نیب کیسز میں مداخلت، سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ جاری

عدالت نے ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی وجوہات طلب کرلیں

اعلیٰ شخصیات کی جانب سے تحقیقات میں مبینہ مداخلت کے معاملے پر سپریم کورٹ نے 27 مئی کی سماعت کاتحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

اپنے عبوری فیصلے میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے رولزمیں ترمیم کے بعد بیرون ملک جانے والوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دیکھنا ہوگا ترمیم سے مستفید وزراء نے کابینہ اجلاس سےخود کو الگ کیا تھا یا نہیں۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے حکومتی شخصیات کی جانب سے نیب کی تحقیقات میں مبینہ حکومتی مداخلت پرازخود نوٹس لیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو ہائی پروفائل مقدمات میں تبادلوں اور تقرریوں سے روک دیا تھا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے تھے کہ رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف تحقیقات کرنے والے افسران تبدیل کئے گئے، ڈی جی ایف آئی اے جیسے قابل افسر کو بٹایا گیا۔ بتایا جائے ہائی پروفائل کیسز میں افسران کے تقرر تبادلے کیوں کیے گئے؟ہم نے پراسیکیوشن برانچ کے شفاف اور آزادانہ کام کو یقینی بنانا ہے۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجر بینچ نے حکومتی شخصیات کی جانب سےتحقیقات میں مداخلت پرازخودنوٹس کی سماعت کی تھی۔

NAB

SUPREME COURT OF PAKISTAN

Pakistan Latest News

Tabool ads will show in this div