پیٹرول کی قیمت میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، شہبازشریف

ملک میں عوام مہنگائی میں پسی ہوئی ہے

وزیراعظم شہبازشریف نے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں عوام مہنگائی میں پسی ہوئی ہے اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا۔

لاہورکی خصوصی عدالت کے باہروزیراعظم شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں عوام مہنگائی میں پسی ہوئی ہے اورغریب حاندان بچارے رل گئے ہے۔

شہباز شریف نے تسلیم کیا کہ عوام کے پاس ایک وقت کی روٹی اورعلاج کے پیسے نہیں ہیں جب کہ نوکری کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے لیکن اس کے باوجود پیٹرول کی قیمت میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا۔

انھوں نے بتایا کہ صورتحال کےپیش نظر ماہانہ 28ارب روپے پاکستان کے پسے ہوئے لوگوں کے لیے ماہانہ 2 ہزار روپے مختص کیے۔

یوم تکبیر سے متعلق انھوں نے بتایا کہ اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے دنیا کے سربراہان کو کہا تھا کہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے اور 5 ارب ڈالر کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ نوازشریف نےدنیا کے بڑے ممالک کے سربراہان سے تلخ انداز میں بات نہیں تھی اور بڑے اچھے انداز میں بات کی،ایٹمی دھماکے کرتے وقت کسی طرف سے دھمکی نہیں تھی۔

اس سے قبل لاہور کی خصوصی سينٹرل عدالت ميں ايف آئی اے منی لانڈرنگ کيس کی سماعت ہوئی۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نےعدالت کے روبرو پیش ہوکرحاضری مکمل کروائی۔

سلیمان شہباز سمیت 3 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کی رپورٹ عدالت پیش کردی گئی جس میں بتایا گیا کہ سلمان شہبازبیرون ملک مقیم ہیں،2 ملزمان کی وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہوسکی جبکہ ایک ملزم غلام شبروفات پاچکا ہے۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماڈل ٹاؤن 41 ڈی لوکیشن موجود نہیں ہے۔ فاضل جج نے پراسکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ کی رپورٹ متضاد لگ رہی ہے ، آپ کی ایک رپورٹ کہہ رہی ہے کہ لوکیشن موجود نہیں ہے لیکن ایک کہہ رہی ہے کہ وہاں کوئی نہیں رہتا۔

ایف آئی اے پراسکیوٹرنے عدالت کو بتایا کہ سلیمان شہبازماڈل ٹاؤن 41 ڈی میں نہیں ہیں۔ فاضل جج نے ریمارکس دئیے کہ جو ایڈریس پراسکیوٹر نے دیا تھا،ملزم کو وارنٹ گرفتاری وہیں بھیجا گیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ درج کرنے سے پہلے جو ایڈریس میرے پاس موجود تھا،وہ یہی تھا۔

فاضل جج نے اس پر ریمارکس دئیے کہ کل کو ملزم آ کربھی کہہ سکتا ہے کہ میرا ایڈریس صحیح نہیں۔

عدالت نے ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم پراظہارِ برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ سلیمان شہباز کے وارنٹ گرفتاری کا کیا بنا،یہ وارنٹ کیسے بناٸے گٸےہیں،سیلمان شہباز کا نام ہے لیکن اس کی ولدیت درج نہیں، یہ بتاٸیں کہ یہ کون سا سیلمان شہباز ہے جس کے وارنٹ نکلے۔

عدالت نے سلمان شہباز سمیت دیگر کے وارنٹ گرفتاری سے متعلق ایف آئی اے کی رپورٹ مسترد کردی۔فاضل جج نے مزید کہا کہ رپورٹ میں قانونی پوائنٹس کو نظر انداز کیا گیا۔

ایف آئی اے پراسکیوٹر نےاستدعا کی کہ ہم رپورٹ دوبارہ تیار کردیتے ہیں، ہم کومہلت دی جائے۔

شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں پر وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ سیاسی انتقام کی بڑی مثال ہے اور ایف آئی ارکاٹنے میں جلدی کی گئی، جب مقدمے کا چالان جمع کرایا گیا تو اس میں کئی خامیاں تھیں۔

امجد پرویز نے بتایا کہ سرکاری وسائل استعمال کرکے مقدمات بنائے گئے، کوئی شہادت موجود نہیں جس سے ذاتی مفاد کے لیے اختیارات کا استعمال ثابت ہوتا ہو، جس کا اس خاندان کےقریب سے سایہ بھی گزرا ہو،اس کی بھی تحقیقات کی گئیں۔

سماعت کےدوران وزیراعظم شہباز شریف روسٹرم پرآئے اور بتایا کہ آپ کے احترام میں عدالت آیا ہوں۔

شہبازشریف نے کہا کہ پنجاب کی ساڑھے بارہ سال خدمت کی اور1997 سے آج تک ایک ڈھیلا تنخواہ اور پیٹرول تک پاس سے دلواتا ہوں۔

شہبازشریف نے یہ بھی کہا کہ سرکاری خزانے سے سات،آٹھ کروڑ روپے نہیں لیے اور اگر میں اتنی کرپشن کروں تو میں کوئی مجنون ہی ہوں گا۔

انھوں نے بتایا کہ چینی کو بیرون برآمد کرنے کی اجازت دی مگر سبسڈی نہیں دی، میرے خاندان کو 2 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

واضح رہے کہ منی لانڈرنگ کے مقدمے میں عدالت نے شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز سمیت 3 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کی رپورٹ طلب کی تھی۔

عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کوعدالت کے روبرو حاضری کے لیے بھی طلب کیا تھا۔

عدالت نے شہباز شریف کے وکلاء کو ضمانت کی درخواست پر بحث کے لیے طلب کیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے 16 ارب روپے منی لانڈرنگ کا چالان عدالت میں جمع کروادیا گیا ہے۔

Shehbaz Sharif

Tabool ads will show in this div