فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان کی سکھر برانچ کا افتتاح

شرعی اورحدود کیسوں کی سماعت کے لیے کراچی جانا نہیں پڑے گا

فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین نے فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان برانچ سکھر کا افتتاح کردیا۔

چار جون کو سکھر میں فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان کی سکھر برانچ کا افتتاح کیا گیا۔ اس موقع پر قائم مقام چیف جسٹس سید محمد انور نے کہا کہ اب سکھر ریجن کےعوام اور وکلاء کو شرعی اورحدود کیسوں کی سماعت کے لیے کراچی جانا نہیں پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ تمام ہائی کورٹس میں پہلے ہی کیسوں کا دباؤ ہے اور فیڈرل شریعت کورٹ سکھر برانچ سے یہاں کے عوام کے لیے آسانیاں ہونگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ سکھر میں سیاحت کے لیے بہت کچھ نظر آیا لیکن انہیں اجاگرنہیں کیا گیا تاہم اگر یہاں کی سیاحت کی تشہیر کی جائے تو سکھر ریجن کی معیشت مضبوط ہوسکتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ کی ثقافت زندہ ہے اورسکھر کی سیاحت کے بارے میں آگاہی نہ فراہم کرکے پاکستان کےعوام کو ان مقامات سے دور رکھا گیا۔

اس موقع پرایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شفیع محمد چانڈیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سکھر میں شریعت کورٹ کا کھلنا خوش آئند عمل ہے اور ہائی کورٹ بھی شریعت کورٹ کے فیصلوں کو مانتی ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نےبتایا کہ شریعت میں یہ ہے کہ لڑکی کی بلوغت میں شادی ہو،قانون میں یہ ہے کہ شادی کے لئے 18 سال لڑکے یا لڑکی کی عمر ہو تاہم ایسے مسائل شریعت کورٹ حل کرے گی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نےمطالبہ کیا کہ اس عدالت کی باڈی کو جلد مکمل کیا جائے۔

SUKKUR

Tabool ads will show in this div