جون کی گرمی میں خیبرپختونخوا کا رخ کرنے والے سیاحوں کیلئے مفید معلومات

جانیے راستوں، ہوٹل،موسم سےمتعلق مفید معلومات
<p>فوٹو: محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا</p>

فوٹو: محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا

ملک بھر میں شدید گرمی کے باعث سیاحت کے شوقین افراد خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کا رخ کررہے ہیں مگر ناکافی معلومات، راستوں سے ناواقفیت اور احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنے کے باعث مختلف نوعیت کی پریشانیوں کا شکار ہورہے ہیں۔

پہاڑی علاقوں کے نشیب و فراز سے ناواقف سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف سیاحتی مقامات پر متعدد واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔

سیاح کوئی بھی ٹور پلان کرنے سے قبل مطلوبہ علاقے کی سڑکوں کی صورتحال اور موسم کی معلومات حاصل کرلیا کریں تاکہ شدید بارش یا برف باری کی صورت میں انہیں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سیاحت کے لیے کہیں روانہ ہونے سے قبل اگر تھوڑی بہت متعلقہ معلومات حاصل کرلی جائیں تو اس سے سفر اور رہائش کے معاملات مزید آسان و خوشگوار رہتے ہیں۔

یوں تو پاکستان کا چپہ چپہ ہی خوبصورت ہے مگر موجودہ موسم میں ملک بھر سے لوگ خیبرپختونخوا گلگت بلتستان کے دلکش علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

بالائی علاقوں میں موسم اور راستوں کی صورتحال

اگر آپ اس وقت کوئی ٹور پلان کررہے ہیں تو پھر یہ انتہائی موزوں وقت ہے کیوں کہ ان دنوں برف باری نہ ہونے کے باعث باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش جیسے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔

محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا کے مطابق اس وقت صوبے بھر کی سڑکیں کھلی اور موسم صاف ہے جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 9 جون تک گرمی کی لہر برقرار رہنے جبکہ صوبے کے بعض حصوں میں شام و رات کے اوقات میں تیز ہواؤں کے چلنے کا امکان ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق عوام سفر سے پہلے اپنی گاڑی کے انجن میں پانی اور ٹائروں میں پریشر چیک کریں، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ہماری ہیلپ لائن 1700 پر دیں۔

پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا نے دوران سفر سیاحوں کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور موسمی صورت حال سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

مانسہرہ: تمام پرفضا مقامات کھلے اور اس وقت سفر کے لیے موزوں ہیں۔ مطلع صاف اور موسم معتدل ہے تاہم بابوسر ٹاپ کا راستہ خراب موسم کے باعث بند کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ایبٹ آباد اور گلیات کے راستے بھی کھلے اور سفر کےلیے موزوں ہیں۔

سوات:تمام ٹوررسٹ اسپاٹ بشمول کالام مہو ڈنڈ اور ملم جبہ کی سڑکیں کھلی اور مطلع صاف ہے اور فی الوقت وہاں جانے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

کمراٹ: لوئر اور اپر دیر کے تمام مقامات بشول کمراٹ تک اس وقت بآسانی پہنچا جاسکتا ہے اور ان جگہوں کا موسم بھی صاف ہے۔

سیاحتی مقامات پر ان دنوں ہوٹل کتنے فیصد بھرے ہوئے ہیں؟

محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا کے مطابق اس وقت ایوبیہ میں 60 فیصد، ڈونگا گلی میں 70 فیصد اور نتھیاگلی میں 90 فیصد ہوٹلز بک ہیں۔ بالاکوٹ 60 فیصد، شوگراں 60 فیصد،کاغان 70، بٹہ کنڈی 60 اور ناران میں 90 فیصد ہوٹلز بھرچکے ہیں۔ ملم جبہ 70، مدین 40، بحرین 60،کالام 80، کمراٹ 40، دیر 25 اور چترال میں 20 فیصد ہوٹلز فل ہیں۔

دوران سیاحت پریشانی سے بچنے کےلیے احتیاطی تدابیر

سیاحوں کے لیے مطلوبہ مقام پر جانے سے پہلے اس جگہ سے متعلق بنیادی معلومات حاصل کرلینا انتہائی ضروری ہے۔ ان معلومات کے حصول کے لیے سیاح خیبرپختونخوا حکومت کی موبائل ایپ یا 24 گھنٹے فعال ہیلپ لائن 1422 سے رابطہ کرسکتے ہیں جہاں انہیں مستند معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

گھومنے جانے سے پہلے رہائش کا انتظام یقینی بنا لینا بھی سیاحوں کے لیے ایک ضروری اور مفید عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے بھی سرکاری موبائل ایپ یا محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا کی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔

محکمہ سیاحت خیبرپختو ںخوا نے سیاحوں کے سہولت کے لیے صوبے میں 10 سیاحتی مقامات پر کیمپنگ پاڈز نصب کیے ہیں۔ ان سیاحتی مقامات میں ٹھنڈیانی، شڑاں، بیشیگرام، گبین جبہ، یخ تنگی، شیخ بدین، مہابن، شہیدہ سر، الئی اور بمبوریت شامل ہیں۔

سیاحوں کا رات کے وقت سفر کرنے سے گریز بہتر ہے اور پہاڑی راستوں پر خود گاڑی چلانے کے بجائے مقامی ڈرائیوروں پر انحصار زیادہ محفوظ عمل ہے۔ اکثر سیاحتی مقامات پر پٹرول پمپ دستیاب نہیں ہوتے لہٰذا گاڑی میں ایندھن کا معقول ذخیرہ رکھنا چاہیے۔

اپنے بچوں اور خواتین کو دریا، ندی نالوں اور جھیلوں کے قریب جانے یا پانی میں اترنے سےمنع کریں۔ ان علاقوں میں پانی ٹھنڈا، توقع سے زیادہ گہرا اور بہاؤ کافی تیز ہوتا ہے۔

چونکہ ہر علاقے میں لوگوں کا طرز زندگی اور رسم و رواج مختلف ہوتے ہیں اس لیے مقامی خواتین کی تصاویر کھینچنے اور بغیر اجازت بچوں کی بھی تصاویر کھینچنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیوں کہ دیہی علاقوں میں اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔

کرونا وبا کے پھیلاؤ روکنے کے لیے بھی صوبائی حکومت نے ایس او پیز جاری کی ہیں جس کے مطابق سیاح سفر سے پہلے اطمینان کر لیں کہ وہ صحت مند اور سفر کے لیے جسمانی طور پر فٹ ہیں۔

حکومت نے تمام سیاحوں کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ سیاحی مقامت کا رخ کرتے وقت وہ اپنے قومی شناخت ساتھ رکھنے کے علاوہ کرونا ویکسینیشن سرٹفیکیٹ یا کرونا منفی سرٹیفکیٹ بھی اپنے پاس رکھیں۔

tourism

KPK

GILGIT BALTISTAN

weather forecast

Tabool ads will show in this div