پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس بیت گئے

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا کردار اہم ہے

تحریر : عمر راشد

پاکستان آج ایٹمی قوت بننے کی 24 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے دورِ میں پاکستان نے 28 مئی 1998 کو بلوچستان کے علاقے چاغی کے مقام پر بھارت کے پانچ دھماکوں کے جواب میں 6 کامیاب ایٹمی دھماکے کیے جس کے بعد سے اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے منایا جاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی دن ہے جب پاکستان دنیا کے سامنے پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن کرسامنے آیا۔

28 مئی 1998 کی صبح پاکستان کی تمام عسکری تنصیبات کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔ دھماکے کے مقام سے دس کلو میٹر دور آبزرویشن پوسٹ پر دس ارکان پر مشتمل ٹیم پہنچ گئی جس میں اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک، کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے چار سائنس دانوں کے ساتھ پاک افواج کی ٹیم کے ہیڈ جنرل ذوالفقار شامل تھے۔ تین بج کر 16 منٹ پر فائرنگ بٹن دبایا گیا جس کے بعد چھ مراحل میں دھماکوں کا خود کار عمل شروع ہوا۔

دھماکوں کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب میں یہ تاریخی جملے کہے ‘‘گزشتہ دنوں بھارت نے جو ایٹمی تجربات کیے تھے، آج ہم نے ان کا بھی حساب چکا دیا ہے’’ جس کے بعد پورے ملک میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر جشن منانا شروع کردیا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔

پاکستان ایٹم بنانے پر کیوں مجبور ہوا؟

تقسیم ہند کے بعد سے 1998ء تک پاکستان اور بھارت کے مابین تین جنگیں لڑی گئیں لیکن جب اس بات کی تصدیق ہوئی کہ بھارت ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے تو پاکستان نے بھی خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کیلئے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کردیا۔

مئی 1998ء کے دوسرے عشرے میں بھارت نے دو مختلف دنوں میں پانچ ایٹمی دھماکے کیے اور ان دھماکوں کے بعد اس نے ہتک آمیز بیانات کا سلسلہ شروع کردیا اور پاکستان کو دھمکیاں دینے لگا جس پر پاکستان بھی مجبور ہوگیا کہ وہ دشمن کو یہ باور کرادے کہ وہ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔

بھارت کے ایٹمی قوت بننے سے پہلے دونوں ملکوں میں ایک دفاعی توازن قائم تھا جو عدم توازن میں بدل گیا جس کو ختم کرنا انتہائی ناگزیر تھا۔

پاکستان نے جوابی ردعمل میں 28 مئی کو بھارت کے پانچ دھماکوں کے مقابلے میں 6 دھماکے کرکے اس کی تمام غلط فہمیوں کو ختم کردیا۔

عالمی دباؤ اور پابندیاں

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دھماکوں سے چند روز قبل امریکی افواج کے سربراہ جنرل زینی پاکستانی آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے ملنے آئے تھے۔ اس موقع پر ان کا رویہ بڑا ہی نا مناسب تھا، انہوں نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا کہ اگر پاکستان نے نیو کلئیر ٹیسٹ کیا تو اس کے نتائج پاکستان کیلئے بہت بھیانک ہونگے۔ اس موقع پر شدید دباؤ ڈالنے کے بعد انہوں نے اربوں ڈالر امداد کی پیشکش بھی کی۔

امریکا اور یورپ نے پاکستان جیسے ممالک کو ایٹمی صلاحیت میں اضافے سے روکنے اور اپنے ایٹمی پروگرام کو ترقی دینے کے منصوبوں سے باز رکھنے کیلئے این پی ٹی اور سی ٹی بی ٹی پر دستخطوں کی مہم چلائی، اگر پاکستان ان پر دستخط کردیتا تو آئی اے ای اے کے ذریعے پاکستان کے پروگرام کو 1998ء کی سطح پر منجمد کر دیا جاتا مگر اس وقت کی سیاسی وعسکری قیادت نے امریکی دباؤ کا مقابلہ کیا۔

پاکستان کو ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی صورت میں مختلف قسم کی سیکیورٹی ضمانتیں اور مراعات دینے کی پیشکش بھی کی گئی۔

امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارتی تجربات کے فوراً بعد وزیراعظم نواز شریف سے رابطہ کیا۔ صرف تین ہفتوں کے دوران صدر کلنٹن نے پانچ بار وزیراعظم نواز شریف کو ٹیلی فون کیا۔ اس کے علاوہ جاپانی وزیراعظم کا ایک مندوب بھی نواز شریف کے پاس ان کا خط لے کر آیا۔ سب کی ایک ہی درخواست تھی کہ پاکستان بھارت کے تجربات کا جواب مت دے۔

نوازشریف نے تمام دباؤ برداشت کرتے ہوئے ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ میڈیا، عوام، سائنس دانوں اور فوج کے دباؤ کی وجہ سے وہ اس سے پیچھے ہٹ ہی نہیں سکتے تھے۔ جماعت اسلامی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے جلسے جلوس جاری تھے جس کی وجہ حکومت کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں تھا۔

بھٹو اور ڈاکٹرعبدالقدیر خان کا کردار

پاکستان کا ایٹم بنانے والی ٹیم کی قیادت معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم نے کی اور انہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا بانی کہا جاتا ہے۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا تھا کہ انہوں نے ستمبر 1974 ء میں بھٹو کو خط لکھا کہ ان کے پاس مطلوبہ مہارت ہے۔ بھٹو کا جواب بہت حوصلہ افزا تھا، دو ہفتوں بعد انہوں نے مجھے جوابی خط لکھا جس میں مجھے پاکستان واپس آنے کے لیے کہا گیا۔

ان کے مطابق دسمبر 1974 ء میں پاکستان واپسی پر وہ بھٹو سے ملے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے بارے میں منیر احمد خان اور ان کی ٹیم کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور ہالینڈ واپسی سے قبل ان سے انفراسٹرکچر کی تیاری کے لیے کہا۔

دسمبر 1974 ء میں ذوالفقار علی بھٹو ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملے اور ان کی حوصلہ افزائی کی کہ جوہری بم کے حصول کیلئے وہ پاکستان کی جس حد تک مدد کر سکتے ہیں کریں۔ اگلے سال ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سینٹری فیوجز کی “ڈرائنگز” (نقشے یا خاکے ) حاصل کیے اور بنیادی طور پر مغربی سپلائرز کی فہرست تیار کی جو اس کام کے لیے پرزہ جات فراہم کر سکتے تھے۔ 15 دسمبر 1975 ء کو ڈاکٹر خان نیدرلینڈز (ہالینڈ) سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور دو صاحبزادیاں بھی تھیں۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پاکستان کے ایٹمی صلاحیت بننے کا کریڈٹ نہ دینا نااصافی ہوگی۔

بھٹو صاحب نے 28نومبر 1972ءکو کراچی نیوکلر پاور پلانٹ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے 1965ءمیں وزیر خارجہ کی حیثیت سے ایک بیان میں کہا تھا “ہم گھاس کھالیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے”۔

بھارت نے 1973ءمیں اپنی فوجی طاقت استعمال کرکے پاکستان کو دولخت کردیا۔ یہ لمحہ بڑا المناک تھا اور ہم اپنی آزادی اور خودمختاری کے حوالے سے خوف میں مبتلا ہوگئے تو ذوالفقار علی بھٹو نے ادراک کرلیا کہ پاکستان روایتی اسلحہ سے بھارت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

ڈاکٹر ثمر مبارک مند

ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے پاکستان کے میزائل پروگرام میں بھی ایک مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ‘نیس کوم’ نیشنل انجینیرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن کا قیام ہے، جس نے پاکستان ڈیفنس اور میزائل پروگرام کے خدوخال تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ایٹمی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے انھیں ڈاکٹر منیر احمد خان نے فاسٹ نیوٹران فزیکل گروپ کا پہلا ڈائریکٹر مقرر کیا، ڈاکٹر ثمر مبارک نے 1998 کے ایٹمی دھماکے کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور کافی عرصے چاغی میں مقیم رہ کر ٹنل کی کھدائی کی ازخود نگرانی کی۔

وہ چاغی ون دھماکا کرنے والی سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ تھے، جب کہ چاغی ٹو کی سربراہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کی۔

Youm-e-Takbeer

nuclear test

nuclear bomb

Pakistan Latest News

INDIA.

Tabool ads will show in this div