چلتی ٹرین میں خاتون سے اجتماعی زیادتی، تینوں ملزم گرفتار

نجی ٹرین کے انچارج اور ٹکٹ چیکرز کے خلاف چلتی ٹرین میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج

** ملتان سے کراچی آنے والی ٹرین میں خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والے تینوٓں ملزم گرفتار کرلئے گئے ہیں۔**

کراچی کے تھانہ سٹی ریلوے پولیس اسٹیشن میں خاتون کی جانب سے رپورٹ درج کرائی گئی تھی جس میں 3 افراد کے خلاف زیادتی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ وہ 26 مئی کو اپنے بچوں سے ملنے مظفر گڑھ گئی تھی اور 27 مئی کو واپسی پر ملتان سے کراچی آنے والے نجی ٹرین میں مظفر گڑھ سے بیٹھی تھی۔

خاتون کا کہنا ہے کہ روہڑی سے حیدر آباد کے درمیان ٹرین کے انچارج اور 2 ٹکٹ چیکروں نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی شکایت پر نجی ٹرین سروس کے 3 ملازمین کے خلاف دفعہ 376 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ متاثرہ خاتون کا جناح اسپتال میں طبی معائنہ کرواليا گیا ہے جس میں زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان ریلوے نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ واقعے میں نامزد تینوں ملزمان زوہیب، زاہد اور عاقب فرار تھے، تاہم تینوں گرفتار کر لیے گئے ہیں، ملزمان کو سمندری، جہانیاں اور شور کوٹ سے گرفتار کیا گیا۔

پاکستان میں خواتین سے زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

گزشتہ برس لاہور میں ویہاڑی سے آنے والی ماں اور بیٹی کو رکشے والے نے اپنے ساتھی کے ہمراہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

اس کے علاوہ 9 ستمبر 2020 کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے اس گھناؤنے جرم میں ملوث مجرموں عابد ملہی اور شفقت کو سزائے موت سنائی تھی۔

RAPE CASE

train rape

bahauddin zikerya express

Tabool ads will show in this div