پیٹرولیم مصنوعات کے بعد بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ

ملک میں بجلی کا شارٹ فال بھی 5 ہزار اٹھارہ میگاواٹ ہوگیا

نيشنل اليکٹرک پاوريگوليٹری اتھارٹی نے کے اليکٹرک صارفين کيلئے مارچ کے فيول ايڈجسٹمنٹ کی مد ميں بجلی 4 روپے 83 پيسے فی يونٹ مہنگی کر دی۔

نيپرا کے مطابق اضافہ مارچ کےفيول ايڈجسٹمنٹ کي مد ميں کيا گيا، کےاليکٹرک نے5روپے 27 پيسے يونٹ اضافے کی درخواست کی تھی۔

فیصلے سے صارفين پر7ارب 86 کروڑروپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ اضافی وصولياں جون کے بلوں ميں کی جائيں گی۔

دوسری جانب قرض پروگرام کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے بجلی کے ٹیرف میں سات روپے فی یونٹ اضافے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حکومت نے بھی آئندہ مالی سال سے بجلی مہنگی کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

آئی ایم ایف نے شعبہ توانائی کے چھبیس سو ارب روپے کے گردشی قرض پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی منافع بخش کمپنیوں کی فوری نجکاری جبکہ خسارے کا شکار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال 5 ہزار اٹھارہ میگاواٹ ہوگیا ہے۔ بجلی کی مجموعی پیداوار 19 ہزار 982 جبکہ طلب 25 ہزار میگاواٹ ہے۔ پن بجلی ذرائع سے 5 ہزار 262 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔

سرکاری تھرمل پلانٹس ایک ہزار 317 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔ نجی شعبے کے بجلی گھروں کی مجموعی پیداوار نو ہزار 963 میگاواٹ ہے۔

ملک کے مختلف علاقوں میں 8 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔لائن لاسز اور بجلی چوری والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہے۔

nepra

KElectric

Tabool ads will show in this div