بلوچستان بلدیاتی انتخابات: غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں کا پلڑا بھاری

ووٹر ٹرن آوٹ 50 فیصد سے زیادہ رہا،الیکشن کمیشن

بلوچستان کے 32 اضلاع میں 9 سال بعد 29 مئی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں کا پلڑا بھاری ہے۔

بلدیاتی الیکشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق 1135 بلدیاتی نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوگئے جبکہ جمعیت علماء اسلام 183 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور بلوچستان عوامی پارٹی 72 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

اب تک کے نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی اور نیشنل پارٹی 26،26 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے جبکہ تحریک انصاف کو 7 نشستیں ملیں۔

غيرسرکاری نتائج تنائج کے مطابق چمن کے ميونسپل کارپوريشن کے 35 وارڈ کے غيرحتمی نتائج کے مطابق 12 نشستوں پر پشتونخوا ميپ ،4 نشستوں پر جمعیت علماء اسلام ،5 پر اے اين پی جبکہ 5 نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوگئے اور دو وارڈز میں نتیجہ برابر رہا۔ مظلوم اولسی تحریک 4نشست لےکرکامیاب ہوئی۔

لورالائی میں ميونسپل کميٹی کے 25ميں سے 24 وارڈ کے غيرحتمی نتائج کے مطابق 17 نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی جبکہ 4 پر آزاد امیدواروں کو سبقت حاصل ہے۔

واشک ميونسپل کميٹی کے 10ميں سے 9وارڈ کے غيرحتمی نتائج کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے 7 جبکہ 2 نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدواروں کو سبقت حاصل ہے۔

غیر حتمی نتائج کے مطابق چاغی کے 8 ميں سے 4 وارڈز ميں بابائے چاغی پینل کے اميدواروں نے کاميابی سميٹی۔

گوادر کی 157 وارڈزمیں اب تک کے 106 وارڈز کے غير حتمی و غير سرکاری نتائج کے مطابق 52 وارڈز ميں حق دو تحريک، 34 میں آزاد اور 14 میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے اميدوار سب سے آگے ہيں۔

زیارت میں غیرسرکاری نتائج کے مطابق میونسپل کمیٹی کے 7 وارڈز میں سے 5 پر جمعیت علماء اسلام کے امیدوار کامیاب ہوگئے۔

ہرنائی میں ميونسپل کميٹی کے 28 نشستوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق 13 نشستوں پر پی کے میپ،3 نشستوں پر تحریک انصاف جبکہ 5 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوگئے۔بی اے پی 2 ، اے این پی 2، این ڈی ایم اور جے یو آئی کو ایک ایک بلدیاتی نشست ملی۔

قلعہ سیف اللہ کے 14 بلدیاتی نشستوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق 10 نشستوں پر پشتونخوامیپ کے امیدوار کامیاب ہوگئے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کو ایک ایک نشست ملی۔

متعدد پولنگ اسٹیشنز پر کشیدگی

سبی، لورالائی، پشین، ڈیرہ مراد جمالی، چمن، تربت سمیت کئی مقامات پر مختلف گروپوں کے دوران تصادم میں 15 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جنہیں ابتدائی طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کیاگیا۔ الیکشن کمشین کے مطابق کشیدہ صورت حال کے باعث پولنگ کا عمل کچھ دیر کیلئے تعطل کا شکار ہوا تھا، تاہم پولنگ دوبارہ شروع کی گئی۔

قلعہ عبداللہ

قلعہ عبداللہ میں کولک یونین کونسل پر لڑائی اور جھگڑے کے دوران ووٹر زخمی ہوگیا، جب کہ نواحی علاقے پدگ میں پولنگ اسٹیشن کے باہر دو گروپوں میں فائرنگ سے زخمی شخص چل بسا۔

قلات

قلات کے علاقے منگچر میں پولنگ کے دوران ڈگری کالج پر شر پسندوں کی جانب سے راکٹ سے حملہ کیا گیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

