بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے مزید 3 رہنماؤں کو سزائے موت

1971ء میں پاکستان کا ساتھ دینے اور جنگی جرائم کے الزامات عائد

بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے مزید 3 رہنماؤں کو سزائے موت سنادی گئی۔

بنگلا دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے 3 افراد کو 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے اورجنگ کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزامات پر موت کی سزا سنادی۔

سینئر پراسیکیوٹر سید حیدر علی کے مطابق مجرموں میں سے ایک مفرور ہے اور اس کی غیر حاضری میں مقدمہ چلایا گیا لیکن دیگر دو کو ذاتی طور پر مقدمے کا سامنا کرنا پڑا، تینوں افراد کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔

سزا پانے والوں میں 68 سالہ رضا الکریم مونٹو جنوبی ناگوان میں جماعت اسلامی کے سابق امیر رہ چکے ہیں، دیگر افراد میں 64 سالہ نذر الاسلام اور 62 سالہ شاہد موندل شامل ہیں۔ ان میں سے نذر الاسلام کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ مفرور ہیں اور انکو انکی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی۔

بنگلا دیش میں اس سے قبل بھی جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو 1971 کے جرائم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔

بنگلا دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے 2010 میں متنازع جنگی ٹربیونل تشکیل دیا تھا جس نے جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو پھانسی اور سزائیں سنائیں، جس کے نتیجے میں ملک گیر ہنگامے پھوٹ پڑے اور سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بنگلا دیش کی اعلیٰ عدالت 2013 میں جماعت اسلامی کے منشور کو ملک کے سیکولر آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرچکی۔

پاکستان

JAMAT E ISLAMI

BANGLADESH

1971

Tabool ads will show in this div