گندم مہنگا لیکن پاکستان کیلئے درآمد کرنا کتنا ضروری؟

اگلے چند ماہ میں 3لاکھ میٹرک ٹن گندم منگوائی جائیگی

اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق روس اور یوکرین جنگ کے باعث گندم، دالوں اور آئل سیڈ کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں لیکن پاکستان کو مہنگی ہونے کے باجود مذکورہ اجناس درآمد کرنی پڑیں گی، خاص طور پر گندم کا رواں سال ہدف حاصل نہیں ہوسکا، جس کی وجہ سے آئندہ چند ماہ میں 3لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنا ہوگا

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ زیادہ قیمتوں کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں بھی گندم کی قیمت بڑھنے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال گندم پیدوار کا ہدف 28.90 ملین میٹرک ٹن مقرر کیا گیا تھا لیکن اس کے برعکس 26.39 ملین میٹرک ٹن گندم کی پیدوار ہوسکی ہے، رواں سال مقررہ ہدف سے گندم کی پیدوار کم رہی بلکہ پچھلے مالی سال 21-2020ء کے 27.46 ملین میٹرک ٹن سے بھی امسال گندم کی پیدوار کم رہی۔

رپورٹ کے مطابق گندم کی پیدوار میں کمی کی وجوہات میں گندم کی زیر کاشت رقبے میں پچھلے سال کے مقابلے میں 2.1 فیصد کمی اور آبپاشی کیلئے کم پانی کی فراہمی شامل ہے، اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں، ہیٹ ویو اور کھاد کی کم فراہمی سے بھی گندم کی کاشت متاثر ہوئی ہے۔

روس و یوکرین اجناس کے حوالے سے کتنے اہم ہے؟

پاکستان گندم، دالوں، آئل سیڈ جیسی اجناس سب سے زیادہ روس اور یوکرین سے درآمد کرتا ہے، جہاں پچھلے کئی مہینوں سے جنگ کی وجہ سے حالات انتہائی مخدوش ہیں۔

دونوں جنگ سے متاثرہ ممالک پاکستان کیلئے کتنے اہم ہیں، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے مالی سال کے دوران گندم کا 77.3 فیصد ان دونوں ممالک سے درآمد کیا گیا تھا، جبکہ دالوں کی کل درآمدات میں بھی مذکورہ دونوں ممالک کا حصہ 19.3 فیصد اور آئل سیڈ کا حصہ 10.4 فیصد رہا۔

اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان کا فرٹیلائزر اور ایندھن کیلئے روس اور یوکرین پر زیادہ انحصار نہیں لیکن دونوں ممالک کے حالات کی وجہ سے عالمی سطح پر ان اجناس کی قیمتیں بڑھ گئیں ہیں، جس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔

اقتصادی سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روس، یوکرین تنازع کے آغاز سے اب تک عالمی مارکیٹ میں گھی و خوردنی تیل کی قیمتوں میں 14.2 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021 کے دوران پاکستان کی سالانہ خوردنی تیل کی طلب 41 میٹرک ٹن رہی جس میں صرف 11 فیصد طلب مقامی پیداوار سے پوری کی جاتی ہے اور باقی 89 فیصد ضرورت پوری کرنے کیلئے تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خدشہ ہے کہ روس، یوکرین جنگ کی وجہ سے گھی، تیل، گندم اور دالوں کی بلند قیمتیں برقرار رہیں گی۔

پاکستان

ukraine

RUSSIA

Wheat crisis

BUDGET 2022-23

ECONOMIC SURVEY 2021-22

Tabool ads will show in this div