دعامنگی کيس،مفرورملزم زوہيب قريشی پوليس مقابلےميں گرفتار

کرمپورکےلنک روڈ پرگاڑی کوروکنے کےاشارے پرپولیس کودیکھتےہی ملزمان نےفائرنگ کردی

کندھ کوٹ میں دعامنگی کيس کا مفرورملزم زوہيب قريشی پنجاب فرار ہوتے ہوئے پوليس مقابلےميں زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

ایس ایس پی امجد شیخ نے بتایا کہ کندھ کوٹ میں ايس ايڇ او کرمپور پولیس ٹیم کے ہمراہ گشت پر تھے جب انھوں نے ایک گاڑی کو روکنے کے لیے اشارہ کیا۔

کرمپور کے لنک روڈ پر گاڑی کوروکنے کے اشارے پر پولیس کو دیکھتے ہی ملزمان نے فائرنگ کردی۔

پولیس مقابلے میں انتہائی مطلوب زوہیب علی قریشی کوپنجاب فرار ہوتے ہوئے اسلحہ سمیت زخمی حالت میں گرفتارکرلیا گیا۔

ایس ایس پی پولیس نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے گاڑی، 6 موبائل فون اور 5 وائی فائی ڈیوائس برآمد ہوئی ہیں۔

ملزم کے جرائم کی تفصیلات

ملزم کے جرائم سے متعلق پولیس نے بتایا کہ زوہیب قریشی نے چند ماہ قبل پلیجو نامی شخص کواغوا کیا تھا۔

کراچی میں اے ٹی سی (ٹو) کی عدالت میں ڈیفنس کےرہائشی کےاغوا کا کیس بھی زیرِسماعت ہے۔

اس کےعلاوہ ملزم نے اپنےساتھیوں کے ہمراہ فیضان نامی شخص کو 2015 میں گاڑی سمیت ٹنڈو جام سے اغوا کیا تھا۔

ملزم نےاپنے دوستوں کے ہمراہ 2019 میں بسمہ نامی عورت کو گاڑی سمیت اغوا کرکے6 دن قید میں رکھا اور1 کروڑ75 لاکھ روپے تاوان لے کررہا کیا۔

ملزم دعا منگی کیس کا مرکزی ملزم ہے جس میں اس نے 25 لاکھ روپے تاوان کےلیے اغوا کیا تھا۔

ایس ایس پی امجد شیخ نے بتایا کہ ملزم کا مزید کرمنل ریکارڈ چیک کروایا جا رہا ہے۔

ملزم زوہیب کیسے فرار ہوا تھا

کراچی سے 2 ماہ قبل دعا منگی کیس کا مرکزی ملزم زوہیب قریشی عدالت سے جیل واپسی پر شاپنگ سینٹر سے فرارہوگیا جس کا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نوٹس لیا تھا۔

مرکزی ملزم زوہیب قریشی کو سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا اورعدالت سے واپسی پرملزم کوشاپنگ کے لیے طارق روڈ کےشاپنگ مال لےجایا گیا جہاں سے وہ پولیس اہلکاروں کوچکمہ دے کر رکشہ میں بیٹھ کر فرار ہوگیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کو پولیس اہلکاروں کے ساتھ پرائیوٹ گاڑی میں آتے ہوئے اور مال میں داخل ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ملزم کو بنا ہتھکڑی اوربنا قیدی وین کے شاپنگ پر لےجایا گیا۔

اس واقعےپرفيروزآباد پوليس نے2اہلکاروں کو حراست ميں لے ليا۔ پوليس اہلکاروں نے بیان دیا کہ انھیں یقین تھا کہ ملزم فرارنہیں ہوگا،اس لیے وہ اس کو شاپنگ پر لے کرگئے۔

ملزم زوہیب قریشی کوواپس جیل پہنچانے کی ذمہ داری ہیڈ کانسٹیبل نوید اور کانسٹیبل ظفر کی تھی۔

دعا منگی کہاں سے اغوا ہوئی تھی؟

واضح رہے کہ 30 نومبر2019 کی رات کراچی میں ڈیفنس بخاری کمرشل کی شاہراہ پر چار سے پانچ افراد نے دعا منگی کو اغوا کرکے اس کے دوست حارث کو گولی مار کر وہیں چھوڑ دیا تھاجس کے بعد اس کی رہائی 20 سے 25 لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد عمل میں آئی تھی۔

دعا منگی اغوا کیس میں پولیس نے 4ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ ملزمان کو کراچی پولیس کی خصوصی ٹیم نے 18 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔

تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ انہی ملزمان نے ڈیفنس سے تاوان کے لیے بسمہ سلیم نامی لڑکی کو بھی اغواء کیا تھا اور اسے بھی تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا تھا۔

اغواء برائے تاوان کے یہ دونوں مقدمات انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دعا منگی کیس کے مرکزی ملزم زوہیب قریشی کی پولیس حراست سے فرار ہونے کا نوٹس لے لیا اور آئی جی سندھ اورسیکریٹری داخلہ کوسخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ہی دونوں پولیس اہلکاروں نویداورظفر کو گرفتار کرکےلاک اپ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نےایس ایس پی کورٹ پولیس اعظم درانی کوبھی فوری طورپرمعطل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

DUA MANGI

Tabool ads will show in this div