اسلام آباد:ایف نائن پارک کے قریب فائرنگ سےزخمی ہونیوالانوجوان چل بسا

25 سالہ قاسم اعوان نجی کمپنی میں مینجر تھے

اسلام آباد کے ایف نائن پارک کے قریب ڈاکؤوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا 25 سالہ قاسم اعوان چل بسا۔

25 سالہ قاسم اعوان کو دو روز قبل ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم دو روز تک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے دوران قاسم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بدھ 8 جون کی رات انتقال کرگئے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق 25 سالہ قاسم اعوان لمز یونی ورسٹی کے فارغ التحصیل تھے اور والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ قاسم نجی فوڈ سروس میں کام کرتےتھے۔ رپورٹس کے مطابق مقتول نوجوان بیمار والدین اور دو بہنوں کا سہارا تھا۔

دو روز قبل 5 جون کی رات میں جب وہ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد گھر جا رہے تھے کہ راستے میں ڈاکوؤں نے انہیں روکا اور لوٹنے کی کوشش کے دوران فائرنگ کردی، جس سے وہ شدید زخمی ہوئے تھے۔

واقعہ کی اطلاعات منظر عام پر آںے کے بعد ترجمان اسلام آباد پولیس کا بیان بھی سامنے آیا تھا۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے ملزمان کی جلد گرفتاری کے لئے ڈی آئی جی آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ کی زیر نگرانی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

ٹیم ایس ایس پی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں ایس پی صدر، ایس ڈی پی او مارگلہ، ایس ایچ او مارگلہ اور تفتیشی افسر پر مشتمل ہے۔

آئی جی اسلام آباد کی جانب سے وفاقی پولیس کی ٹیم کو جائے وقوعہ سے اکھٹے کیے گئے شواہد کی روشنی میں جلد از جلد ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

واقعہ کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا تھا، صارفین کی جانب سے لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔

وفاقی دارالحکومت میں مقیم افراد کی بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ اب چوروں اور ڈاکوؤں سے اسلام آباد جیسا شہر بھی محفوظ نہیں رہا ہے۔

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قاسم اعوان کے انتقال کی خبریں سامنے آنے کے بعد اسلام آباد پولیس کی جانب سے نیا حکم نامہ بھی جاری کیا گیا ، جس میں آئی جی اسلام آباد پولیس ڈاکٹر اکبر ناصر کا کہنا تھا کہ جرائم کی روک تھام کے لیے پارکوں اور گلیوں میں پولیس پیٹرولنگ کو بڑھانے اور ایگل اسکواڈز کو 24 گھنٹے مستعدی سے 15 کالز پر موقع پر پہنچنے کے لیے اپنے ریسپانس کو مزید بہتر بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

مزید براں آئی جی کا یہ بھی کہنا تھا کہ گاڑی چوری کی روک تھام کیلئے بھی خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

پارک کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان

ماضی میں اسی پارک میں خاتون سے زیادتی، پاک فوج کے میجر کا قتل اور شہری کو لوٹ مار کے دوران بینائی سے محروم کرنے کے واقعات ہوچکے ہیں۔ جرائم کی بڑھتی وارداتوں سے دارالحکومت میں پولیس اور سی ڈی اے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ پاک فوج کے میجر لاریب کو سال 2019 میں رات گئے واک کے دوران فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

firing

islamabad police

F9 PARK

QASIM AWAN

Tabool ads will show in this div