پانی کی بوند بوند کو ترستا چولستان

مکینوں کی زباں پر ایک ہی سوال پانی کب ملے گا؟
اپ ڈیٹ 03 جون 2022 04:01pm

قحط زدہ چولستان کے باسی بوند بوند کو ترس رہے ہيں۔ يہ ريت کا سمندر ہے جہاں پانی نہيں بلکہ پياس ہے۔

علاقے سے اس وقت سب سے بڑی نقل مکانی ہو رہی ہے،جہاں گزشتہ ڈيڑھ سال سے پانی کی بونديں صحرا پر نہيں گريں۔

اس صحرا میں آگ اگلتا سورج 50 ڈگری سینٹی گریڈ پر پہنچ جاتا ہے اور جھلسا دینے والی گرمی میں وہاں کے مکینوں کی زباں پر بس ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ پانی کب ملے گا؟۔

چولستان کا يہ صحرا پچيس ہزار آٹھ سو مربع کلو ميٹر تک پھيلا ہوا ہے جہاں زندگی اب زندگی کو ترس رہی ہے، بادلوں نے یہاں سے منہ موڑا تو قحط سالی نے بھی ڈيرے ڈال لئے ہیں۔ کنويں سوکھ چکے ہیں۔ علاقے میں گيارہ سو سے زائد ٹوبے اور دو سو سے زيادہ چھوٹے ڈيمز خشک ہوچکے ہیں۔

چولستان کا پياسا صحرا ابر رحمت کا منتظرہے، ريت کے اس ديس ميں ہر طرف سناٹا ہے، دور دور تک کوئی ذی روح نہيں، بس موت کا پہرا ہے۔

سماء کی ٹیم ویران ریگستان پہنچی تو وہاں ہر طرف جانور مرے نظر آئے، ہر طرف خوفناک مناظراور گرم ہواؤں کی سرگوشی ايک ہی پيغام دے رہی تھی کہ يہاں زندگی کيلئے پانی چاہئے۔

جب چولستان میں زندگی بولتی تھی تو یہاں سے آٹھ لاکھ ليٹر دودھ مختلف شہروں ميں سپلائی ہوتا تھا لیکن اب یہاں ويرانيوں کا راج ہے، پانی کی تلاش ميں بیشتر چولستانی جانوروں کے ساتھ نقل مکانی کرگئے ہیں۔

ايک اندازے کے مطابق یہاں نوے ہزار گھروں میں تقریباً سوا دو لاکھ سے زائد چولستانی آباد تھے، جانوروں کی کل تعداد تقريبا پندرہ لاکھ تھی۔

حاملہ خواتین کے مسائل

چولستان سے نقل مکانی کرنے والے جہاں مشکلات سے دوچار رہتے ہیں تو دوسری طرف یہ سفر حاملہ اور بیمار خواتین کیلئے مصائب کا پہاڑ کھڑا کردیتا ہے۔ حاملہ خواتين جن کے ليے سفر کرنا مشکل تھا وہ یہیں بیٹھ کر اپنی زندگی کیلئے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

ہم نے جب ان سے سوال کیا کہ وہ ایسی صورت حال میں کیا کرتی ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جب ہمیں ڈاکٹر نہیں ملتا ہے تو ہم مر جاتے ہیں، یہاں دوائی نہیں ملتی، شہر جانے کیلئے سواری نہیں ملتی، تو عورت تڑپتی تڑپتی مر جاتی ہے، نا یہاں کوئی اسپتال ہے، نا کوئی اچھی کھانے کی غذا ہے نا پانی ہے، بس کڑوا پانی پی پی کر مرجاتے ہیں۔

بنيادی سہوليات سے محروم ان خواتین کی زندگی میں نا بجھنے والی پیاس تو تھی ہی اب بھوک اور فاقہ کشی بھی اپنا حصہ ڈالنے چلی ہے۔

چولستان کے درد کو بیان کرتی بابا فرید کی شاعری پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ صحرا کے حالات آج بھی ویسے ہی ہیں۔

کيا حال سناواں دل دا، کوئی محرم راز نہ دل دا، آيا بھاربرہوسرباري، لگی ہو ہو شہر خواری، روندی عمر گزاريم ساری، ناں پايم ڈس منزل دا۔۔۔

14 سال پرانا منصوبہ تکمیل کا منتظر

14 برس بیت گئے مگر اس علاقے کیلئے 7 لاکھ فٹ سے زائد بچھائی گئی پائپ لائن چولستان میں صاف پانی کی فراہمی کا ذریعہ نہ بن سکی اور سرکاری منصوبہ مکمل نا ہوسکا۔ اگست 2007 میں سوڑہیاں واٹر پائپ لائن منصوبے کا آغاز ہوا جس کی تکمیل ہونا تھی۔ جو 18 ماہ میں مکمل ہونا تھی اور اس پر تخمینہ 40 کروڑ روپے لگایا گیا تھا، تاہم فنڈز کی کمی اس منصوبے کو ہی کھا گئی۔

آپ کی مدد درکار ہے

پياسے چولستان کی مدد کیلئے سماء ٹی وی پر لائيو ٹيلی تھون کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جو آج بروز جمعہ دوپہر 2 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہی۔

اس لائیو میرا تھون میں پیاسے چولستان کو پانی جیسے نعمت سے سیراب کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ عوام کی بڑی تعداد نے 02138791235 اور 02138791234پر فون کرکے میرا تھون میں ساتھ دیا۔

اس لائیو میرا تھون میں سماء ٹی وی اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن نے عوا کی مدد کا بیڑا اٹھایا۔

چولستان لائیو میراتھون میں شاہد آفریدی کی بیٹیوں کی جانب سے بھی چولستان کے باسیوں کی مدد کیلئے 1 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا گیا۔

آپ مندرجہ ذیل بینک تفصیلات کے ذریعے بھی مدد کرسکتے ہیں۔

Bank Al Habib Account# 1003008108709001
HBL Account# 000077900930203
Account# 1003008108709001 (Bank Al Habib)
Account# 000077900930203 (HBL)
Account Title:Shahid Afridi Foundation