلاحیت 800 کلومیٹر تک بڑھانے کا تجربہ ہونے جا رہا ہے۔

انڈین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ‘ٹیم 1500 کلومیٹر کے فاصلے تک مارکرنے والے میزائل پر بھی کام کر رہی ہے۔’

ذرائع کا کہنا تھا کہ ‘ایک بار جب یہ نظام درست ثابت ہوجائے تو اس میں معمولی ردوبدل کی ضرورت ہے تاکہ اسے فضا اور سمندر سے بھی چلایا جا سکے۔’

جنوری 2020 میں انڈین ایئر فورس نے تھنجاور میں 222 ’ٹائیگرشارکس اسکواڈرن قائم کیا ہے۔ یہ ‘ایس یو۔30۔ایم کے آئی’ لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ کا ٹھکانہ ہے جو براہموس سے لیس ہے۔

میزائل سے متعلق اطلاعات کا معاہدہ

فروری 1999 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک حفاظتی یاد داشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس ایم او یو میں یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو کسی بھی قسم کے بیلسٹک میزائل کا ٹیسٹ کرنے سے پہلے بتائیں گے۔ دونوں ممالک زمینی یا بحری بیلسٹک میزائل لانچ کرنے سے تین دن پہلے ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے۔ اور آگاہ کرنے کی ذمہ داری دونوں ملکوں کے دفترِ خارجہ اور ہائی کمیشن پر ہو گی۔

اس کے علاوہ بھی کئی ایسے معاہدے طے پائے ہیں جن کے تحت پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے سے ہر سال یکم جنوری کو جوہری ہتھیاروں کے مقامات (سائیٹ) کی فہرست کا تبادلہ کرتے ہیں۔

دونوں ممالک میں یہ بھی طے پایا ہے کہ اگر مسلح لڑاکا طیارے 10 کلومیٹر کی سرحدی حدود میں اڑیں گے تو انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کو بتائیں گے۔

تیسرا معاہدہ جوہری حادثے سے متعلق ہے کہ اگر دونوں ملکوں میں سے کسی میں بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو دونوں ایک دوسرے کو مطلع کریں گے۔

تاہم پچھلے 17 سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدے تو طے پائے ہیں لیکن اسی دوران ہتھیار خریدنے اور جمع کرنے کی رفتار میں بھی تیزی دیکھنے کو ملی۔ نتیجتاً بہت سے نئے ہتھیار ان معاہدوں کا حصہ نہیں ہیں۔

سپری رپورٹ

سپری کا کہنا ہے کہ سال 2022 کے شروع تک 9 جوہری ملکوں کے پاس 12 ہزار 705 جوہری ہتھیار تھے، جب کہ 1986 میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد 70 ہزار سے زائد تھی۔ جاری رپورٹ مہں کہا گیا ہے کہ امریکا اور روس نے سرد جنگ کے بعد جوہری ہتھیاروں میں بتدریج کمی کی، تاہم سرد جنگ کے بعد اب جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

سپری رپورٹ کے مطابق سال 2022 کے شروع تک روس 5 ہزار977 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، امریکا بالترتیب 5 ہزار 428 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر، چین 350 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ تیسرے اور فرانس 290 ہتھیاروں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

نو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستیں جس میں امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور جمہوری عوامی جمہوریہ کوریا (شمالی کوریا) شامل ہیں، ان ممالک نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ اگرچہ کل تعداد جنوری 2021 اور جنوری 2022 کے درمیان جوہری ہتھیاروں میں قدرے کمی واقع ہوئی تاہم ممکنہ طور پر اگلی دہائی میں یہ تعداد بڑھ جائے گی۔

سال 2022 کے آغاز میں ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 3732 وار ہیڈز میزائلوں اور ہوائی جہازوں کے ساتھ تعینات کیے گئے تھے۔ جن میں تقریباً 2000 طیاروں کا تعلق روس یا امریکا سے تھا اور ان کو ہائی آپریشنل الرٹ کی حالت میں رکھا گیا تھا۔

روس اور امریکا کے پاس 90 فیصد سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں۔ دیگر سات جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستیں یا تو نئے ہتھیاروں کے نظام کو تیار کر رہی ہیں یا ان کی تعیناتی کر رہی ہیں یا ایسا کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کر چکی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں خاطر خواہ توسیع کے درمیان میں ہے، جس کی سیٹلائٹ تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ 300 سے زیادہ نئے میزائل سائلوز کی تعمیر بھی شامل ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ نئے موبائل لانچرز اور آبدوز کی فراہمی کے بعد 2021 میں آپریشنل فورسز کو کئی اضافی جوہری وار ہیڈز تفویض کیے گئے ہیں۔

برطانیہ

برطانیہ نے 2021 میں اپنے کل وار ہیڈز کے ذخیرے کی حد کو بڑھانے کے فیصلے کا اعلان کیا، جس میں کئی دہائیوں کی بتدریج تخفیف اسلحہ کی پالیسیوں کو تبدیل کیا گیا۔ جوہری شفافیت کے فقدان پر چین اور روس پر تنقید کرتے ہوئے، برطانیہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اب ملک کے آپریشنل جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے، وار ہیڈز یا تعینات میزائلوں کے اعداد و شمار کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کرے گا۔

فرانس

سال 2021 کے اوائل میں فرانس نے باضابطہ طور پر نیوکلیئر پاورڈ بیلسٹک میزائل سب مرین ( ایس ایس بی این ) کی تیسری جنریشن کے جوہری طاقت سے چلنے والی میزائل تیار کرنے کا پروگرام شروع کیا۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کو بڑھا رہے ہیں، اور دونوں ممالک نے سال 2021 میں نئے قسم کے جوہری ترسیل کے نظام کو متعارف کرایا اور اسے جاری رکھا۔ اسرائیل - جو عمومی طور پر جوہری ہتھیار رکھنے کا اعتراف نہیں کرتا، اس کے بارے میں بھی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنا رہا ہے۔

شمالی کوریا

شمالی کوریا اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے مرکزی عنصر کے طور پر اپنے فوجی جوہری پروگرام کو ترجیح دیتا رہتا ہے۔ جب کہ شمالی کوریا نے 2021 کے دوران کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا اور نہ ہی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ سپری کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے پاس اب 20 وار ہیڈز جمع ہوچکے ہیں، اور اس کے پاس کل 45-55 وار ہیڈز کیلئے کافی فیزیل مواد موجود ہے۔

ایس آئی پی آر آئی کے ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن کے ایسوسی ایٹ ریسرچر میٹ کورڈا کا کہنا ہے کہ اگر جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں نے تخفیف اسلحہ پر کوئی فوری اور ٹھوس اقدام نہیں کیا، تو سرد جنگ کے بعد پہلی بار ہوگا کہ جوہری ہتھیاروں کی عالمی انوینٹری جلد ہی بڑھنا شروع ہو سکتی ہے۔

پاکستان

انڈیا

nuclear bomb

WARHEADS

Tabool ads will show in this div