لیویز ذرائع کے مطابق نامعلوم دہشت گرد دستی گرد میں بھی مردوں کے پولنگ اسٹیشن پر دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے۔ دستی بم دھماکے میں 2 افراد زخمی ہوئے۔

چاغی

چاغی میں بھی بلدیاتی انتخابات کے دوران مختلف نہ رہے۔ یوسی 1 وارڈ نمبر 7 پدگ میں دو گروپوں میں معمولی تکرار کے دوران گولیاں چل گئی۔ واقعہ میں 1 شخص زخمی ہوا، جسے ابتدائی طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

کوہلو

کوہلو میں باریلی پولنگ اسٹیشن پر نامعلوم سمت سے 3 راکٹ فائر کیے گئے۔ گولے پولنگ اسٹیشن کے قریب گر گئے۔ تاہم حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی۔ لیویز حکام کی جانب سے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔

نصیر آباد

نصیرآباد میں میونسپل کمیٹی ڈیرہ مراد جمالی کے وارڈ نمبر 25 میں دوبارہ جھگڑے کے دوران 1 شخص زخمی ہوا۔ میونسپل کمیٹی ڈیرہ مراد جمالی کے وارڈ نمبر 37میں فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہوئے۔ جس کے بعد پولنگ روک دی گئی۔

چمن

چمن میں میونسپل کارپوریشن وارڈ نمبر 24 پر پولنگ کا عمل ختم کردیا گیا۔ خواتین پولنگ اسٹیشن پر 84 ووٹ، جب کہ مردوں کے پولنگ اسٹیشن پر 244 ووٹ ڈالے گئے۔ مد مقابل سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے مشاورت سے پولنگ ختم کرنے کا اعلان کیا، جس سے متعلق الیکشن کمشین کو بھی آگاہ کردیا گیا۔

نوشکی میں دھماکا

نوشکی میں خواتین پولنگ اسٹیشن کے قریب امن دشمنوں کی جانب سے دستی بم حملہ کیا گیا، تاہم دھماکے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں۔ دھماکا نوشکی یونین کونسل مینگل وارڈ نمبر چار کے قریب خواتین پولنگ اسٹیشن کے قریب ہوا۔

بلوچستان انتخابات پر ایک نظر

ای سی پی کے مطابق 32 اضلاع میں 5 ہزار 226 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ۔ 35 لاکھ 52 ہزار 298 ووٹرزکو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا۔

20 لاکھ 6 ہزار 274 مرد اور 15 لاکھ 46 ہزار 124 خواتین ووٹرز ہیں۔ 2 ہزار 54 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس جب کہ ایک ہزار 974 حساس قرار دیئے گئے۔ االیکشن میں 16 ہزار 195 امیدوار مدمقابل ہوئے جب کہ 102 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق بلدیاتی الیکشن میں چمن، کوہلو اور خضدار کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کے مطابق حساس پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے تمام انتظامات مکمل کیے گئے ۔

پولنگ اسٹیشنز پر پولیس، لیویز اور ایف سی کے جوان تعینات کیے گئے۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق 7 میونسپل کارپوریشن، 838 یونین کونسلز، 5345 دیہی اور 914 شہری وارڈز کیلئے امیدوار مدمقابل تھے۔

بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں 1584 وارڈز پر بلامقابلہ کامیابیاں ہوئیں اور 4456 میں مقابلہ ہوا۔

رپورٹس کے مطابق صوبائی بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر 23835 امیدوار مدمقابل ہیں۔

خصدار

بلوچستان میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران خضدار میں 78سالہ بزرگ ووٹ ڈالنے پہنچے۔ 78سالہ بزرگ شخص کریم بخش نے ڈنڈے کے سہارے پولنگ اسٹیشن پہنچ کر ووٹ ڈالا۔

چمن میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام

قبل ازیں ہفتہ 28 مئی کو چمن میں پولیس حکام کے مطابق چمن ریلوے اسٹشن کے سامنے نامعلوم دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھری موٹرسائیکل میں موجود مواد کو ناکارہ بنا دیا۔

