نئے بجٹ میں کرونا اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے کوئی فنڈ نہیں

بجٹ میں 39 وزارتوں اورڈویژنز کیلئے 538 ارب روپے مختص

سما کو موصول ہونے والی دستاویز کے مطابق نئے بجٹ میں 39 وزارتوں اورڈویژنز کیلئے 538 ارب روپے مختص کردیئے گئے ہیں، جب کہ کرونا وباء اور دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے کوئی فنڈ نہیں رکھے گئے۔

دستاویز کے مطابق نئے بجٹ میں سڑکوں کی تعمیر کیلئے این ایچ اے کو121 ارب51 کروڑ روپے ملیں گے، ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 60 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، بجلی کے منصوبوں کیلئے بجٹ میں 49 ارب 61 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پانی کے منصوبوں کیلئے 96 ارب 80 کروڑ رکھے گئے ہیں، ریلوے کے لئے 33 ارب 89 کروڑ روپے اور پلاننگ ڈویژن کيلئے 20 ارب 67 کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جب کہ ایٹمی توانائی کمیشن کو 25 ارب 59 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا، اور فوڈ سیکیورٹی کیلئے 12 ارب روپے سے زیادہ کے فنڈز رکھے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق نئے مالی سال میں نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 1626 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، نئے بجٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پرلیوی کی وصولی بحال کرنے کی تجویز ہے، پٹرولیم اور ایل پی جی پر لیوی کی مد ميں 558 ارب روپے حاصل ہوں گے۔

گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں 40 ارب روپے آمدن کا تخمینہ ہے، تیل و گیس کی رائلٹی سے 116 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے، اسٹیٹ بینک کے منافع سے 200 ارب روپے آمدن کا تخمینہ ہے، پاسپورٹ فیس کی مد میں 35 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، خام تیل کی رائلٹی سے 35 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے، گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس سے بھی 2 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2022-23 کا بجٹ قومی اسمبلی میں 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔ ملک بھر میں مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے جس کے باعث عوام کو قومی بجٹ سے کوئی خاص امید نہیں ہے۔

parliament

BUDGET 2022-2023

Tabool ads will show in this div