پنجاب حکومت کا بزدار دور میں ہونیوالی کرپشن کی تحقیقات کا فیصلہ

کابینہ بنتے ہی بڑے فیصلے سامنے آنے لگے

پنجاب حکومت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی حکومت میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی حکومت نے جنوبی پنجاب کے منصوبوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

اینٹی کرپشن نے، ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کے منصوبوں کا ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور متعلقہ حکام کيخلاف گھیرا سخت کرنے کیلئے آئندہ چند روز میں سمن جاری کرنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

موجودہ حکومت کی جانب سے سابق حکومت کی مبینہ کرپشن کے منصوبوں پر کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہیں۔

موصول ابتدائی اطلاعات کے مطابق سابق حکومت کے اختیارات سے تجاوز اور مالی بے ضابطگیوں کے شواہد بھی محکمہ انسداد کرپشن کو مل گئے ہیں۔

عثمان بزدار

سابق وزیراعظم عمران خان متعدد بار عثمان بزدار کو بہترین وزیراعلیٰ قرار دیتے ہوئے انہیں وسیم اکرم پلس بھی قرار دیتے رہے ہیں۔

پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازہ خان کی تحصیل تونسہ سے تعلق رکھنے والے عثمان بزدار 2018 میں پہلی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ عثمان بزدار تونسہ اور بلوچستان کے قبائلی علاقے میں آباد بزدار قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔

سردار عثمان بزدار کے والد سردار فتح محمد خان اپنے قبیلے کے سردار تھے، وہ تین مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور انہوں نے ایک اسکول میں استاد کی حیثیت سے بھی کام کیا۔

عثمان بزدار نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے کر کیا اور وہ 2008 تک مسلم لیگ ق کے تحصیل ناظم رہے۔

سال 2008 میں انہوں نے مسلم لیگ ق چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن میں حصہ لیا، تاہم ہو ناکام رہے۔

سال 2018 کے عام انتخابات سے قبل انہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شمولیت اختیار کی، تاہم انتخابات سے قبل خسرو بختیار کی سربراہی میں بننے والا یہ گروپ تحریک انصاف میں ضم ہوگیا۔

South Punjab

corruption case

SARDAR USMAN BUZDAR

Tabool ads will show in this div