دہشت گردی کی منصوبہ بندی بلدیاتی انتخابات سے محض ایک روز قبل کی گئی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق موٹر سائیکل میں 7 کلو گرام دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا، جس میں بال بیئرنگ بھی شامل تھے۔

ٹرن آؤٹ سست روی کا شکار

بلوچستان کے ضلع پشین میں ٹرن آوٹ سست روی کا شکار ہے۔ گرلز کالج پولنگ اسٹیشن میں رجسٹرڈ 11 سو سے زائد ووٹرز میں سے اب تک صرف 175 ووٹ کاسٹ ہوئے۔

ڈپٹی کمشنر

ڈپٹی کمشنر پشین ظفر علی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ضلع پشین میں پولنگ کا عمل بروقت شروع ہوا، ضلع میں قائم پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

ضلع بھر میں ایف سی کی پیٹرولنگ کا عمل جاری ہے، جہاں اب تک کوئی نہیں خوشگوار واقع پیش آیا۔ انتخابات سے قبل علماء کرام کو آن بورڈ لیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری بیان کے مطابق الیکشن کی مہم 27 مئی کی شب کو ختم ہوگئی، جس کے بعد کوئی بھی امیدوار انتخابی مہم نہیں چلا سکتا ہے۔ خلاف ورزی پر الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کا سامان کل 28 مئی کو پہنچا دیا گیا تھا۔

اہم جماعتیں

بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے کوئٹہ میں الیکشن نہ ہونے کے باعث کوئی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی اور تمام سرگرمیاں اندرون بلوچستان چلتی رہیں۔

اس دوران نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل، جمعیت علمائے اسلام اور دوسری جماعتیں زیادہ سرگرم رہیں اور کارنر میٹنگز، ملاقاتیں اور امیدواروں کے حوالے سے کام ہوتا رہا۔

گوادر

گوادر میں اس بار صورت حال مختلف رہی ہے، جہاں مولانا ہدایت الرحمان نے حق دو تحریک شروع کی تھی۔ تحریک نے نہ صرف بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا بلکہ اپنے امیدوار بھی کھڑے کیے۔ تاہم مولانا ہدایت الرحمان خود کسی عہدے کے لیے امیداوار نہیں ہیں۔

اس سے قبل ہم نے دیکھا کہ اکثر جماعتوں، جن میں پشتونخواملی عوامی پارٹی بھی شامل ہیں، نے حلقہ بندیوں پراعتراضات کیے۔ جانب داری اور دھاندلی کا شور اب بھی سنائی دے رہا ہے۔

لورالائی

دوسری جانب لورالائی میں آل پارٹیز کے زیر اہتمام قومی شاہراہ پر احتجاج کیا گیا اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے۔

احتجاج کرنے والی جماعتوں نے ہفتہ 28 مئی کو شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال بھی دی تھی، تاہم رات گئے ڈپٹی کمشینر لورالائی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد انہوں نے مطالبات تسلیم ہونے پر احتجاج کی کال واپس لے لی۔

صوبائی حکومت نے بلدیاتی الیکشن کو چھ ماہ کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، جسے چیف الیکشن کمشنر نے مسترد کردیا تھا۔

صوبائی حکام نے موقف پیش کیا تھا کہ بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کے لیے بلوچستان اسمبلی نے قرار داد بھی پاس کی ہے، کیونکہ آبادی بڑھ گئی ہے اور نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور لسبیلہ میں حلقہ بندیوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات کے باعث 29 مئی کو ہونے والے بلدیاتی الیکشن ملتوی کردیے تھے۔

نوٹ: نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات کے باعث ہائی کورٹ کے احکامات پر کوئٹہ اور لسبیلہ انتخابات نہیں ہو رہے۔

BALOCHISTAN.

BY ELECTIONS.

BYE ELECTIONS

QUETTA.

Tabool ads will show in this div