سینیٹ: اسلام آباد واقعات پر کمیٹی بنانے کا فیصلہ

چیئرمین محسن عزیز کی زیرصدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا خصوصی اجلاس

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے دوران پیش آنیوالے واقعات پر سیاسی جماعتوں کی کمیٹی بنانے کا اعلان کردیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا خصوصی اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں منگل کو ہوا۔

اجلاس میں حقیقی آزادی مارچ کے دوران نہتے مظاہرین اور اراکین پارلیمنٹ پر تشدد کی ویڈیوز کمیٹی ممبران کو دکھائی گئیں۔

معاملے پر طویل بحث کے بعد چیئرمین کمیٹی نے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے سینیٹرز ممبران کی مشاورت سے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ذیلی کمیٹی بنائی جائے گی، مارچ کے دوران جو زیادتی ہوئی اس کو دیکھنا ضروری ہے۔

چیئرمین کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ورکرز جو آئینی حق کے تحت پر امن احتجاج کر رہے تھے ان پر تشدد کیا گیا، گھروں کی دیواریں پھلانگی گئیں، چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا جو قابل مذمت ہے، پولیس جوان کی شہادت پر بھی افسوس ہے۔

اجلاس میں سینیٹر یوسف رضا گیلانی، ڈاکٹر شہزاد وسیم، فیصل جاوید، اعظم سواتی، شبلی فراز سمیت دیگر نے شرکت کی۔ آئی جی اسلام آباد اور دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ حقیقی آزادی مارچ میں جن کے ساتھ زیادتی ہوئی اور تشدد کیا گیا اس حوالے سے اب تک کیا کارروائی ہوئی؟، انہوں نے پرامن مظاہرین پر فائر آنسو گیس کی تفصیلات شئیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ مجھ پر لاٹھی چارج کیا گیا جس سے میں بے ہوش ہوا، اب میری ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی اور نہ ہی ایم ایل سی مکمل کی جا رہی ہے۔

سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے احتجاج کی اجازت دی، مظاہرین پر تشدد کرنا اور ان کو طاقت کے ذریعے روکنا توہین عدالت ہے۔ کمیٹی سپریم کورٹ سے اس معاملے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرے۔

وفاقی وزیر سینیٹر طلحہٰ محمود کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے ساتھ اگر زیادتی ہوئی ہے تو نامناسب ہے اور میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں لیکن پولیس کے کتنے لوگ زخمی ہوئے، کتنے پولیس کے نوجوانوں پر تشدد ہوا اس حوالے سے کوئی بات نہیں کررہا۔

یوسف رضاگیلانی کا کہنا تھا کہ 25 مئی کے حوالے سے کافی خدشات تھے۔ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ بات چیت کا عمل چلتا رہا لیکن بات نہیں بن سکی۔ سپریم کورٹ نے بھی ڈی چوک پر مظاہرے کی اجازت نہیں دی۔ اگر شیلنگ نہ ہوتی تو توہین عدالت ہوتی۔

سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ جہاں بھی زیادتی ہوئی وہ قابل مذمت ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے جو بیان دیا ہے کمیٹی اس کی مذمت کرے۔

آئی جی اسلام آباد نے سینیٹرز کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ جو آنسو گیس مظاہرین پر استعمال کی گئی اس سے آنکھوں سے آنسو آتے ہیں اور آنکھوں میں جلن ہوتی ہے۔ عدالت کی مظاہرین کو ڈی چوک نہ آنے کے حوالے سے حکم کے بعد مظاہرین پر آنسو گیس فائر کئے گئے۔ اسلام آباد میں اس وقت کوئی بھی حراست میں نہیں ہے۔

ایس ایس پی سیکیورٹی پنجاب نے بتایا کہ حقیقی آزادی مارچ کے دوران پنجاب میں ہمارے 128 اہلکار زخمی جبکہ ایک کی شہادت ہوئی۔ تین گاڑیوں اور املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

پاکستان

parliament

SENATE COMMITTEE

Tabool ads will show in this div