لیبیا میں خواتین کو غلام بنانے اور اجتماعی زیادتی کے خطرات ہیں، اقوام متحدہ

14 اور 15 برس کی دو لڑکیوں کو کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا

اقوام متحدہ نے لیبیا میں غیر ملکی جنگجوؤں اور نجی ملیشیاز کی جانب سے خواتین کو غلام بنائے جانے اور ان سے اجتماعی زیادتی کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

تیل سے مالا مال شمالی افریقی ملک لیبیا 2011 کے بعد سے شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہے جب نیٹو کی ایما پر معمر القذافی کو اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔

اس وقت ملک میں کوئی ایک حکومت موجود نہیں، ملک کا مشرقی علاقہ ملٹری کمانڈر خلیفہ ہفتر کے زیر کنٹرول ہے اور ٹریپولی میں اقوام متحدہ کی توثیق شدہ حکومت قائم ہے۔

مختلف ممالک اور مسلح ملیشاز ان حکومتوں کی پشت پناہی کررہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس وقت لیبیا میں بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں اور خلیفہ ہفتر کی جانب سے سوڈانی جنگجوؤں کی بھرتی بھی کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کے علاقے میں تزربو اور بنی والد میں خفیہ ٹھکانے موجود ہیں جہاں خواتین کو قید رکھا جاتا ہے اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پرتا ہے، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور نہ ہی علاج معالجے کی کوئی سہولت دی جاتی ہے۔

ان عقوبت خانوں میں قید رہنے والی دو بچیاں جن کی عمریں اس وقت 14 اور 15 برس تھیں کو کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

پینل رپورٹ کے مطابق حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں بھی ایسے حراستی کیمپوں کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان علاقوں میں بھی ایسے کیمپ قائم ہیں جہاں خواتین کو غلاموں کی طرح قید رکھا جاتا ہے اور تشدد کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 17 مئی کو حریف وزیر اعظم فتحی علی عبدالسلام باش آغا کو اس وقت دارالحکومت طرابلس چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، جب متحارب ملیشیا کے درمیان اچانک جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ باش آغا کئی وزرا کے ساتھ اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے طرابلس پہنچے تھے۔

تین ماہ قبل ہی ملک کی مشرقی پارلیمان نے فتحی علی عبد السلام باش آغا کو اپنا نیا وزیر اعظم منتخب کیا تھا۔ یہ پارلیمان طبرق شہر میں واقع ہے۔ پارلیمانی فیصلے کے باوجود موجودہ وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ نے یہ کہہ کر اقتدار چھوڑنے سے انکار کردیا کہ وہ ایسا صرف ایک منتخب حکومت کے لیے کریں گے۔

عبدالحمید الدبیبہ کو دارالحکومت طرابلس میں طاقتور مسلح ملیشیا کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان کی وزارت دفاع نے کہا تھا، ’’سیکورٹی اور شہریوں کی حفاظت پر حملہ کرنے والوں ‘’ کو ‘‘آہنی مکے سے’’ جواب دیا جائے گا۔ اس موقع پر الدبیبہ کو طرابلس کی گلیوں میں عوام سے ملتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

human rights

libya

UNITED NATIONS

Tabool ads will show in this div