چین اور روس کے درمیان پہلے زمینی پل کا افتتاح

کرونا وباء کے باعث پل کا افتتاح دو سال ملتوی رہا

چین اور روس کے درمیان پہلے زمینی پل کا افتتاح کردیا گیا، یہ پل دو سال قبل مکمل ہوچکا تھا تاہم کرونا وباء کے باعث اس کا افتتاح نہیں کیا جاسکا تھا۔

روس اور چین نے جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان سڑک پر پہلے پل کی نقاب کشائی کی، دریائے آمو پر ایک کلومیٹر طویل پل مشرقی روس کے دور دراز کے شہر بلاگووشینسک کو شمالی چین کے ہی ہی شہر سے ملاتا ہے۔

پل کی تعمیر دو سال قبل مکمل ہوئی تھی لیکن کرونا وباء کی وجہ سے اس کا افتتاح ملتوی کردیا گیا تھا۔

بلاگووشینسک میں ایک تقریب کے دوران ٹرکوں کے گزرنے کے ساتھ ہی پل کو مال بردار ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا، اس موقع پر آتش بازی کا بھی اہتمام کیا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو رویہ ٹریفک لین پر مشتمل پل کی لاگت تقریباً 19 بلین روبل (328 ملین امریکی ڈالر کے برابر) آئی ہے۔

روس اور چین کے درمیان1980ء کی دہائی میں تعلقات میں بہتری کے بعد آپس کی تجارت میں بھی اضافہ ہوا، دونوں ملکوں کی 4250 کلومیٹر باہمی سرحد ہے۔

RUSSIA

CHINA

BORDER BRIDGE

Tabool ads will show in this div