مئی 2022ء: اسٹاک مارکیٹ میں انتہائی مایوس کن کارکردگی

کے ایس ای 100انڈیکس میں 4.8 فیصد کی کمی ریکارڈ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مئی کے دوران غیرمعمولی مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا، اگر چہ مہینے کے آخری ہفتے میں ریکوری بھی آئی لیکن پہلے 3 ہفتوں کے دوران مندی کے غالب اثرات زائل نہ ہوسکے۔ مئی کے دوران سیاسی عدم استحکام اور معاشی چیلنجز کے اثرات کی وجہ سے سرمایہ کار حصص فروخت کو ترجیح دیتے نظر آئے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق مئی کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں ماہانہ بنیادوں پر 4.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ حصص کی یومیہ اوسط لین دین کا حجم بھی 25 کروڑ 20 لاکھ شیئرز رہا، جو اس سے پچھلے ماہ کی نسبت 11 فیصد کم ہے جبکہ مالیت کے لحاظ سے بھی کاروباری حجم میں 6.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

عارف حبیب گروپ کی رپورٹ کے مطابق مئی کے مہینے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2171 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی جانب سے تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے سے گریز تھا، جس سے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے حوالے سے امکانات معدوم ہوتے نظر آئے، اس کے علاوہ ڈالر بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور 200 روپے تک جاپہنچا۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی 23 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے۔

عارف حبیب گروپ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں پاکستانی روپے کی قدر میں 10 فیصد کمی ہوئی، مسلسل مہنگائی کو روکنے کیلئے مرکزی بینک کو 150 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کرنا پڑا، ان عوامل نے اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کئے جبکہ لانگ مارچ مؤخر کرنے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے حکومتی فیصلے کے مثبت اثرات بھی سامنے آئے۔

مئی کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں غیرمعمولی اُتار چڑھاؤ بھی دیکھنے میں آیا، خاص طور پر عید کے بعد 9 اور 10 مئی کو کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح 23 اور 24 مئی کو بھی انڈیکس میں 1140 سے زائد پوائنٹس کی بڑی کمی ہوئی تھی۔ مئی کے دوران انڈیکس 44 ہزار کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئے 42 ہزار پوائنٹس کے قریب آگیا، مئی کے آخری ہفتے میں 43 ہزار کی نفسیاتی حد تو بحال ہوگئی لیکن 44 ہزار کی نفسیاتی حد بحال نہیں ہوسکی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران تحریک انصاف کا حکومت کیخلاف احتجاج اور اس کے باعث سیاسی کشمکش دیکھنے میں آئی، جس نے اسٹاک مارکیٹ کو متاثر کیا، اس کے علاوہ زرمبادلہ کے گرتے ذخائر اور آئی ایم ایف سے پروگرام بحالی کے حوالے سے غیریقینی صورتحال کی وجہ سے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں اسٹاک مارکیٹ میں 5.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، اس کے بعد مئی میں 4.8 فیصد کی کسی بھی ایک مہینے کی سب سے بڑی مندی ہے۔

Economy

pakistan economy

PSX

KSE100Index

Tabool ads will show in this div