پی ٹی آئی کی لانگ مارچ میں رکاوٹوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست

وفاقی اور پنجاب حکومت کو تشدد اور طاقت کے استعمال سے روکا جائے،تحریک انصاف کی استدعا

پاکستان تحریک انصاف نے آزادی مارچ میں رکاوٹوں اور گرفتاریوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے بیرسٹر علی ظفر کی وساطت سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، جمہوری مطالبات کوحاصل کرنےکیلئےشہری احتجاج کا حق رکھتے ہیں، آئین میں دیئے حقوق کو حکومت ختم نہیں کر سکتی، پرامن شہریوں کو گرفتار کرنا آرٹیکل 9 اور 10 کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 25 مئی کو لانگ مارچ کے شرکاء پرتشدد کیا گیا، حکومتی تشدد اور شیلنگ سے پی ٹی آئی کے 5 کارکن جاں بحق ہوئے،عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مزید تصادم کا خطرہ بھی موجود تھا، تصادم کے خطرے کے پیش نظر مارچ کو ختم کر دیا گیا۔

اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ مرکزی و صوبائی حکومتوں کو حکم دیا جائے کہ مارچ شرکاء پر کسی قسم کا طاقت کا استعمال نہ کیا جائے، حکومتوں کو مارچ کے شرکاء پر تشدد نہ کرنے، آئی جیز کو کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار نہ کرنے اور آزادی مارچ کے شرکاء کے راستے میں کنٹینرز لگانے سے روکا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف نے 25 مئی کو لانگ مارچ اور اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

لانگ مارچ کو روکنے کے لئے پنجاب اور وفاقی حکومت نے راستے بلاک اور اسلام آباد کے ریڈ زون میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کردیئے تھے، مختلف علاقوں میں ہونمے والی جھڑپوں کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار اور سیاسی کارکن جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو ایچ نائن میدان میں احتجاج کی اجازے دینے کے بعد راستے کھول دیئے گئے تھے تاہم 26 مئی کو عمران خان نے اسلام آباد پہنچ کر لانگ مارچ ختم کرنے کا علان کردیا تھا۔

بعد ازاں عمران خان نے حکومتی اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا تھا۔

Azadi March

Long march

PTI

SUPREME COURT OF PAKISTAN

Tabool ads will show in this div