عمران خان نے اپنے لوگوں کو مسلح ہوکر اسلام آباد آنے کا کہا، وزیرداخلہ

پی ٹی آئی کا عمل ریاست اور حکومت سے بغاوت تھی، رانا ثناء اللہ

Nadeem Malik Live - Exclusive Interview of Rana Sanaullah - SAMAA TV - 31 May 2022

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان نے اپنے لوگوں کو مسلح ہو کر اسلام آنے کی تلقین کی، یہ جرائم پیشہ گینگ ہے، ان کا عمل ریاست اور حکومت سے بغاوت تھی، یہ لوگ ریڈ زون کو بریک کرنا چاہتے تھے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان اپنے لوگوں کو مسلح ہوکر آنے کی تلقین کرتے رہے، عمران خان اور ان کے دیگر لوگوں کی ٹیلیفون کالز ہمارے پاس موجود ہیں، اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی نے ڈھائی ہزار کے قریب لوگ پہلے ہی اسلام آباد میں مامور کردیئے تھے، جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے ساتھ آنیوالے لوگ بھی مسلح تھے، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے ساتھ آنیوالوں نے پولیس پر اسلحہ تانا، یہ لوگ ریاست پر چڑھائی کرنے جارہے تھے، یہ جرائم پیشہ گینگ ہے، ان کا عمل ریاست اور حکومت سے بغاوت تھی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ لوگ ریڈ زون کو بریک کرنا چاہتے تھے، اگر ریڈ زون بریک ہوتا تو مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس، وزیراعظم ہاؤس اور سپریم کورٹ کی بلڈنگ پر چڑھ دوڑتے، امن و امان اور دہشت گردی سے متعلق پولیس نے مقدمے درج کرائے ہیں، غداری اور بغاوت سے متعلق ہمارے پاس شواہد موجود ہیں، کابینہ سے استدعا کی ہے کہ وہ مقدمہ درج کرانے کیلئے اجازت دے تاکہ اسی الزام میں ان کیخلاف مقدمہ چلے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ کابینہ نے میری بات سن کر ایک سب کمیٹی بنائی ہے جو تمام شواہد دیکھے گی، کمیٹی کابینہ میں اپنی سفارشات پیش کرے گی، انہیں اسلام آباد میں داخلے کی ہرگز اجازت نہ ملتی، انہوں نے سپریم کورٹ کو دھوکہ دے کر اجازت لی، سپریم کورٹ نے ہمیں کہا کہ 3 گھنٹے میں انہیں سیکیورٹی فراہم کی جائے، ہم انتظامات کررہے تھے کہ انہوں نے اعلان کردیا کہ میں تو ڈی چوک جاؤں گا۔

اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بات چیت کیلئے سہولت کاری کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ فواد چوہدری نے ایاز صادق سے رابطہ کرکے کہا تھا کہ اس معاملے کا بات چیت سے حل نکالیں جس پر ان سے ملاقات کی گئی، اسپیکر ہاؤس میں فواد چوہدری، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی آئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں سینئر قیادت کی بھی عمران خان کے سامنے کوئی اوقات نہیں، کوئی عمران خان کو مشورہ بھی نہیں دے سکتا، ان کا جو دل چاہتا ہے وہ کرتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ عمران خان، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری، اسد عمر سمیت 13 پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفے 6 جون کو منظور ہوسکتے ہیں، ان میں کوئی ابہام نہیں، 30 سے 35 ارکان ایسے ہیں جو اسپیکر کو فون کرکے کہہ رہے ہیں کہ ہم آنا نہیں چاہتے مگر آپ ہمارے استعفے منظور نہ کریں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان جھوٹ بولتا ہے کہ اسرائيل کے حوالے سے اس پر کوئی دباؤ تھا، اين جی اوز کے لوگ پروگرام بناکر اسرائيل چلے جاتے ہيں، جو لوگ اسرائيل گئے اپنی مرضی سے گئے، اس میں حکومت کا عمل دخل نہيں، جو لوگ اسرائيل گئے ان کے پاس ڈبل پاسپورٹ تھا۔

Long march

IMRAN KHAN

RANA SANA ULLAH

Tabool ads will show in this div